7

گریٹ گیم کا تسلسل. احمد وقاص ریاض

7 / 100

1830میں انگلستان اور روس کے درمیان شروع ہونے والی گریٹ گیم اگرچہ صدی کے آخر میں ختم ہو گئی تھی مگر نئے کرداروں کے ساتھ گریٹ گیم کا تسلسل جاری ہے۔ اس گیم کے تین مرکزی کردار روس، امریکہ اور چین اپنے علاقائی، معاشی، سیاسی اور قومی مفادات کی جنگ براہِ راست لڑنے کے بجائے افغانستان جیسے ممالک میں لڑتے ہیں۔ اپنے اقتدار کے آخری برسوں میں افغانستان کے صدر سردار داؤد خان نے کمیونسٹ روس سے بےاعتنائی برتتے ہوئے مغربی اور اسلامی دنیا سے روابط بڑھانا شروع کیے تو سوویت یونین نے اُسے قتل کروا کر کٹر کمیونسٹ حکومت قائم کروا دی اور ایک سال بعد حالات کنٹرول کرنے کے لئے اپنی فوجیں افغانستان داخل کردیں۔ امریکہ نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور چند برسوں میں معاشی مشکلات کے شکار روس کو پاکستان کی مدد سے شکست سے دوچار کر دیا۔ آج بھی افغانستان میں بڑی عالمی طاقتوں کا کھیل جاری ہے اور ان کی اس آنکھ مچولی میں ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ترپ کے تمام پتے ہمارے ہاتھ میں ہیں۔

افغانستان کے حالات درست کرنے کے لئے امریکہ نے 20سال وہاں جنگ لڑی، اربوں ڈالر صرف کیے اور اُس ملک میں استحکام اور امن لانے کی کوشش کی جہاں کے باشندوں نے بیرونی حملہ آوروں سے زیادہ آپس میں خون ریزی کی۔ روس اپنی شکست کی ذلت کو محسوس کرتے ہوئے موقع کی تلاش میں تھا چنانچہ اس کے زیرِ اثر افغانستان کی ہمسایہ ریاستوں تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان نے امریکی افواج اور افغان حکومت سے دوری قائم رکھی۔ صرف نسلی بنیادوں پر کچھ دھڑوں سے تعلقات استوار کئے۔ ایران امریکی فوجیوں کی افغانستان موجودگی سے خوش نہیں تھا اور طالبان کی درپردہ کچھ مدد بھی کر رہا تھا مگر اب طالبان کے مکمل کنٹرول اور اسلامی امارات کے قیام پر ایران کے کچھ تحفظات نظر آ رہے ہیں۔ ایران کو خدشہ ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت عرب ممالک اور پاکستان سے قریبی تعلقات رکھے گی جس سے اس کے معاشی اور دوسرے مفادات پر زد پڑ سکتی ہے۔ ایران کی حکومت چاہتی ہے کہ نئی حکومت میں تمام قومیتوں بشمول ہزارہ آبادی کو شامل کیا جائے۔ ماضی میں ایران نے لاکھوں افغانیوں کو اپنے ملک میں پناہ دی، انہیں خاردار باڑ کے اندر کیمپوں میں عمدہ انتظامات کے ساتھ رکھا گیا اور جنیوا معاہدے کے فوراً بعد بسوں میں سوار کر کے سرحد پار افغانستان واپس پہنچا دیا۔ ایرانیوں کی دور اندیشی دیکھیے، ان کا خیال تھا کہ ایک ہی رنگ و نسل اور زبان بولنے والے اگر آبادیوں میں آ گئے تو ان کا واپس جانا مشکل ہو جائے گا، اس لئے انہیں شہروں سے دور کیمپوں میں رکھا گیا۔

دنیا کی دوسری بڑی سپرپاور چین کے اپنے مفادات اس خطے سے جڑے ہیں اور اس کی کوشش ہو گی کہ افغانستان کی نئی حکومت کو زیرِ اثر رکھ کر اپنے مقاصد پورے کرے۔ اپنے تجارتی راستوں کو محفوظ اور دنیا کی تجارتی منڈیوں تک رسائی کے لئے بیلٹ اینڈ روڈ اور سی پیک کی طرح کے بڑے منصوبوں کی کامیابی کے لئے چین اپنے ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان، ایران اور افغانستان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کا خواہاں ہوگا، اس کے علاوہ چین کی کوشش ہوگی کہ ان کے ملک میں اسلامی تحریکوں کو طالبان مدد فراہم نہ کریں۔

افغانستان اس وقت نازک حالات سے گزر رہا ہے، عوام خوف اور بے یقینی کا شکار ہیں، حکومتی مشینری غیرفعال ہے، اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عدم تحفظ کا شکار عوام بڑی تعداد میں نقل مکانی کر رہے ہیں خصوصاً خواتین اور سابق سرکاری ملازم نئی حکومت سے خوف زدہ نظر آتے ہیں۔ طالبان نے اب تک مناسب رویے اور اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا ہے مگر ناتجربہ کاری یا غصے میں اکا دکا مارپیٹ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ افغان عبوری حکومت کو چاہئے کہ ملکی معاملات خصوصاً اقتصادی و معاشی سرگرمیاں بحال کرنے کے لئے تجربہ کار ماہرین لے کر آئیں اور دنیا کے لئے قابل قبول حکومت تشکیل دیں تاکہ ان کے اقتدار کو دوام حاصل ہو سکے۔ حکومت پاکستان کو بھی چاہئے کہ نئی افغان حکومت سے ہر ممکن تعاون کریں مگر ان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے پرہیز کریں۔ ہمارے ملک کا جغرافیہ دنیا بھر کے لئے باعثِ کشش ہے ہمیں سب کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہئیں اور اگر کوئی سردمہری کا مظاہرہ کرے تو ہمیں خود دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہئے کہ ملکی مفاد ہر چیز پر مقدم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں