19

کوئی کسی کی طرف سے پریس کانفرنس کرتا ہےتو کرتا رہے کوئی فرق نہیں پڑتا، جسٹس محسن اختر کیانی

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مئی 2024ء ) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ کوئی کسی کی طرف سے پریس کانفرنس کرتا ہے کرتا رہے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتا بلوچ طلبہ کی بازیابی کے کیس کی سماعت ہوئی جہاں جسٹس محسن اختر کیانی اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ’الزام ہے کہ مبینہ طور پر بہت سے لوگ ایجنسیوں کی تحویل میں ہوتے ہیں، وہ کھاتے پیتے بھی ہوں گے، خرچ ریاست برداشت کرتی ہے؟ ایجنسیوں کے فنڈز کا کوئی سالانہ آڈٹ ہوتا ہے؟جب تک مسنگ پرسنز کے کیسز ہوتے رہیں گے عدالتیں کام کرتی رہیں گی، کوئی پریس کانفرنس کرتا ہے کرتا رہے اُس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کوئی کسی کی طرف سے پریس کانفرنس کرتا ہے تو وہ بھی کرتا رہے اس سے بھی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ عدالتیں ان تمام چیزوں سے ماورا ہوتی ہے‘۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ ’کوئی بھی پاکستانی خواہ وہ صحافی ہو یا پارلیمنٹیرینز وہ دہشت گردوں کی سپورٹ نہیں کر رہا، کوئ بھی عدالت، جج، وکیل، صحافی، پارلیمنٹیرین ایجنسیوں کو قانون کے مطابق کام سے روکنے کی بات نہیں کرتے، صرف خلاف قانون کام کرنے سے روکنے کی بات کرتے ہیں، ایجنسیز کے کام کرنے کے طریقہ کار واضح ہو جائے تو اچھا ہوگا، قانون میں ایف آئی اے اور پولیس تفتیش کرسکتی ہیں، ایجنسیاں تفتیش میں معاونت کرسکتی ہیں، ہمیں قانون کے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا ہے‘۔

اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ ’ہم نے لاپتا افراد کیسز میں بہت کام کیا ہے، جو رہ گیا وہ بھی کریں گے بس تھوڑا سا وقت دے دیں، اس معاملے کا سیاسی حل بھی تلاش کیا جارہا ہے‘، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ ’جنگ میں بھی سفید جھنڈا لہرا کر سیز فائر کی جاتی ہے بات چیت کرکے حل نکالا جاتا ہے‘، اس کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’ہماری بھی یہی استدعا ہے کہ تھوڑا وقت دے دیا جائے، لاپتا افراد سے متعلق معاملے کو کابینہ کے اگلے دو اجلاسوں میں اٹھایا جائے گا، عدالت ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی آئی بی کی کمیٹی میں تبدیلی کرے، اس کمیٹی میں ڈی جیز لیول سے نیچے کے لوگ ڈالیں تاکہ کوآرڈی نیشن میں آسانی ہو‘، اس پر جج نے جواب دیا کہ ’میں آرڈر جاری کروں گا، وہ آپ دیکھ لیں‘۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اٹارنی جنرل صاحب یہ بتائیں کہ آپ جیسے لوگ کہاں پر ہیں جو مسائل کو حل کرتے ہیں؟‘، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’سر یہ بہت مشکل سوال ہے، اس معاملے کو اگر حل نہیں کیا تو مسائل بڑھیں گے‘، عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ’ہمارے پاس ایک اور لاپتا افراد سے متعلق کیس ہے اس میں بھی آپ آئیں‘، اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’میں اس کیس میں بھی ضرور آؤں گا، میڈیا کو اس معاملے میں ساتھ دینا چاہیئے تاکہ منفی چیزیں اُجاگر نہ ہوں‘، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ ’آپ یہ چاہتے ہیں کہ میڈیا “جج برہم” نہ چلائے؟‘، ان کی اس بات پر عدالت میں قہقہے لگ گئے، بعد ازاں جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل کو عدالتی سوالنامہ کے جوابات آئندہ سماعت پر جمع کرنے کی ہدایت کردی اور کیس کی سماعت 14 جون تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں