110

کورونا: تباہ کاریاں اور چینی ویکسین

پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر پہلی دونوں لہروں سے زیادہ نقصان دہ اور مہلک ثابت ہوئی ہے۔ اسکا اندازہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار سے لگایا جا سکتا ہے جن کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی وجہ سے 157پاکستانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ مارچ 2020ءسے اب تک پاکستان میں کورونا وائرس سے ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔ یہ لہر اِسلئے بھی سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے کہ اب بچے بھی اِس مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد کے بعد لاہور سمیت پنجاب کے 5اضلاع میں کورونا کے خلاف احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے فوج سے مددطلب کر لی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بازار، شاپنگ مالز، پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی اداروں سمیت مکمل لاک ڈائون پر غور کیا جا رہا ہے لیکن اِس بارے میں حتمی فیصلہ سب سے مشاورت کے بعد کیا جائیگا۔ سربراہ این سی اوسی کے مطابق مریضوں کی تعداد گزشتہ جون کی نسبت 30فیصد زیادہ ہے جسکی وجہ یہ ہے کہ 79فیصد آبادی ایس او پیز پر عمل نہیں کررہی، دستیاب آکسیجن کا 90فیصد زیر استعمال ہے، درآمد بھی کر لیں تو درپیش چیلنج سے نمٹنا مشکل ہے۔ کورونا وائرس کی اِس قدر سنگین صورتحال میں اچھی خبر یہ ہے کہ چین سے ایک اور خصوصی طیارہ سائنو فارم کورونا ویکسین کی پانچ لاکھ خوراکوں پر مشتمل کھیپ لیکر نور خان ایئربیس پہنچ چکا ہے۔ دوسری طرف ایک ہی دن میں پی آئی اے کے تین خصوصی طیارے کووڈ 19کی دس لاکھ ویکسین لینے چین پہنچ گئے ہیں۔چین نے ہر بار کی طرح اِس مشکل گھڑی میں بھی پاکستان کا ساتھ دیکر سچی دوستی کا حق ادا کیا ہے۔ تمام اہلِ وطن کو بھارت میں برپا قیامت سے سبق لیتے ہوئے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہئے کہ فی الوقت اسی طرح وبا کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں