Asif Mahmood 94

کیا آپ سیمیناروں میں جاتے ہیں؟آصف محمود

کیا آپ سیمیناروں میں جاتے ہیں؟آصف محمود
نوے کی دہائی میں گائوں سے اسلام آباد آیا تو سیمینار وں اور کانفرنسوں میں شرکت میں لطف آتا تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ آتی گئی اور اب یہ عالم ہے کہ کوئی کانفرنس یا سیمینار کا نام لے تو ڈر کے مارے بھاگ کر مارگلہ میں پناہ لینے کو دل کرتا ہے۔سینکڑوں سیمینارز میں بطور سامع اور مقرر شرکت کے بعد جو نتائج فکر مرتب کیے ہیں وہ آپ کی خدمت میں رکھ دیتا ہوں۔ پہلی بات تو یہ پلے باندھ لیں کہ یہ جو بھاری بھرکم موضوعات کے ساتھ کانفرنسیں اور سیمینار ہوتے ہیں انہیں بالکل سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں ۔ خود منتظمین کی ’’ باہمی دلچسپی‘‘ کے عنوانات الگ ہوتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ اکثر یہ غیر ملکی اداروں کے پیسوں پر چلنے و الے پراجیکٹ ہوتے ہیں جن میں یہ طے ہوتا ہے کہ اتنے ماہ میں اتنے سیمینار بھی کروانے ہیں۔ چنانچہ اپنے مالی مفادات کے تعاقب میں منتظمین کارروائی ڈال رہے ہوتے ہیں اور موضوع اور گفتگو سے زیادہ ان کی دلچسپی اس میں ہوتی ہے کہ بس کارروائی ڈل جائے اور ریکارڈ کا حصہ بن جائے۔ سمجھنے کی دوسری بات یہ ہے کہ یہ فکری مشق نہیں ہوتی ، یہ منتظمین کی روزی روٹی کا معاملہ ہوتا ہے اور شرکاء حضرات اس میں بیگار کی مشقت کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ منتظمین کے حصے میں کامیاب پراجیکٹ کے ڈالر آتے ہیں لیکن مشقتی حضرات مفت میں علم وفضل کے دریا بہاتے رہتے ہیں اور سرخرو ہوتے رہتے ہیں۔ ان کانفرنسز اور سیمینارز میں کالم نگار حضرات کو ان کے علم و فضل کی وجہ سے مدعونہیں کیا جاتا بلکہ اس کے پیچھے یہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ جا کر ایک عدد کالم لکھ دیں گے ۔ کالم پھر فائل میں سجا کر ڈونرز کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے کہ دیکھیے ہم نے آپ کے ڈالرز برباد نہیں کیے بلکہ ہماری کانفرنسوں اور سیمیناروں نے پاکستان کے فکری بیانیے کو متاثر کیا ہے اور ہماری ان کا وشوں کی وجہ سے یہ چیز اب ہمارے ہاں صحافتی اور علمی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ اس پر لکھا جا رہا ہے اور بات کی جا رہی ہے۔یہ ہمارا ’’سوشل امپیکٹ‘‘ ہے۔ مشاہدے کی چوتھی بات یہ ہے کہ ان سیمینارز اور کانفرنسوں کے اکثر شرکا پیشہ ور ہوتے ہیں اور یہ انجمن مفادات باہمی کے اصول پر کام کرتے ہیں۔ یہ وہی ڈیڑھ دو درجن خواتین و حضرات ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے سیمینارز کو اپنی تشریف آوری سے چار چاند لگا دیتے ہیں۔ پانچویں بات یہ ہے کہ ان پروگراموں کے منتظمین نہ موضوع کے انتخاب میں آزاد ہوتے ہیں ، نہ ہی گفتگو کے نتائج مرتب کرنے میں۔ یہ پوری نشست ایک ایجنڈے کے تحت ہوتی ہے۔ موضوع کا تعین بھی ڈوونرز کرتے ہیں اور نتائج فکر کا تعین بھی وہیں سے ہو تا ہے۔درمیان کی جو چاند ماری ہے اس میں منتظمین ، شرکائے کرام کی لایعنی گفتگو سنتے رہتے ہیں ۔ اعصاب ان کے بھی چٹخ رہے ہوتے ہیں لیکن یہ سوچ کر خاموش رہتے ہیں کہ کیا کریں، گندا ہے پر دھندا ہے۔ چھٹا پہلو یہ ہے کہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ مقررین موضوع کی مناسبت سے گفتگو کریں۔موضوع کچھ بھی ہو مقررین کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔ انہوںنے اپنا اپنا دو کا پہاڑا سناتا ہوتا ہے اور انہیںایشوریا رائے کی فلموں سے لے کر جیکب آباد کی گرمی تک جو جو بات یاد ہوتی ہے سنانے لگتے ہیں۔یوں لگتا ہے یہ جنم جنم کے گونگے ہیں اور ابھی انہیں قوت گویائی ملی ہے۔اس لیے یہ زندگی کے پچھلے پندرہ بیس سال کی تقریر بھی آج ہی کر کے اٹھیں گے۔ ساتواں نکتہ یہ ہے کہ ا ن تقاریب کے میزبان اور مہمان دونوں ہی عزت نفس سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ ہر دو کی میانہ روی ہے۔میزبان یہ کرتے ہیں کہ دو گھنٹے کی تقریب میں چالیس شرکامدعو کر لیتے ہیں اور پھر ہر ایک دعوت خطاب دینے سے قبل مقرر کو گدگداتے ہیں کہ د یکھیے ہمارے پاس وقت کم ہے اور مقرر بہت ہیں اس لیے بات مختصر کریں( ہمارا مقصد کارروائی ڈالنا تھا اور وہ ڈل چکی ا ور تصاویر کی صورت اس کا ثبوت مرتب ہو چکا)۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ آنے والے نے کیا آپ کی خدمت میں ڈھولوں والوں کے ہاتھ سی وی بھجوایا تھا کہ مجھے اس عظیم الشان تقریب میںخطاب کا موقع فراہم کیا جائے۔آنے والا اگر وقت اور توانائی برباد کر کے یہاں پہنچا ہے تو آداب میزبانی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔لیکن ان تقاریب میں مسلسل مہمانوں کی عزت افزائی ہوتی ہے کہ بس زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں ، ہم نے پورا محلہ اکٹھا کر رکھا ہے ، سب کو بولنے کی سعادت اور ثواب دارین حاصل کرنے دیجیے۔ آٹھواں پہلویہ ہے کہ عزت نفس کے باب میں مہمانوں کے ہاں میزبان سے دگنی بے نیازی پائی جاتی ہے۔وہ اس تنبیہ کے باوجود جب مائک پکڑتے ہیں تو اسے چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے۔ میزبان پریشان ہو کر پہلو بدلتا ہے ، پھر میاں مٹھو کی طرح ادھر ادھر دیکھتا ہے ، پھر پرچی لکھ کر مقرر کے سامنے رکھ دیتا ہے کہ اللہ کا واسطہ اب بس کر دو ، قوم کی بہت رہنمائی ہو چکی لیکن وہ اس پرچی کو شان بے نیازی سے دیکھ کر خطبہ جاری رکھتے ہیں۔ آخری مرحلہ تو کمال کا ہوتا ہے۔ اچانک ایک اعلامیہ سامنے آجاتا ہے کہ یہ آج ہم نے شرکاء کی گفتگو کی بنیاد پر تیار کیا ہے۔ آدمی حیرت زدہ ہو جاتا ہے کہ ابھی تو آخری مقرر کی گفتگو ختم ہوئی ہے ، یہ اعلامیہ دو سیکنڈ میں کیسے تیار ہو گیا۔لیکن اس کا حل میزبانوں کے پاس موجود ہوتا ہے۔ وہ تھکے ہارے شرکا کو نوید سناتے ہیں کہ کھانا تیار ہے ، بس یہ اس اعلامیے کی تائید کر دیجیے اور کوئی تجاویز ہیں تو پیش کر دیجیے۔بھوک کے ہاتھوں ستائے شرکا تجاویز کی بجائے فوری طور پر اس اعلامیے کی تائید کر دیتے ہیں ۔یوں یہ علمی مجلس اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔ سوال اب یہ ہے کہ آپ کو کہیں سیمینار میں شرکت کی دعوت ملے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ میری مانیں تو الامان پکارتے ہوئے وہاں سے بھاگیں اور مارگلہ کے جنگل میں جا کر گم ہو جائیں جہاں فون کے سگنل بھی نہیں ہوتے اوربرسات نے رنگ جمارکھا ہے۔ پیشہ ور مقررین کی ’فکری‘ گفتگو سننے سے بہتر ہے پرندوںسے گفتگو کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں