52

گیس بحران اور حکومت کی انتظامی استعداد

حکومت نے قدرتی گیس کی قلت کے خدشے پر ملک بھر میں ترقیاتی سکیمیں روکنے کا اعلان کیا ہے ۔گھریلو صارفین کے لئے گیس کی ڈسٹری بیوشن ، نئی پائپ لائن بچھانے کے منصوبے اور دیگر کام آئندہ احکامات تک روک دئے گئے ہیں۔وزیر توانائی کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ موسم سرما میں صنعتی شعبے، کھاد کے کارخانوں اور گھریلو صارفین کو شدید قلت کا سامنا کرنا پر سکتا ہے۔تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ گھریلو صارفین کے لئے نیا سلیب سسٹم ترتیب دیا جا رہا ہے جس میں ہر گھر کے گیس بل میں ماہانہ دو سو سے سولہ سو روپے تک اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان نے گھریلو صارفین کی ضروریات اور صنعتی پیداوار کو گیس کی فراہمی کے ساتھ مشروط رکھ کر انفراسٹرکچر تعمیر کیا ہے ۔توانائی کے متبادل ذرائع پر انحصار نہ ہونے کے برابر ہے۔حالیہ دنوں یورپ میں گیس کی طلب میں اضافہ ہوا ہے،اس سے پاکستان اور دیگر ایشیائی ممالک کے لئے گیس کی درآمد ایک مسئلہ بن چکی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ چونکہ رواں برس ضولائی میں حکومت نے لیکوئڈ گیس کے آٹھ کارگو شپ خریدنے سے انکار کر دیا تھا اس لئے موجودہ بحران پیدا ہوا۔حکومت نے تب سودا مسترد کرنے کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ گیس کے نرخ معمول سے زیادہ طلب کئے جارہے تھے ،اصل بات یہ تھی کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ رہی تھیں لیکن تیل و گیس کی وزارت بر وقت قیمتوں میں اضافے کا ادراک نہ کر سکی۔ گیس سپلائی کرنے والے سرکاری اداروں کے مطابق گیس کی موجودہ کمی سے گھریلو اور برآمدی شعبے کے صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام تر اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔گیس سپلائی سے سی این جی اور غیر برآمدی صنعتی شعبہ اس وقت سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں رواں برس جون میںگیس کی سپلائی مکمل طور پر بند کر دی گئی ،موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی ایک بار پھر خدشات سر اٹھانے لگے ہیں۔ اس کے ساتھ سیمنٹ اور فرٹیلائزز کے شعبوں کو بھی گیس کی سپلائی منقطع کر دی گئی تو معاشی مشکلات میں اضافہ کی توقع بے جا نہ ہو گی کیونکہ اس وقت تعمیرات و زراعت کے شعبے ہی کسی حد تک معیشت کا بھرم رکھے ہوئے ہیں ۔ پاکستان فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری سمیت متعدد تنظیمیں اور کاروباری حلقے گیس کی کمیابی پر تشیش کا اظہار کر رہے ہیں۔اْن کے مطابق گیس کی کمی عام افراد اور صنعتی شعبے کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔جون جولائی کے مہینوں میں رواں برس حکومت نے برآمدی شعبوں کو گیس کی مد میں رعایت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔اس کے مثبت اثرات برآمد ہوئے تاہم کچھ کاروباری حلقوں کا کہنا تھا کہ برآمدی اور غیر برآمدی صنعتی شعبوں میں تخصیص نہیں ہو سکتی کیونکہ ہر شعبہ ایک دوسرے سے جْڑا ہوا ہے۔ اگر ایک برآمدی یونٹ کو غیر برآمدی یونٹ سے خام مال ہی نہیں ملے گا تو وہ کیسے اپنی مصنوعات تیار کرے گا؟گیس زیادہ استعمال ہونے والا ایندھن ہے ۔گیس سپلائی میں خلل پورے صنعتی شعبے کو متاثر کر رہا ہے جس کی وجہ سے برآمدی مصنوعات کے آرڈرز کے مکمل ہونے کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔رواں برس گیس کی فراہمی کے حوالے سے حکومتی اقدامات کو صنعتی و گھریلو صارفین نے ناکافی قرار دیا ہے۔گیس کی فراہمی میں عدم تسلسل سے متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ بحرانگورننس کا ایشو ہے۔ پاور اور انرجی کے شعبوں میں بہترین انتظامی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جو بدقسمتی سے پاکستان کے ان سرکاری اداروں میں نہیں ہے جو پاور اور انرجی سے متعلق معاملات دیکھتے ہیں۔دوسری جانب حکومت کہتی رہی ہے کہ گیس کا بحران اتنا شدید نہیں ہے کہ جس پر اتنا زیادہ شور مچایا جائے۔ حکومتکے مطابق ایل این جی گیس کی پیداوار کا صرف 13 فیصد ہے ۔ گیس میں کمی کے باوجود حکومت بجلی کی طلب کو پورا کر رہی ہے اور گیس کے بحران پر بھی جلد قابو پا لیا جائے گا۔ گیس کی قلت اپنی جگہ ایک مسئلہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ایندھن کی طلب میں اضافہ اور نرخوں کا بڑھنا ہے۔بڑے ملک اپنی ضروریات پورا کرنے کے لئے چونکہ زیادہ رقم خرچ کرنے کی استعداد رکھتے ہیں اس لئے پاکستان جیسے کمزور ممالک کو عالمی منڈی سے بر وقت ایندھن کی دستیابی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔کوویڈ کی وبا کے بعد سے دنیا بھر کی صنعتیں دوبارہ کھل رہی ہیں۔ اس کے باعث اب فیکٹریوں نے اپنی پروڈکشن بڑھائی ہے جس کے باعث دنیا بھر میں گیس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔یورپ کو بھی دیگر دنیا میں گیس کی بڑھتی مانگ کا مسئلہ درپیش ہے۔ حالیہ دہائیوں میں ایشیا اور مشرق وسطیٰ جیسے خطوں میں گیس کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس سے مائع قدرتی گیس کی سپلائی اور مارکیٹ پر اثر پڑا ہے۔ ایل این جی یورپ کی ایک چوتھائی درآمد کا حصہ ہے۔جب ایل این جی کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کی سپلائی کو ایشیا کی طرف موڑ دیا جاتا ہے تاکہ بڑھتی قیمتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔اس کے علاوہ روس چین کو اپنی گیس کی برآمدات بڑھا رہا ہے ۔ جون میں روس نے مشرقی علاقے میں ایک گیس پروسیسنگ پلانٹ کا افتتاح کیا جس کے بارے میں گمان ہے کہ وہ دنیا میں سب سے بڑا گیس پلانٹ ہے۔بجلی اور پٹرول کے بعد گیس کا بحران اگرچہ عالمی صورتحال سے پیدا ہو رہا ہے لیکن بلا شبہ حکومت کی بد انتظامی اور بر وقت فیصلے نہ کرنے سے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔وزیر اعظم کو اپنی حکومت کی استعداد میں پائی جانے والی ان خرابیوں کو دور کرنے پر توجہ دینا ہو گی ورنہ معاشی اور سیاسی نقصان کا حجم بڑھ سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں