mufti gulzar ahmed naeemi articles 17

گستاخانہ خاکے اور احتجاج. مفتی گلزار احمد نعیمی

58 / 100

گستاخانہ خاکے اور احتجاج
گزشتہ کل(2020-11-15) سے تحریک لبیک احتجاج پر ہے۔لیاقت باغ راولپنڈی سے ریلی کا آغاز ہوا جس نے فیض آباد آکے ختم ہونا تھا۔لیکن اب یہ ریلی دھرنہ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔تحریک کے بنیادی مطالبات یہ ہیں کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے اور فرینچ مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔لبیک کی مقررہ تاریخ سے قبل انتظامیہ نے اسے روکنے کی بھرپور کوشش کی، گرفتاریاں ہوئیں اور پکڑ دھکڑ کے باوجود لبیک کے کارکن لیاقت باغ میں پہنچ گئے۔احتجاج کرنے والوں کی بہت ہی مؤثر تعداد جمع ہوگئی جسے فیض آباد تک جانے سے روکنا پولیس کے بس میں نہیں تھا۔اب دودن سے انتظامیہ اور لبیک کے درمیان بہت ہی سخت ٹینشن ہے۔پولیس نے بے شمار آنسو گیس کے شیل پھینکے، واٹر کینن کا بھی استعمال ہوا۔میرا خیال ہے یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔انتظامیہ کو صبر سے کام لینا چاہیے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالنا چاہیے۔یہ مطالبات ایسے نہیں ہیں جو پورے نہ کیے جا سکیں اور پاکستان کو اس سے کوئی بڑا معاشی نقصان بھی نہیں ہے۔
جہاں تک احتجاج کا تعلق ہے، میرا اس بارے میں بالکل دوٹوک اور واضح موقف ہے کہ احتجاج بنتا ہے اور احتجاج ضرور کرنا چاہیے۔لیکن قابل افسوس بات یہ ہے کہ احتجاج صرف پاکستان کررہا ہے۔یہ احتجاج عرب وعجم کے ہر ملک میں ہونا چاہیے۔پوری اسلامی دنیا سراپا احتجاج بن جائے اور ایسا احتجاج کرے کہ مغرب کے ایوانوں میں زلزلہ بپا ہوجائے۔ایسا احتجاج ہوکہ میرے نبی کی توہین کرنے والوں کی زبان بند ہوجائے اور قلم ٹوٹ جائیں۔احتجاج اس لیول کا ہو کہ غیر مسلم اقوام کے ہوش ٹھکانے آجائیں اور انہیں خود بخود سمجھ آجائے کہ پیغمبر کی رسالت اور ناموس ایک نو گو(no go )ایریا ہے۔اس احتجاج کے ذریعے ہم مغربی استعمار کو یہ سمجھانے کے قابل ہوجائیں اور انہیں بتا سکیں کہ ہمیں نہیں پتہ کہ تمہارے آزادی اظہار رائے کا کیا مطلب ہے۔ہمیں اس سے بھی کوئی واسطہ نہیں ہے کہ تمہارے ہاں انبیاء ورسل مقدس ہستیوں اور اولیاء کرام پر نقطہ چینی اور تنقید جائز ہے کہ نہیں۔لیکن ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ تمہارے اس شنیع عمل سے دنیا کے 2 ارب کے قریب مسلمانوں کی شدید دل شکنی ہوتی ہے۔اس لیے ہم آپکو ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ آپ آزادی اظہار رائے کے حق کے دعویدار ہیں یا آپ دنیا کے عظیم لوگوں کی توہین کرنے کا حق مانگ رہے ہیں۔
Do you want the right of freedom of expression or the right to insult.??
یہ احتجاج بہت ضروری ہیں جب تک مغرب کو ہماری بات سمجھ نہیں آجاتی۔مگر انکا پس منظر منفی نہیں ہونا چاہیے۔اگر یہ احتجاج تنظیمیں کریں تو انکو بہت ہی منظم ہونا چاہیے بلکہ میری رائے تو یہ ہے کہ جس طرح خاکے بنانے والوں کی حوصلہ افزائی فرانسسی صدر نے کی ہے اسی طرح یہاں حکومتی سطح پر ایک بہت بڑا اور منظم احتجاج ہونا چاہیے تھا جسکی قیادت صدر پاکستان یا وزیراعظم کرتے۔اس کو قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی کوریج ملتی اور پوری دنیا کو پاکستان کی طرف سے ایک مثبت پیغام جاتا۔کوئی توڑ پھوڑ نہ ہوتی، کوئی ٹینشن نہ پیدا ہوتی۔اس میں تمام پاکستانی بھرپور حصہ لیتےاور دیکھنے والوں کے دل دہل جاتے۔یہ صرف پنڈی اسلام آباد میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں ہونے چاہییں۔ایسا احتجاج ہو جس میں صرف علماء و طلباء نہ ہوں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ہوں۔میرے نزدیک یہ علماء کا کام نہیں ہے۔ یہ ریاست کاکام ہے۔ریاست کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے عوام کے جذبات کی حقیقی طور پر نمائندگی کرے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف علماء کے لیے ہی اپنی سیرت نہیں چھوڑی بلکہ یہ سیرت جتنی علماء کے لیے قابل عمل اور سود مند ہے بالکل اسی طرح ایک حکمران ،سپہ سالار، پروفیسر انجینئر، ڈاکٹر، والد، خاوند دادا اور نانا سب کے لیے اتنی ہی مفید ہے۔آپکی ذات صرف محسن علماء نہیں ہے بلکہ محسن انسانیت ہے۔
ایک بات یاد رکھیں! اگر ریاست اپنے اس مقدس فریضہ کو بھول جائے گی تو ایک خلاء پیدا ہوگا اور خلاء کو پر کرنے کے لیے اللہ تعالی کسی نا کسی کو بھیج دیتا ہے۔اگر ریاست اپنی ذمہ داری نہیں نبھائے گی تو پھر ایسے احتجاج ہوتے رہیں گے جیسے ہورہے ہیں۔پھر کبھی ترکھانوں کا منڈا بازی لے جائے گا یا پھر کبھی کوئی محافظ پولیس والا پھانسی چڑھ جانے کو اپنا مقدس فریضہ سمجھے گا۔ہمارے پالیسی ساز اداروں کو میری ان معروضات پر غور کرنا چاہیے اور ایسی پالیسی مرتب کرنی چاہیے جو ریاست اور اسکی عوام کے تضادات پہ مبنی نہ ہو بلکہ ریاست اور عوام کو ایک ہی سمت سفر کرنے کی رہنمائی فراہم کرے ۔اس دین نے قیامت تک کے آنے والے انسانوں کی رہنمائی کے لیے موجود رہنا ہے۔مجھے یوں لگ رہا ہے کہ اب اسلام عرب کے ریگزاروں سے نکل رہا ہےاور عجم کے لالہ زاروں کو پررونق بنانے والا ہے۔پاکستان دین اسلام کے لیے ایک آئیڈیل جگہ ہے کیونکہ یہ اسی کلمہ کے نام پر حاصل کیا گیا ہے جو اس دین کی بنیاد ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ یہی اسلام کی نمائندگی کرے۔عرب اپنی پرانی جہالت کی طرف تیزی سے سفر کررہے ہیں اور اب انہیں تباہی سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔
اسلام مخالف دنیا یہ تجزیہ کر چکی ہے کہ مسلمانوں کو صرف اسی صورت میں شکست دی جاسکتی یے جب ان کے دلوں سے محبت و عشق رسول مٹا دیا جائے۔وہ جانتے ہیں کہ اگر آج اسلام اپنی اصلی شکل مین موجود ہے تو وہ سنت رسول کی وجہ سے ہے۔اس لیے وہ اسے بالکل ختم کرنا چاہتے ہیں۔یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اگر اسلام سے پیغمبر کی زندگی کو نکال دیا جائے تو قرآن کی حیثیت بھی تورات اور انجیل کی طرح ہوجائے گی۔اسلام مخالف قوتیں شخصیت کی آڑ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو مٹانا چاہتی ہیں۔انکا مقصد انسان کا مذاق اڑانا نہیں ہے بلکہ مذہب کا مذاق اڑانا ہے۔اندریں حالات ہمیں ایک مضبوط حکمت عملی کے ذریعہ سے انہیں جواب دینا ہوگا۔احتجاج کا مروج طریقہ ریاست کی کمزوری پر منتج ہوگا جسکا میں حامی نہیں ہوں۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں