74

ہارس ٹریڈنگ، سندھ ہاؤس مرکز، 20،20 کروڑ میں ضمیر خریدے جارہے ہیں، الیکشن کمیشن بتائے کیا جمہوریت میں اس کی اجازت ہے، عمران خان

سیدو شریف(ایجنسیاں‘ٹی وی رپورٹ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آنے والے دن پاکستان کی تاریخ کے فیصلہ کن دن ہیں جس میں ملک کی تقدیر کا فیصلہ ہو گا‘27مارچ کو کو قوم گھروں سے نکلے ، اسلام آباد پہنچے اور دنیا کو بتائے کہ ہم سچائی اور حق کے ساتھ ہیں جبکہ چوروں، لٹیروں، ڈاکوؤں‘ منافقوں اور امریکی غلاموں کے خلاف کھڑے ہیں‘ عمران خان امریکی صدر سمیت عالمی حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے‘اسلام آباد کا سندھ ہاؤس ہارس ٹریڈنگ کا مرکز بناہوا ہے ‘ سندھ کے عوام کا پیسا بوریاں بھر کر آیا ہے ‘بیس بیس کروڑ میں لوگوں کے ضمیر خریدے جارہے ہیں‘ الیکشن کمیشن بتائے کہ کیا پیسوں کے بل بوتے پر اراکین اسمبلی کے ضمیر خریدنے کی قانون اجازت دیتا ہے؟دنیا کی کوئی جمہوریت اس کی اجازت دیتی ہے؟۔ تین کے ٹولے کو ڈر ہے کہ اگر عمران خان مزید اقتدار میں رہا تو ان کا مقدر جیل ہو گا لیکن میں ایک گیند سے تین وکٹیں اڑائوں گا‘100گیدڑوں کی قوم جس کا سردار شیر ہو وہ قوم جیت جائےگی اور 100 شیروں کی قوم جس کا لیڈر نواز شریف جیسا ہو وہ نہیں جیتےگی‘جسے یہ یہودی کہتے ہیں اس کے دور میں اسلاموفوبیاکیخلاف اقوام متحدہ میں قرارداد منظور ہوئی ‘پاکستان میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے بعد یہ سب سے بڑا کام ہوا ہے‘اگر یہ لوگ کامیاب ہوگئے تو سب سے پہلا کام نیب کو ختم کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو گراسی گرائونڈ سیدو شریف سوات میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سوات کے عوام بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں بلے کے نشان کے حامل امیدوار کو ووٹ دیں جو پی ٹی آئی کے ورکر آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں، وہ بیٹھ جائیں‘ ہم نے یہ انتخاب جیتنا ہے۔عمران خان کا کہناتھاکہ اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیا کے خلاف قرار داد کی منظوری بڑی کامیابی ہے‘اسلام اور دہشت گردی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں‘ فضل الرحمن بتائیں کہ 30 سال سے وہ مذہب کے نام پر سیاست کر رہے ہیں، کیا انہوں نے کسی مغربی رہنما سے اس پر بات کی؟ وہ مدارس کے بچوں کو عمران خان کے خلاف اسے یہودی ایجنٹ کہہ کر مظاہروں میں لاتے ہیں، جسے’’ یہودی لابی‘‘ قرار دیتے ہیں اس شخص نے وہ کام کر دکھایا جو یہ 30 سال میں نہیں کر سکے۔ گذشتہ 30 سالوں میں جنہوں نے تین، تین باریاں لیں وہ بتائیں کہ کیا انہوں نے کبھی اس معاملہ پر اقوام متحدہ میں بات کی، وہ ایسی بات نہیں کر سکتے تھے کیونکہ غلام لوگوں کا کوئی عقیدہ نہیں ہوتا۔عمران خان نے اگر چوری کے اربوں روپے باہر منتقل کئے ہوتے، اس کی باہر جائیدادیں ہوتیں‘اس کی اولاد باہر بڑے بڑے محلات میں رہ رہی ہوتی تو وہ بھی امریکی صدر کے سامنے پرچیاں لے کر بیٹھا ہوتا۔ وزیراعظم نے سوات کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ملک کی بقاء اور اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے سمجھ جائیں کہ یہ تین بدعنوانوں کا ٹولہ ہے جس کا میں شکار کرکے دکھائوں گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس طرح ماضی میں نواز شریف نے چھانگا مانگا میں ضمیروں کے سودے لگائے‘ سندھ ہائوس میں سکیورٹی گارڈ بھی سندھ سے لائے گئے ہیں۔ان کرپٹ عناصر کو یہ ڈر ہے کہ ان کے خلاف کرپشن کے کیسز تیار ہیں، اگر عمران خان وزیراعظم رہا تو انہوں نے جیل جانا ہے، اسی لئے اس کرپٹ ٹولے نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوتی ہے تو سب سے پہلے نیب کو ختم کریں گے۔انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حکم کی پیروی کریں، جہاں چوری کے پیسے سے ضمیر خریدے جا رہے ہیں تو اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا فرض ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں