90

کورونا سے شفا، ایک ذاتی تجربہ

داخلی و خارجی خطرات، وبائیں، امراض، زلزلے، سیلاب اور دہشت گردی انسانی زندگی اور انسانی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اِن کا مقابلہ کرنے کے لئے جہاں مددِ الٰہی ناگزیر ہے وہاں قوم میں نظم اور آگاہی بھی ضروری ہے۔ اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ کی مدد توبہ و استغفار سے ملتی ہے اور نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ شعور یا آگاہی قومی کردار کا حصہ ہوتا ہے۔ خطرات بدلتے رہتے ہیں اور نئے نئے چیلنجز جنم لیتے رہتے ہیں۔ ہم ابھی ایک دہائی کی دہشت گردی سے ہزاروں شہادتیں اور قربانیاں دے کر نکل ہی رہے تھے کہ کورونا کی وبا نے حملہ کر دیا۔ داخلی طور پر اس وقت سب سے بڑا چیلنج اس وبا سے نمٹنا ہے جو ہر لمحے پھیل رہی ہے، ہزاروں زندگیوں کو متاثرکر رہی ہے اور سینکڑوں جانوں کے چراغ بجھا رہی ہے۔ ہمارے لئے یہ خطرہ اور بھی گمبھیر ہے کیونکہ ہمارا شعبہ صحت حکومتوں کی نااہلی اور سرد مہری کے سبب بدحالی کا شکار ہے۔ بلاشبہ ہمارے ڈاکٹر، پیرا میڈیکل اسٹاف اور اسپتالوں سے وابستہ کارکن ایثار، خدمت اور حب الوطنی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں اور خدمت سے دنیا و آخرت سنوار رہے ہیں لیکن وسائل کی قلت ہماری حکومتوں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ منتخب اراکینِ اسمبلی کے ’’جذبۂ خدمت‘‘ کا یہ حال ہے کہ قوم کورونا کے خلاف لڑ رہی ہے اور وہ کروڑ پتی، ارب پتی ممبران تنخواہوں، مراعات اور فیملی کیلئے ہوائی ٹکٹوں کیلئے ’’لڑ‘‘ رہے ہیں۔ کیا ایسے بےحس لوگ عوام کے نمائندے کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔

استاد ٹھیک کہتا ہے کہ بعض تحریریں بیمار کرتی ہیں اور بعض تحریریں شفاکا باعث بنتی ہیں۔ شفا کا باعث بننے والے الفاظ صدقہ جاریہ ہوتے ہیں، زخموں پر مرہم رکھنے والے ہاتھ اللہ کو پسند ہیں اور تاریکی میں چراغ جلانے والے لوگ سچے راہنما ہوتے ہیں جبکہ تنگدستی کے ایام میں مراعات کا مطالبہ کرنے والے رہنما جعلی ہوتے ہیں۔ میں تاریخ کا طالب علم ہوں اور اس کا پورا ادراک رکھتا ہوں کہ ہمارے سیاسی نظام کے انحطاط کا سب سے اہم سبب جعلی نمائندگی ہی ہے اور یہی ہمارے سیاسی ڈھانچے کو داخلی طور پر سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یہ لیڈروں کی خود غرضی ہی ہے جو انہیں ہمہ وقت وفا داریاں تبدیل کرنے حتیٰ کہ آمروں کی گود میں پناہ لینے پر مائل کرتی ہے۔ یہی بےاصولی ہمارے ہاں اصول کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ چلیے یہ رونا پھر کسی دن روئیں گے۔

ذکر ہو رہا تھا کورونا کے تیزی سے پھیلائو اور انسانی زندگیوں کے ضیاع اور زیاں کا۔ میں بےبس ہوں لیکن اپنے ذاتی تجربے سے شفاکا راستہ دکھا کر انسانی خدمت کے خواب کو شرمندۂ تعبیر تو کر سکتا ہوں۔ البتہ یہ بات ذہن میں یقین بن کر زندہ رہنی چاہئے کہ شفا میرے رب کے پاس ہے، علاج سنت بھی ہے اور حکمِ الٰہی بھی۔ پرسوں میرے بھتیجے کا فون آیا جو پڑھا لکھا اسمارٹ نوجوان ہے اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کرتا ہے۔ اس نے جسم اور سر میں شدید درد، سانس کی تکلیف اور معدے کی خرابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کورونا ٹیسٹ کروایا ہے جو پازیٹو آیا ہے۔ اس لئے میں قرنطینہ (Isolation)میں جا رہا ہوں۔ مجھے ہومیو پیتھک کا معمولی سا علم ہے اور میں کئی دہائیوں سے اس طریقہ علاج پر کاربند ہوں۔ اس غرض کے لئے میں ساہیوال کے ڈاکٹر نیاز سے مشورہ کرتا ہوں جو طویل عرصے تک مفت علاج اور مفت دوائیاں دیتے رہے لیکن بزنس میں نقصان کے سبب چند برسوں سے کلینک بند کر چکے ہیں۔ وہ بہت سیانے ماہر ڈاکٹر ہیں۔ مریض کی علامات بتائیں تو انہوں نے کہا کہ بھتیجے کو فوراً NAJA TRIP 1Mکے چار پانچ قطرے پانی کے ایک گھونٹ میں ڈال کر دیں اور رات کو مجھے صورتحال بتائیں۔ مریض کوئی علاج نہیں کر رہا تھا، سوائے اچھی خوراک کھانے کے لیکن پیچش نے بُرا حال کر رکھا تھا۔ اس نے دوا لی اور چند گھنٹوں کے بعد بتایا کہ میں بہت بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ درد ختم ہو رہا ہے، طبیعت بہتر ہو رہی ہے۔ سونے تک شدید درد سر، جسمانی درد ختم ہو چکا تھا اور معدہ بہت بہتر۔

پانچ راتوں کے بعد وہ پرسوں رات آٹھ گھنٹے گہری نیند سویا۔ اگلے دن کے لئے ڈاکٹر صاحب نے CHINA 1Mگھونٹ پانی میں چار پانچ قطرے تجویز کی۔ اس نے فوراً بازار سے منگوائی اور لے لی۔ شام تک صحت یاب ہو چکا تھا اور جسمانی کمزوری بھی بہت کم ہو گئی تھی۔ اب وہ ماشاء اللہ بالکل ٹھیک، صحت مند ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اگلے پانچ دنوں کے لئے ACONITE-30 BELLA DON-30دو دوائیاں تجویز کی ہیں۔ دونوں دوائیوں کو پانی کے گھونٹ میں اکٹھے ملا کر پی لیں اور یہ نسخہ دن میں تین دفعہ استعمال کریں۔ کورونا ٹیسٹ کروا لیں، ان شاء اللہ نیگیٹیو ہوگا۔ یہ طریقہ علاج نہایت بےضرر اور سستا ہے۔ پاکستانی کمپنیوں کی دوائیاں معیاری ہیں جن پر پانچ سو روپے کے لگ بھگ خرچ ہوں گے جبکہ ایک شیشی سینکڑوں مریضوں کے کام آ سکتی ہے۔ ہومیو پیتھی کے نہ سائیڈ ایفکٹس (مضر اثرات) ہیں، نہ دوائیاں Expireہوتی ہیں۔ ڈاکٹر نیاز کا کہنا ہے کہ وہ NAJA-1Mاور CHINA-1M سے ایک سو کورونا کے مریضوں کو بیماری کے چنگل سے نکال چکے ہیں۔ پہلے دن صرف NAJA 1Mدوسرے دن صرف CHINA 1-Mتیسرے دن سے اوپر لکھی گئی دو دوائیں شروع کرنی ہیں۔ اگر ان آخری دو دوائیوں سے پیاس زیادہ لگے تو پھر Arsenic 30اور BAPTASIA 30کو پانی کے گھونٹ میں بیک وقت ملا کر پانچ دن لیں۔ ان شاء اللہ شفا ہوگی۔ ساتھ ساتھ قاری باسط کی قرأت میں سورئہ رحمٰن کی تلاوت سنیں۔ شفا منجانب اللہ پاک ہے۔ شفا ہو تو شکرانے کے نوافل ادا کریں، صدقہ و خیرات کریں، کورونا کے مریضوں کو یہ دوائیاں بھجوائیں اور میرے لئے دعائے مغفرت۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں