پینگولین 207

کیا کورونا وائرس پینگولین سے پھیلا؟

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ممالیہ جانور پینگولین میں ایسے وائرس پائے گئے ہیں جو دنیا میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مستقبل میں کسی بھی وبا سے بچنے کے لیے سائنسدانوں نے جنگلی حیات کی مارکیٹوں میں جانوروں کی فروخت پر فوری پابندی کی تجویز دی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پینگولین دنیا بھر میں سب سے زیادہ اسمگل ہونے والا جانور ہے جس کا استعمال کھانے اور روایتی دواؤں میں بھی کیا جاتا ہے۔
جرنل نیچر میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں محققین کا کہنا ہےکہ پینگولین کو رکھنے کے لیے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

محققین نے مزید کہا کہ جنگلی پینگولین کی دیکھ بھال میں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مستقبل میں اس کے وائرس کے انسان میں منتقلی کے کیا خطرات ہیں۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی سے وابستہ تحقیق کے بانی ڈاکٹر ٹومی لیم کا کہنا ہےکہ ملائیشیا سے چین میں اسمگل ہونے والے پینگولین میں کورونا وائرس سے منسلک دو گروپ کے وائرس پائے گئے ہیں تاہم سارس کوو 2 کی وبا میں اس وائرس کے ثانوی کردار کی تصدیق ابھی باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں جانوروں سے انسانوں میں وبا کی منتقلی سے بچنے کے لیے اس جنگلی حیات کی بازاروں میں فروخت کو فوری اور سختی سے روکنا چاہیے۔

ڈاکٹر لیم کا کہنا تھا کہ ملائیشیا سے اسمگل شدہ پینگولین میں وائرس کی تلاش نے اس سوال کو بھی جنم دیا ہےکہ ان میں یہ وائرس کہاں سے منتقل ہوا۔

واضح رہےکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی تاحال اصل وجہ سامنے نہیں آسکی ہے جب کہ بعض سائنسدانوں نے امکان ظاہر کیا ہےکہ چمگادڑ اور پینگولین وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ ہیں لیکن اس پر اب تک حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں