کرونا وائرس: چین نے اپنی پہلی ویکسین کے کلینکل تجربات کی اجازت دیدی 156

کورونا بحران دوسری جنگ عظیم سے بھی بڑا ثابت ہو سکتا ہے

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے جس سے نہ صرف عالمی معیشت کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں بلکہ ہلاکتوں کی تعداد اور نقصانات کا موازنہ دوسری جنگ عظیم میں ہونے والے نقصانات سے بھی کیا جا رہا ہے۔ امریکی ٹی وی سی این بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی خوف، ہلاکتیں اور نقصانات اور پریشانی دوسری جنگ عظیم اور 9/11 کے بعد کی صورتحال سے بھی زیادہ ہے۔ رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالات اور بحران بھیانک روپ اختیار کر سکتے ہیں۔ پروگرام میں موازنہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ صرف امریکا میں مرنے والوں کی تعداد 20؍ لاکھ تک جا سکتی ہے۔ مارننگ شو پروگرام کے میزبان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ناقد جوئی اسکاربرو کا کہنا تھا کہ یہ تعداد پہلی جنگ عظیم، دوسری جنگ عظیم اور ویتنام جنگ میں مرنے والے امریکیوں کی مجموعی تعداد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اِس وقت وائٹ ہائوس آنے والے حالات سے مقابلے کیلئے

اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے لیکن ساتھ میں خوفزدہ بھی ہے، صورتحال اس لحاظ سے بھی عجیب ہے کہ امریکا نے اس کا مقابلہ پہلے کبھی نہیں کیا کیونکہ یہ کوئی جنگ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وائٹ ہائوس کے اندر کا ماحول انتہائی سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال بہت سنگین ہے کیونکہ سینٹر فار ڈزیز کنٹرول (سی ڈی سی) اور نجی کمپنیوں نے ڈاکٹروں کو کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے کٹس مناسب تعداد میں فراہم نہیں کیں، امریکی صدر نے اس صورتحال میں ملک کو لاک ڈائون تو کر دیا ہے لیکن حالات ایسے ہیں جیسے اندھیرے میں خطرے کی نشاندہی کیلئے سیٹیاں بجائی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ، شعلہ بیان رہنما، مصنف اور معروف سماجی کارکن جارج گیلوے کا کہنا ہے کہ کورونا جیسا ایک اور وائرس آیا تو اس سے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی بقا کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں