150

کورونا وائرس اور نئی قیادت کے امکانات! نفیس صدیقی

تاریخ انسانی میں جب کوئی بڑا بحران پیدا ہوا ہے، تب ہی اکثر بڑے لوگ پیدا ہوئے ہیں، جو دنیا کی قیادت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ بڑے لوگ اپنی قوموں، ملکوں، خطوں یا دنیا کو نہ صرف بحران سے نکالتے ہیں بلکہ بحران کے مایوس کن اثرات سے نجات دلا کر جینے کی نئی امید دیتے ہیں۔ بحران میں غیر حقیقی اور جعلی قیادت آزمائش میں پرکھی جاتی ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بحران گزر جاتا ہے لیکن کوئی بڑی اور حقیقی قیادت پیدا نہیں ہو سکتی اور بحران کے اثرات تاریخ کے طویل عرصے تک قائم رہتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا نے عالمی سطح پر بہت بڑا بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس بحران نے پوری دنیا میں سیاسی قیادتوں اور حکمرانوں کو آزمائش سے دوچار کر دیا ہے۔ کئی قائدین اس بحران سے نمٹنے میں شاید کامیاب نہ ہو سکیں جبکہ کچھ قائدین اپنی صلاحیتوں کو منوالیں گے اور وہ بحران کے بعد کی دنیا کے لیڈر بھی ہوں گے۔ یہ بحران نئی قیادت کو جنم دینے کا موقع بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ویسے تاریخ میں ہر بحران نئے مواقع کا سرچشمہ ہوتا ہے۔

پہلی جنگ عظیم کی تباہ کاریوں سے دنیا ابھی نکل ہی نہیں پائی تھی کہ اسپینش فلو نے قیامت ڈھا دی۔ اس کے بعد تباہ کن اثرات سے ابھی دنیا سنبھل ہی رہی تھی کہ دوسری جنگ عظیم کی آگ نے کرۂ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پھر تاریخ نے دیکھا کہ اتنے عظیم بحرانوں سے ہر ملک اور ہر خطے میں عظیم قیادتوں نے جنم لیا۔ تاریخ کے افق پر بڑے لوگوں کی کہکشاں نمودار ہوئی جن میں قائداعظم، گاندھی، ماو زے تنگ، لینن اور چرچل شامل تھے۔ اس کے بعد دوسے ڈھائی عشروں کے اس مختصر تاریخی وقفے میں جتنے انقلاب رونما ہوئے، زمین پر اتنے انقلاب اور اتنی تحریکیں روئے زمین پر کبھی نہیں دیکھیں۔ عظیم رہنماؤں کی اس کہکشاں کا ایک تابناک ستارہ پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو نے قیادت کے خلاکو پُر کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو ایسے حالات میں جنم لینے والے عظیم رہنما تھے، جو عالمی سطح پر عظیم رہنماؤں کیلئےسازگار تھے۔ محترمہ بینظیر بھٹو ایک ایسے ابتلا کے عہد کی لیڈر تھیں، جس میں مقبول، عوام دوست اور حقیقی قائدین کے حالات انتہائی ناسازگار تھے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان میں سیاسی قیادت کا جو خلا پیدا ہوا، وہ آج تک پُر نہیں ہو سکا ہے اور اب ایک عالمی بحران پاکستان پر بھی بہت گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے

1986 ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس میں مرحوم اسلم اظہر کے ’’ گلیلیو ‘‘ پر تحریر کردہ اسٹیج ڈرامہ کے ڈائیلاگ آج بھی مجھے یاد ہیں، عظیم اطالوی سائنسدان اور ماہر فلکیات گلیلیو کا ایک ساتھی کہتا ہے ’’بدنصیب ہے وہ قوم، جس کا کوئی لیڈر نہیں ہوتا‘‘۔ اس پر گلیلیو گرج دار آواز میں کہتا ہے ’’نہیں! بدنصیب ہے وہ قوم، جسے ایک لیڈر کی ضرورت ہے‘‘۔ گلیلیو کا کردار شاید خود مرحوم اسلم اظہر نے ادا کیا تھا۔ ہم پاکستانی دونوں حوالوں سے بدنصیب قوم ہیں۔ آج ہم اس لئےبھی بدنصیب قوم ہیں کہ ہمارا کوئی لیڈر نہیں ہے اور ہم پاکستانی اس حوالے سے بھی بدنصیب قوم ہیں کہ ہمیں آج ایک لیڈر کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ مکمل لاک ڈاؤن سے ملک کی 25 فیصد آبادی بھوکی مر جائے گی، جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔انہیں یہ اندازہ نہیں کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی 25 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ انہیں یہ بھی اندازہ کر لینا چاہئے کہ بحران بہت بڑا ہے۔ وہ بھٹو کے بعد مقبول ترین لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن انہیں اس بحران میں اس بات کا بھی ادراک کر لینا چاہئے کہ بھٹو نے پاکستان کو امریکی اور سامراجی کیمپ سے نکالنے کی کوشش میں اپنی جان کیوں قربان کی۔

کورونا وائرس نے پاکستان سمیت ہر ملک کی قیادت کو آزمائش کی کسوٹی پر منتقل کر دیا ہے۔ چین کے صدر شی چن پنگ کس طرح ایک نئے عالمی لیڈر بن کر ابھر رہے ہیں، روس کے صدر پیوٹن اس طوفان میں بھی کس طرح قدم جمائے کھڑے ہیں اور دیگر بڑی طاقتوں کی سیاسی قیادتوں کو کیا چیلنجز درپیش ہیں ؟ ان سوالات پر غور کرنے کا وقت ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا سے پیدا ہونے والے عالمی بحران میں سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ نے اس وقت تک پاکستان کو باور کرا دیا ہے کہ وہ نئے ابھرتے ہوئے لیڈر ہیں۔ وہ سندھ میں امید لے کرابھرے ہیں۔ سید مراد علی شاہ نے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے جو اقدامات کئے، ان کی پہلے تائید نہیں کی گئی بلکہ کہیں کہیں مخالفت بھی کی گئی۔ مگر پھر تھوڑے ہی وقفے کے بعد سید مراد علی شاہ کے اقدامات کی تائید کی گئی۔ بحرانوں میں لیڈر پیدا ہوتے ہیں۔ سید مراد علی شاہ چونکہ سندھ کے وزیراعلیٰ ہیں، انہیں کم از کم سندھ کا لیڈر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ان کا ایک سیاسی وژن ہے، جسے ایک تصور بناکر انہوں نے عمل درآمد کیا۔ جو فیصلے اب تک پاکستانی وزیراعظم نہیں کر سکے یا جو فیصلے امریکہ کے صدر اور برطانوی وزیراعظم نہیں کر سکے، وہ سید مراد علی شاہ نے اپنے سیاسی وژن کے مطابق کئے۔ یقیناً ان فیصلوں میں سید مراد علی شاہ کو پیپلز پارٹی کی قیادت خصوصا بلاول بھٹو زرداری کی رہنمائی حاصل رہی ہو گی لیکن پارٹی قیادت کے وژن کے مطابق عملی جامہ پہنانے میں بھی سید مراد علی شاہ نے اپنے آپ کو ایک لیڈر کے طور پر منوایا۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ان کے اقدامات درست قرار پائے۔امید کی جاسکتی ہے کہ کورونا وائرس کے معاشی اثرات سے بچائو کیلئے وہ سندھ کے عوام کو ریلیف فراہم کریںگے اور مشکلات سے بچائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں