75

کورونا سے 50 کروڑ افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں، آکسفیم

چیریٹی گروپ آکسفیم نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء سے دنیا بھر میں 50 کروڑ سے زیادہ افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

آکسفیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے منفی اثرات غریب ملکوں پر زیادہ محسوس ہوں گے۔
آکسفیم کی اس تحقیق میں عالمی بینک کی جانب سے 1 اعشاریہ 90 ڈالر، 3 اعشاریہ 20 ڈالر اور 5 اعشاریہ 50 ڈالر یومیہ کمانے والوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1990ء کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ ان تینوں درجات میں غربت کی شرح بڑھے گی اور آمدنی میں 20 فیصد کمی واقع ہو گی۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے بھی خبردار کیا تھا کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث بھوک میں دگنا اضافے کا خدشہ ہے، کورونا وائرس سے عالمی سطح پر پیدا ہونے والے معاشی بحران کے باعث بھوک بڑھ سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس دنیا بھر میں ایسے افراد جو پہلے ہی غربت اور بھوک کا شکار ہیں ان کے لیے تباہ کن ہوگا۔

ادارے نے مزید کہا کہ وبا کے باعث عالمی سطح پر خوراک کی کمی یا عدم دستیابی کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد دوگنی ہوکر تقریباً ساڑھے 26 کروڑ ہوسکتی ہے۔

کورونا وائرس کی وباء کے باعث سیاحت نہ ہونے، سفری پابندیوں، خراب معاشی صورتِ حال اور دیگر پابندیوں کے باعث 13 کروڑ افراد بھوکے رہ جائیں گے، جبکہ ساڑھے 13 کروڑ افراد پہلے ہی اس کیٹیگری میں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 25 لاکھ 57 ہزار 181 ہو چکی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 1 لاکھ 77 ہزار 641 ہو گئیں۔

کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 16 لاکھ 89 ہزار 96 مریض اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے 57 ہزار 245 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 6 لاکھ 90 ہزار 444 مریض اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس بیماری سے نجات پا کر اسپتالوں سے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں