174

کورونا کیخلاف دنیا ہماری حکمت عملی کی معترف ہے، عمران خان۔پاکستان میں کورونا دوسرے ممالک کی طرح مہلک نہیں، اسد عمر

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پسماندہ ممالک میں لاک ڈائون تباہ کن ثابت ہوا، کورونا کیخلاف ہماری حکمت عملی کا اعتراف دنیا کر رہی ہے، ہمارے ملک پر خدا کا خا ص کرم ہے ،احتیاطی تدابیر ہمیں بڑی مصیبت سے بچا سکتی ہیں ،معیشت کا پہیہ چلانا ضروری ہے۔

ٹائیگر فورس ایس او پیز پر عمل کرائے۔ جبکہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا اتنی مہلک نہیں جتنا یورپ اور دیگر ممالک میں رہی، مہینوں اور سالوں کیلئے قوموں کو بند نہیں کیا جاسکتا، وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے طاقتور ہتھیار حفاظتی تدابیر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ احساس پروگرام پر ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور احساس کی ساری ٹیم داد کی مستحق ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک پر خدا کا کرم رہا ہے، انہوں نے پوری قوم، کمانڈ اینڈ کنٹرول ٹیم اور طبی عملہ کی خدمات کو بھی سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا ملک اس مقام پر ہے جہاں اب بھی احتیاطی تدابیر پر مکمل عملدرآمد ہمیں بڑی مصیبت سے بچا سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیابھر میں لاک ڈائون سے سب سے زیادہ متاثر غریب طبقہ ہوا ہےاور سفیدپوش طبقہ بھی غربت کی چکی میں پس کر رہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس او پیز کے ساتھ کاروبار کھولے جا رہے ہیں۔ کورونا فورس کے رضاکاران ان ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر منصوبہ بندی و مراعات اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ گزشتہ 100 روز میں 1900 افراد کا انتقال کرجانا تکلیف دہ بات ہے،پاکستان میں کورونا یورپ اور دیگر ممالک جتنا مہلک نہیں، مہینوں سالوں کیلئے قوم کو بند نہیں کیا جاسکتا، عوام انتظامیہ کو کارروائی پر مجبور نہ کریں۔

اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی میڈیا بریفنگ میں اسد عمر نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ ہم ایک ایسے خطے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں یہ وبا دنیا کے دیگر ممالک کے برعکس اتنی مہلک ثابت نہیں ہوئی لیکن اس بات سے بھی نظر نہیں چرائی جاسکتی کہ ہر انسانی جان اہم ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے کاندھوں پر 21 کروڑ پاکسانی ہیں ،ہمارے فیصلوں سے کسی ایک شخص کی جان جانا بھی ناقابل معافی ہے۔

انہوں نےکہا کہ ہماری حکمت عملی تھی کہ جہاں زیادہ کیس ہوں وہاں لاک ڈاؤن کیا جائے، ہماری یہ حکمت عملی پہلے دن سے ہے اور چلتی رہے گی۔ کامیاب طریقہ یہی ہے کہ اپنی طرز عمل میں تبدیلی لائیں اور حفاظتی تدابیراپنائیں جبکہ احتیاطی تدابیر نہ اپنانے والے اپنی اور دوسروں کی زندگی اور کاروبار خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کورونا سے متعلق ٹیسٹنگ کے نظام کو بہتر کرنے کیلئے کام کیا گیا، آج 100 سے زائد لیبارٹریز ٹیسٹ کررہی ہیں اور 2200 سے زائد یومیہ ٹیسٹ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں وینٹی لیٹرز کم تھے، انکی تعداد بڑھانے پر کام کیا گیا اور اِس وقت ملک میں ویٹنی لیٹرز کی تعداد میں دو گنا اضافہ ہوچکا ہے جبکہ ضرورت کے مطابق ویٹی لیٹرز کی تعداد میں اضافہ کریں گے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں 15 کروڑ لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے سخت تکالیف سے گزرے ہیں، احساس کیش پروگرام ایک کروڑ سے زائد خاندانوں تک پہنچ چکا ہے جبکہ چھوٹا کاروبار اسکیم سے 35 لاکھ تاجروں کو ریلیف دیا گیا اور عالمی اداروں نے بھی پاکستان میں ریلیف کی کوششوں کوسراہا۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی آج بھی کورونا کے پھیلاؤ میں کمی اولین ترجیح ہے، پاکستانی قوم نے کئی ہفتوں تک بہترین ڈسپلن کا مظاہرہ کیا لیکن عید سے پہلے شاپنگ اور پھر عید پر ڈسپلن نہیں دیکھا گیا ، یہ ہم سب کی مجموعی ذمہ داری ہے اور ہم سب نے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں