66

گردشی قرضے۔ ایک ٹائم بم. مرزا اختیار بیگ

51 / 100

میں نے اپنے گزشتہ کالموں اور ٹی وی چینلز پر بجٹ تبصروں میں سب سے زیادہ تشویش کا اظہار گردشی قرضوں یا سرکولر ڈیٹ پر کیا تھا جس کی بڑی وجہ آئی پی پیز کو کیپسٹی سرچارج کی ادائیگی ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق کیپسٹی سرچارج 455ارب روپے سالانہ کے حساب سے ادا کیا جانا ہے اور ان میں تقریباً 40فیصد ادائیگیاں حکومتی پاور پلانٹس کو بھی دی جاتی ہیں جس میں اس سال مزید اضافہ متوقع ہے۔حال ہی میں کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی نے تصدیق کی ہے کہ اپریل 2021تک پاکستان میں پاور سیکٹر کے گردشی قرضے 2380ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں جو ایک سنگین صورتحال اختیار کررہے ہیں۔

بجلی کی پیداواری لاگت اورسپلائی سے حاصل کی گئی وصولیوں کے فرق کو گردشی قرضے کہتے ہیں۔ اگر بجلی کے ایک یونٹ کی فرضی پیداواری لاگت 15روپے ہے اور اِسے سپلائی کرکے 12روپے وصول ہورہے ہیں تو 3روپے کا خسارہ گردشی قرضے بنارہا ہے۔ گردشی قرضوں کی وجوہات میں بجلی کی چوری، کرپشن، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں بدانتظامی، فرنس آئل سے مہنگی بجلی پیدا کرنا، ناقص پیداواری صلاحیت کے حامل بجلی گھر، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن کےنقصانات اور واپڈا کے بلوں کی عدم وصولی کے باعث تیل سپلائی کرنے والی کمپنیوں کو عدم ادائیگی سرکولر ڈیٹ میں مسلسل اضافے کا سبب ہے۔ گردشی قرضوں میں اضافے کی ایک اور اہم وجہ آئی پی پیز کا فرنس آئل سے مہنگی تھرمل بجلی پیدا کرنا بھی ہے۔ ملک میں بجلی کی اوسطاً لاگت کم رکھنے کیلئے ہمیں آئی پی پیز سے مہنگی بجلی مجموعی طلب کا 30فیصد یعنی 6000میگاواٹ سے زیادہ نہیں لینا چاہئے۔ 2012میں آئی پی پیز کی بجلی کی پیداوار ملک کی مجموعی بجلی پیداوار کا 40فیصد یعنی 8000میگاواٹ سے تجاوز کر گئی تھی جس سے پاکستان میں اوسط بجلی لاگت میں اضافہ ہوا۔ بجلی کی اوسط لاگت کم کرنے، سستی اور صاف بجلی پیدا کرنے کیلئے ہمیں زیادہ سے زیادہ پانی سے بجلی پیدا کرنے کے پروجیکٹس کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہوگا۔

حکومت نے آئی پی پیز سے جو معاہدے کئے ہوئے ہیں، اُن کی رو سے ہمیں ان کمپنیوں سے ان کی بجلی پیداوار کا 60فیصد لازمی خریدنا ہوتا ہے اور بجلی کی مطلوبہ طلب نہ ہونے پر بجلی نہ خریدنے پر بھی حکومت کو 60فیصد کیپسٹی سرچارج ان کمپنیوں کو ادا کرنا پڑتا ہے جس سے گردشی قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے جن کی ادائیگی کیلئے آئی ایم ایف نے بجٹ میں 10فیصد گردشی قرضے سرچارج لگانے کی تجویز دی ہے جبکہ حالیہ بجٹ میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے کیپسٹی سرچارج کی ناقابل برداشت ادائیگی کو آنے والے 6سے 7برسوں میں صنعتی گروتھ سے بجلی کی طلب میں اضافے سے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن میرے نزدیک 6سے 7سال تک گردشی قرضوں کو زندہ رکھنا نہایت خطرناک ہے جو ملکی معیشت کو دیوالیہ کر سکتے ہیں۔ حکومت کو ہنگامی بنیاد پر ان بڑھتے ہوئے گردشی قرضوں کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ ان اصلاحات میں واپڈا کے بجلی کے بلوں کی وصولی جو 2020میں 88فیصد تھی، کو بڑھا کر 100فیصد تک لے جانا ہوگا جس سے 160ارب روپے کے گردشی قرضے کم ہو سکتے ہیں۔ بجلی کی چوری کو روکنے کیلئے اسمارٹ میٹر لگائے جائیں۔ 2014سے 2017تک گردشی قرضوں کو کافی حد تک کنٹرول کیا گیا تھا لیکن گزشتہ 3برسوں میں گردشی قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

2006تک ہمارے گردشی قرضے حد میں تھے لیکن جب آئی پی پیز کی مہنگی بجلی کی پیداوار ملک کی بجلی کی طلب سے 30فیصد سے زیادہ ہو گئی تو گردشی قرضوں میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ بجلی کے نرخوں کو نہ بڑھانے کے عوض حکومت نے 2008سے 2013تک واپڈا کو 1.4کھرب روپے کی سبسڈی دی۔ گزشتہ 3برسوں میں گردشی قرضوں میں 2000ارب روپے کا اضافہ پاور سیکٹر کے شعبے میں حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ 2002میں اصل پاور پالیسی کو تبدیل کرکے آئی پی پیز کو مزید اضافی مراعات دی گئیں لیکن موجودہ حکومت پرانے آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی کرکے نئے معاہدے کرنا چاہتی ہے جس سے گردشی قرضوں میں کمی آئے گی۔ اس سلسلے میں وزارت خزانہ، بجلی اور اکنامک افیئرز کے وفاقی سیکریٹریز، گورنر اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے چیئرمین نے ورلڈ بینک کو توانائی کے شعبے کو فعال کرنے کیلئے پریذنٹیشن دی ہے جس میں 3500میگاواٹ کے پرانے مہنگی بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس کو 18مہینوں میں مکمل بند کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

میرے نزدیک ملکی معیشت کو درپیش بڑے چیلنجز میں بڑھتے ہوئے گردشی اور ملکی قرضے ہیں۔گردشی قرضوں کے ساتھ ساتھ ملکی قرضوں میں اضافہ بھی باعث تشویش ہے جن کی صرف سود کی ادائیگی 3000ارب روپے سالانہ سے بڑھ گئی ہے جبکہ ہمیں اس سال ایف بی آر کے مجموعی ریونیو بمشکل 4900ارب روپے حاصل ہوئے ہیں۔ جون 2018تک گردشی قرضے 1148ارب روپے تھے جو صرف 31مہینوں میں دگنا ہوکر اپریل 2021میں 2380ارب روپے تک پہنچ گئے۔ گردشی قرضوں کی یہ خطرناک صورتحال میرے آج کا کالم کا سبب بنی ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے ورلڈ بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر ایگزل وان کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ کی جس میں سب سے اہم ایشو گردشی قرضہ تھا جو ناسور کی شکل اختیار کرچکا ہے اور ہر دن اس میں اضافہ اسے مزید خطرناک بنارہا ہے لہٰذا اس کی فوری سرجری کی ضرورت ہے نہیں تو گردشی قرضوں کا یہ ٹائم بم معیشت کے دوسرے شعبوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں