gol mol biania mufti gulzar ahmed naeemi 242

گول مول بیانیہ ۔مفتی گلزار احمد نعیمی

گول مول بیانیہ ۔

مفتی گلزار احمد نعیمی

آج صبح صبح ہمارے دوستوں نے علمائے اہل تشیع کے کچھ قابل احترام بزرگان کی طرف سےجاری کیا گیاایک بیانہ مجھے بھیجا۔اس بیانہ کے نیچے علامہ علامہ سید ساجد علی نقوی، علامہ شیخ محسن علی نجفی اور علامہ سید ریاض حسین نجفی کے دستخط ہیں ۔یہ تینوں علماء پاکستان کےاہل تشیع کے بڑے اور صفحہ اول کے علماء ہیں۔سوائے دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں کے، تمام مکاتب فکر کےسنجیدہ حلقے انکا احترام کرتے ہیں۔مجھے اہل تشیع کے مقتدر علمائے کرام کی طرف سے ایسے کسی نقطہ نظر کے اظہار کا شدت سے انتظار تھا۔کیونکہ ذاکرین اور کچھ جہلاء نے ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی جو دانستہ کوشش کی ہے اسکا تقاضہ تھا کہ علمائے اہل تشیع اور ذمہ داران کی طرف سے ایک مضبوط بیانیہ آئےجو موجودہ صورت حال میں جلتی ہوئی آگ پر ٹھنڈا پانی انڈیلنے کے مترادف ہو۔ایک ایسا قول فیصل ہو جو سب کی تسلی کردے۔مگر افسوس ہے کہ ایسا بیانہ نہیں آیا۔میں سب سے پہلے اپنے قارئین کی خدمت میں اس بیانہ کا خلاصہ عرض کرونگااور پھر اپنا نقطئہ نظر۔
اس بیانہ میں کہا گیا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ہم نے ہمیشہ اتحادووحدت کے لیے مثبت اقدامات کیے ہیں۔ہماری قانون پسندی اور ذمہ دارانہ طرزعمل ایک سنگ میل کی حثیت رکھتا ہے۔ہم نے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔بعض عناصر فرقہ واریت اور بد امنی پھیلا رہے ہیں۔ہمارے مراجع واضح موقف دے چکے ہیں۔ہماری کاوشوں اور محنتوں سے پاکستان کے مختلف مسالک کے درمیان بھائی چارہ قائم ہےجو بعض عناصر کے لیے ناقابل برداشت ہے۔موجودہ حالات گہری سازش کا پتہ دے رہے ہیں، ہم اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔پرامن فضاقائم رکھنے کے لیےتمام اقدامات بروئے کار لائیں گے۔۔۔۔۔۔
یہ ایک گول مول بیانیہ ہےجو موجودہ حالات میں پیدا ہونے والے شدید ترین مسائل کا حل نہیں پیش کرتا۔مثلا اس میں کہا گیا کہ بعض عناصر فرقہ واریت اور بد امنی پھیلا رہے ہیں۔یہ بہت ہی مبہم اور ناقابل فہم جملہ ہے۔بعض عناصر کون ہیں؟ اہل سنت ہیں یا اہل تشیع؟اس انتہائ سنجیدہ صورت حال میں آپ جیسی معتبرشخصیات کو غیر مبہم بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔آپ کھل کر ارشاد فرماتے کہ ذاکرین اور غالی ملک میں فساد پھیلارہے ہیں۔یہ بات اب کوئی راز نہیں رہی کہ اشاروں اور کنائیوں میں اس کا ذکر کیا جائے۔آپ نے فرمایا کہ مراجع عظام اپنا موقف دے چکے ہیں۔گزارش ہے کہ مراجع تو موقف دے چکے ہیں مگر کیا مراجع عظام کا موقف پاکستان کے اہل تشیع کی اکثریت قبول کرتی ہے۔میری دانست میں مراجع کی ھدایات اور فتاوی کے مطابق عمل نہیں ہورہا۔بہت کم تعداد ہے جو مراجع کے فتاوی پر دل وجان سے ایمان رکھتی ہے۔ورنہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جومراجع عظام کے فتاوی کو زیب داستان کے طور پر اپنی تقریروں میں ذکر کرتے ہیں۔انکی گفتگو میں مراجع کے فتاوی کی جھلک نہیں ہوتی۔۔
کراچی میں بھی کل شھنشاہ نقوی اور مختلف شیعہ تنظیمات کے قائدین نے ایک پریس کانفرنس کی ہے۔ اس میں بھی کم و بیش ایسا ہی موقف بیان کیا گیاجیسے ان شیعہ بزرگان نے دیا۔ان دونوں بیانات میں آصف علوی اور دیگر گستاخوں کا بالکل ذکر نہیں ہے۔عمومی بات کی گئی ہے۔اسی طرح ہمارے دوست جناب راجہ ناصر عباس جعفری سربراہ مجلس وحدت المسلمین کا بھی ایک کلپ سامنے آیا جس میں انہوں نے گستاخانہ خاکوں اور قرآن مجید کی توہین کا تو ذکر کیا اور مظاہرہ کا بھی اعلان کیا مگر پاکستان کے اندر لگی اس آگ پر انہوں اظہار خیال نہیں فرمایا۔ابھی تک جتنے بھی موقف سامنے آئےہیں ان میں اپنی ہزاروں قربانیوں اورمنصوبہ بندی کے تحت مذہبی منافرت پھیلانے کا ذکر ملاہے مگر اس کے حل پر ایک جملہ بھی نہین بیان کیا گیا۔سوال اٹھتا ہے کہ مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصر کی خواہشات کی تکمیل کون کررہا ہے؟کیا وہ غالی ذاکرین نہیں ہیں جوعلی الاعلان خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اور جناب عمر فاروق کی توہین کررہے ہیں۔جو سڑکوں اور چوراہوروں پر لعن کررہے ہیں؟.
میرے نزدیک آصف علوی اور دیگر غالیوں کا ذکر نہ کرنا انکو کلین چٹ دینے کے مترادف ہے۔شاید کچھ لوگ مطمئن ہوں کہ ان غالیوں نےصرف سیدنا ابوبکر صدیق کی ہی توہین کی ہےمگرخصوصا اس غلوی کے جملہ پر غور کریں جب اس نے کہا ” سیدہ اپنا حق مانگنے نہیں گئی تھیں بلکہ کافر کرنے گئی تھیں اس لیے اپنے فضائل کی قرآنی آیات دربار خلافت میں نہیں پڑھیں”معاذاللہ نقل کفر کفر نباشد۔
کسی کو کافر کرنا عمل بد ہے اور یہ کمبخت اس عمل بد کی نسبت سیدہ کی طرف کررہا ہے۔تو پھر کہاں گیا عقیدہ عصمت۔؟؟ اگر جلالی خطاء کی نسبت سیدہ کی طرف کرے(معاذاللہ) تو وہ دائرہ اسلام سے خارج۔لیکن اگر غلوی تکفیر کی نسبت سیدہ کی طرف کرے تو آپ گول مول سا بیان دیں۔یہ انصاف نہیں ہے۔اس ہومیوپیتھک قسم کےموقف نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔یہ بین بین پالیسی بہت سے فتنوں کو جنم دے چکی اوراسکی وجہ سےخدا جانے اور کتنے فتنے منظر عام پر آئیں گے۔ان گستاخیوں کی وجہ سے نہ جانے کتنےنئے دہشت گرد گروہ منظر عام پر آئیں گے اور ملک کے امن کو تہہ و بالا کریں گے۔غالیوں کے حوالے سے اس نرم پالیسی نے کچھ اہل سنت واعظین کو راہ دکھائی ہے کہ وہ دھشت گردوں کے جلسوں میں جاکر کافر کافر کے نعرے لگوا رہے ہیں۔ایک تنہاء شخص کو بہت سے مددگار میسر آگئے ہیں۔
ان حالات میں جو لوگ ملک میں بین المسالک ہم آہنگی پر کام کررہے ہیں انکے بیانیے کو بڑا دھچکا لگا ہے۔میں علمائے شیعہ کے موقف کا شدت سے منتظر تھا۔میں نے 12 تاریخ ٹھنڈا پانی میں ذکر حسین کی ایک محفل میں اور دو اور محافل میں جانا تھا۔مگر میں نے اب فیصلہ کیا ہےمیں ان محافل میں نہیں جاؤں گا۔وٹس اپ گروپس میں میرے حوالہ سے ایک اشتہار آنے کے بعد انتہاء پسندوں نے مجھے ننگی گالیاں دیں برا بھلا کہا، میں اس سب کچھ کوایک بڑے مقصد کے حصول کے لیے برداشت کرتا رہا اور آئندہ بھی برداشت کرتا رہتا بشرطیکہ ان علماء کی طرف سے مضبوط موقف آتا۔میں ایک چھوٹا آدمی ہوں اتحاد امت کی راہ پر اپنے ایمان کے ساتھ گامزن ہوں۔میری آواز ملک میں کوئی اتنی مضبوط آواز نہیں ہے مگر اسے تادم زیست بلند کرتا رہوں گا۔اتحاد امت کا ایجنڈا میرے ایمان کا حصہ ہے کہ یہ میرے رب کا حکم ہے۔میں مایوس نہیں ہوا مگر میرے جذبات بہت مجروح ہوئے ہیں۔میں ان دوستوں سے ملکر جدو جہد کرتا رہوں گا جو اتحاد وحدت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔جماعت اہل حرم اور جامعہ نعیمیہ اسلام آباد کے سٹیج اسی طرح مختلف مکاتب کے جید اور خوشبودار علماء سے سجتے رہیں گے۔ان شاء الله
میں ہمیشہ ایک موقف لیتا ہوں جسے درست سمجھتا ہوں پھر اس پر قائم رہتا ہوں۔کبھی کسی رسہ گیر کی گالم گلوچ یا بھونڈی تنقید مجھے اپنے موقف سے نہیں ہٹا سکی۔میں سمجھتا ہوں اس ملک کی بقا اور سلامی بین المسالک ہم آہنگی میں ہے۔ہم عالمی استعمار اور صیہونیت کا مقابلہ جسد واحد بنے بغیر نہیں کرسکتے۔ہمیں چھوٹے چھوٹے کونوں کھدروں سے نکل کر اسلام کی شاہراہ پر ایک دوسرے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہوگاتب ہی ہم اسلام دشمن قوتوں کے بچھائے ہوئے جالوں کو تار تار کرسکیں گے۔فرد یا مکتب ملت کے بغیر بے معنی ہے۔
علامہ اقبال نے فرمایا تھا۔
فرد را ربط جماعت رحمت است
جوہر او را کمال از ملت است
نوٹ:میرا مقصد کسی کی توہین کرنا ہرگز نہیں ہے۔اگر میرے کسی بھائی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں