42

گھریلو صارفین کیلئے گیس کی قیمتوں میں 43 سے 335 فیصد تک اضافہ

گھریلو صارفین کیلئے گیس کی قیمتوں میں 43 سے 335 فیصد تک اضافہ
اسلام آباد (تمائندہ نیوز) اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین کیلئے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیدی ہے، گھریلو صارفین کیلئے گیس کی قیمتوں میں 43 سے 335 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ تاہم، سیلب کی تعداد سات سے پانچ کر دی گئی ہے۔ موجودہ پانچ سلیبس میں سے حکومت نے دوسرے سلیب کیلئے ایک ایچ ایم تھری صارفین کیلئے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا اور قیمتیں تبدیل نہیں کی گئیں یعنی یہ 300روپے فی ایم ایم بی ٹی یو رہیں گی۔ برآمدی صنعتوں کیلئے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور یہ ساڑھے 6 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 9ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کر دی گئی ہے۔ جنرل انڈسٹری کیلئے ای سی سی نے قیمتیں 100؍ روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرتے ہوئے انہیں 1450 سے 1350روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کر دیا جبکہ کیپٹیو پاور کیلئے بھی قیمتوں میں سو روپے کمی کرتے ہوئے 1650 سے 1550 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کردی۔ ای سی سی میں پیش کردہ سرکاری سمری میں کہا گیا تھا کہ سات سلیبز کے اسٹرکچر کو تبدیل (نظرثانی) کرتے ہوئے انہیں اب پانچ سلیبز کیا جا رہا ہے جس میں آخری دو سلیبز کو ملا دیا جائے گا۔ 0.4 ایچ ایم تھری تک کے سلیب کو 0.5 ایچ ایم تھری کے سلیب کے ساتھ ملا دیا جائے گا جبکہ اس ملا کر بنائے گئے نئے سلیب کیلئے ریٹ کی تجویز 173 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تجویز کی گئی ہے۔ گھریلو کیٹگری کیلئے کم از کم چارجز نہیں ہوں گے۔ 0.5 ایچ ایم تھری تک کیلئے موجودہ قیمت 121 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تھی جو اب بڑھا کر 173 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کر دی گئی ہے لہٰذا قیمتوں میں یہ 43 فیصد اضافہ ہوگا، ایک ایچ ایم تھری کیلئے قیمتیں تبدیل نہیں کی گئیں اور یہ 300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو رہیں گی۔ دو ایچ ایم تھری تک کیلئے موجودہ قیمتیں 553 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہیں جو اب بڑھا کر 696 روپے فی ایم ایم بی ٹی یوکر دی گئی ہیں اس طرح یہ 26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تین ایچ ایم تھری تک کیلئے قیمتیں 737 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تھیں جو اب بڑھا کر 1836 روپے فی ایم ایم بی ٹی یوکر دی گئی ہیں اس طرح یہ 151 فیصد اضافہ ہے۔ چار ایچ ایم تھری تک کیلئے قیمتیں 1107 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تھیں جنہیں اب بڑھا کر 3712 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کر دیا گیا ہے اور یہ 335 فیصد اضافہ ہے۔ چار ایچ ایم تھری سے اضافی سلیب کو ختم کر دیا گیا ہے۔ تندور اور روٹی کیلئے تجویز دی گئی ہے کہ ملایا ہوا سلیب چارج کیا گیا کیونکہ اس کیٹگری کے صارفین موجودہ اسٹرکچر کے آخری سلیب میں آتے ہیں۔ تجویز ہے کہ صرف ایک سلیب ہوگا اور روٹی تندور والوں کیلئے اوسط متعین کردہ قیمت کے مساوی یعنی 928 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگی۔ موجودہ قیمتوں میں 81 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے، اگرچہ کمرشل صارفین کیلئے متبادل ایندھن ایل پی جی کی صورت میں ہے جو مقامی گیس کے مقابلے میں چار گنا زیادہ مہنگی ہے، تاہم، مجوزہ اضافہ ایل پی جی کی قیمتوں کے مقابلے میں بہت کم ہے (یعنی ایل پی جی کی قیمت کا 58؍ فیصد ہیں)۔ جنرل انڈسٹری (ایکسپورٹ اور نان ایکسپورٹ) کی بات کی جائے تو ایکسپورٹ انڈسٹری کو پہلے زیرو ریٹیڈ انڈسٹری کہا جاتا تھا اور پنجاب میں اسے سبسڈی پر یعنی 6.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے نرخ پر آر ایل این جی فراہم کی جا رہی ہے جو بجٹ سبسڈی سے مشروط ہے۔ آئندہ مالی سال کیلئے اس مقصد کیلئے بجٹ میں مختص کردہ سبسڈی چالیس ارب روپے ہے اور فنانس ڈویژن نے مشورہ دیا ہے کہ پنجاب میں ایکسپورٹ انڈسٹری پر نافذ کردہ نرخوں کو بھی ایسے ہی ایڈجسٹ کیا جائے۔ نتیجتاً ان اس انڈسٹری کیلئ قیمتیں 6.5؍ ڈالر سے بڑھ کر 9؍ ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو جائے گی۔ پنجاب میں نان ایکسپورٹ انڈسٹری سے آر ایل این جی کی پوری قیمت لی جاتی ہے۔ ایک اور علیحدہ تجویز کے تحت ترجیحی آرڈر کو ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے تاکہ پنجاب میں ایکسپورٹ اور نان ایکسپورٹ انڈسٹری کو مقامی گیس فراہم کی جا سکے۔ جیسے ہی یہ ممکن ہوگا، پنجاب میں نان ایکسپورٹ انڈسٹری کو گیس کے وہی نرخ لاگو ہوں گے جو اوگرا اعلان کرے گا۔ کیپٹیو پاور اور نان ایکسپورٹ انڈسٹری کے پراسیس کنزیومر کیلئے نرخ 1550 روپےفی آئی این آئی این بی ٹی یو یا پھر 8؍ ڈالر ایم ایم بی ٹی یو ہوں گے۔ کیپٹیو پاور یونٹس اور ایکسپورٹ انڈسٹری کے پراسیس کنزیومر کیلئے قیمتیں 1350 روپے فی ایم این آئی بی ٹی یو یا پھر 7؍ ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوں گی۔ فرٹیلائزر فیڈ کی قیمتوں میں ماضی میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا کیونکہ اس کا اثر کسانوں پر ہوتا ہے۔ اس کیلئے قیمتیں اوسط متعین کردہ قیمتوں کا 50؍ فیصد تجویز کی گئی ہیں جبکہ فیول گیس کے استعمال کی قیمتوں کی تجویز بھی اوسط متعین قیمت سے دوگنا زیادہ یعنی 1857؍ روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تجویز کی گئی ہے۔ پاور کے معاملے میں دیکھیں تو ایسے پلانٹس جو 60؍ فیصد فعالیت کے ساتھ چل رہے ہیں وہ درآمد کردہ گیس پر چل رہے ہیں جبکہ انہیں مقامی گیس انتہائی کم قیمتوں پر فراہم کی جا رہی ہے۔ میرٹ پر ایسے پلانٹس کی فعالیت میں اضافے اور اثرات صارفین تک منتقل ہونے سے بچانے کیلئے موجودہ ٹیرف کو اوسط متعین کردہ قیمت کے مساوی تجویز کیا گیا ہے۔ مقامی گیس کے کم ہوتے ذخائر کے استعمال پر ضابطہ لانے کیلئے سی این جی اور سیمنٹ سیکٹر کو میرٹ آرڈر پر کم سطح پر رکھا گیا ہے، زیادہ تر سی این جی اسٹیشنز آر ایل این جی پر تبدیل ہو چکے ہیں۔ اسی طرح زیادہ تر سیمنٹ انڈسٹری متبادل فیول پر منتقل ہو چکی ہے اور آر ایل این جی پر چل رہی ہیں۔ سی این جی اور سیمنٹ سیکٹر کیلئے قیمتیں 2321؍ روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تجویز کی گئی ہے۔ ان کیلئے یہ اضافہ موجودہ نرخوں کے مقابلے میں بالترتیب 70؍ اور 82 فیصد ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق، ای سی سی کے اجلاس کی صدارت وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں