88

کورونا کے باوجود حج کی اجازت

54 / 100

کورونا وائرس کی عالمگیر وبا اس سال زیادہ شدید ہے تاہم ویکسینیشن سمیت جملہ حفاظتی انتظامات پر گرفت مضبوط تر ہونے کے باعث سعودی حکومت نے دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والے عازمین کو حج کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انتظامات کو حتمی شکل دینے کے بعد اس فیصلے کا اعلان کسی بھی وقت متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سال مکمل طور پر صحت مند افراد ہی حج کی سعادت حاصل کر سکیں گے۔ یاد رہےکہ2019ءمیں 25لاکھ اہالیانِ اسلام نے فریضہ حج ادا کیا تھا جبکہ 2020ءمیں کورونا وبا کے باعث مکہ مکرمہ میں مقیم صرف ایک ہزار افراد مناسک حج ادا کر سکے۔ اس موقع پروائرس سے بچنے کیلئے چہروں پر ماسک لازمی پہننے اور سماجی فاصلوں کا خیال رکھا گیا تھا نیز نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے عازمین کی کلائیوں پر ڈیوائس لگائی گئی تھی۔ کم ترین تعداد کے لحاظ سے تاریخ کا یہ منفرد حج تھا۔ گزشتہ برس حکومت پاکستان کی جاری کردہ پالیسی کے تحت عازمین حج کیلئے 2019ءکے مقابلے میں تقریباً ساڑھے سات فیصد زیادہ اخراجات کا تعین کیا گیا تھا جس کی بڑی وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں نمایاں کمی، ہوائی سفر اور سعودی عرب میں قیام کیلئے رہائشی عمارتوں کے کرایوں میں اضافہ بتائی گئی تھی ملک کے شمالی ریجن کیلئے چار لاکھ 90ہزار اور جنوبی حصے سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے چار لاکھ 80ہزار روپے حج اخراجات رکھے گئے تھے۔ سرکاری اسکیم کے تحت 60اور نجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے 40فیصد کوٹہ مقرر تھا۔ لیکن کورونا وبا کے باعث سعودی حکام کو یہ حج مقامی سطح تک محدود کرنا پڑا اب نئی پالیسی کودیکھتے ہوئے حکومت پاکستان مطلوبہ تعداد سمیت اپنی تمام تر ترجیحات کا تعین کرے گی اس ضمن میں کوشش کی جانی چاہئے کہ حج اخراجات کم وسائل رکھنے والے افراد کی استطاعت سے باہر نہ ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں