62

کوئی مثبت سمت نہیں۔عارف نظامی

43 / 100

نو منتخب سینٹ کے انتخاب کے پہلے اجلاس میں ہی یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اپوزیشن اتحادی جماعتوں پی ڈی ایم کی صفوں میں ایسی دراڑ پڑ چکی ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں ہو گا ۔ اگرچہ لیڈر آف اپوزیشن یوسف رضا گیلانی نے نہ صرف اپوزیشن کے بارے میں مجموعی طور پر صلح جوئی کا رویہ اختیار کیا بلکہ حکومتی بینچوں کی طرف بھی اسی طرح کے تعاون کا ہاتھ بڑھایا۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اپوزیشن لیڈر کے امیدوار اعظم نذیر تا رڑ نے کھلم کھلا پیپلز پا رٹی کے اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی کے خلاف چھکے لگائے اور یہاں تک گئے کہ گیلانی منفرد اپوزیشن لیڈر ہیں جو ایوان میں حکومتی ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں ۔ سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر پی ڈی ایم میں تقسیم سینٹ اجلاس سے پہلے اس وقت ہی واضح ہو گئی تھی جب اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس کے بجائے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے کمرے میں آزاد اپوزیشن کی جماعتوں کا مسلم لیگ (ن ) کے سینٹ میں پارلیمانی لیڈر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میںجے یو آئی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور بی این پی مینگل کے سینیٹرز بھی شریک ہوئے۔آزاد سینیٹرز کے سربراہ اعظم نذیر تارڑ اور دیگر نے قائد حزب اختلاف کے تقرر پر سوال اٹھا ئے۔ اعظم نذیر تارڑ نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ ہمیں الگ اپوزیشن بینچز الاٹ کئے جائیں، 12 مارچ کو ایوان میں جو کچھ ہوا وہ سب کو پتہ ہے، سینٹ الیکشن میں خفیہ کیمروں کی تحقیقات کی جائے، ہم 27 لوگ الگ اپوزیشن کے طور پر کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے سینیٹر دلاور خان گروپ کو ’تحفے‘ کہنے پر ان ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ ایک بات قابل ذکر ہے کہ جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما کامران مرتضیٰ نے سینٹ میں مہنگی ویکسین کے خلاف قرارداد پیش کی جسے سینٹ میں اپوزیشن کی تقسیم کے باوجود کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ قرارداد میں حکومت سے مفت یا اصل قیمت پر ویکسین کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ۔ قرارداد کے حق میں 43 اور اس کی مخالفت میں 31 ووٹ پڑے۔ دوسری جانب قرارداد کثرت رائے سے منظور ہونے پر حکومتی ارکان کافی غصے میںنظر آئے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ وہ تنہا اپوزیشن کرنے کو تیار ہیں۔ یہ وہی بات ہے جو بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں ڈونگی گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھی ۔یہ وہ دور تھا جب مشرقی پاکستان میں شورش کے حوالے سے پیپلز پارٹی ایک طرف جبکہ اپوزیشن جماعتیں دوسری طرف تھیں۔ اس پر بھٹو نے ما ؤزے تنگ کے الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تمام گندے انڈے ایک ٹوکری میں جمع ہو جا ئیں تو، پھر ٹھڈا مارنے کا انداز اختیار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں ٹھڈا ماروں گا۔ اگرچہ اس وقت اور اب کے واقعا ت، حالات اورپس منظرمیں فرق ہے لیکن یہ حالات پیپلز پارٹی کے تاریخی طور پر سولو فلائٹ کرنے کے رجحان کی طرف نشاندہی کرتے ہیں ۔ دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام (ف ) اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی دونوں جماعتوں کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پرا ظہار وجوہ کے نوٹسز دے دیئے ہیں۔ اب دیکھنا ہے آیایہ دونوں جماعتیں نوٹسز کا کیا جواب دیتی ہیں یا نظر انداز کرتی ہیں ۔ پی ڈی ایم کی جماعتوں میں خلیج بڑھ گئی ہے ۔ دراصل دونوں جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان خاصا نظریاتی خلا(اگر ان کا کوئی نظریہ ہے) پیدا ہو چکا ہے۔ پی ڈی ایم کے قیام سے اب تک دونو ں جماعتوں کے درمیان خلیج کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کے اتحاد بناتے وقت بعض بنیادی حقائق کو نظر انداز کردیا جاتاہے۔ مثال کے طور پر مسلم لیگ (ن) کی سپورٹ بیس پنجاب ہے جبکہ پیپلزپارٹی کاکلّہ سندھ میں مضبوط ہے ۔ پیپلزپارٹی یہ تاریخی حقیقت کیونکر نظر انداز کر سکتی ہے کہ ن لیگ کا وجود اس کی ضد کی صورت میں عمل میں آیا اور جنرل ضیا ء الحق کے دور استبداد میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک بھر میں پیپلزپارٹی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کو پنجاب میں خاصی حد تک کامیابی حاصل ہوئی لیکن سندھ میں ناکام رہی۔ تحریک انصاف کا قیام بظاہر ان دونوں جماعتوں کا وجود سیاسی طور پر فارغ کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا لیکن خان صاحب اس ضمن میں ’’مثبت نتائج ‘‘ دینے میں ناکام رہے ۔ اب جب تحریک انصاف اپنے اقتدار کی نصف مدت پوری کر چکی ہے خان صاحب پھر بھی عوام کو صبرکی تلقین کرنے پر مجبور ہیں کہ وہ مہنگائی کنٹرول کر لیں گے ۔ انہوںنے ٹیلی فون پر عوام کی کالز سننے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس سے پہلے جنرل ایوب خان ،جنرل یحییٰ خان کے ادوار میں بھی مختصر مدت کے لیے یہ تجربہ کیا گیا تھا ۔ عمران خان نے اس موقع پر عدلیہ سے بھی گلہ کیا ہے کہ اگر وہ ساتھ نہیں دے گی تو وہ کرپشن سے نہیں لڑ سکتے،ہم نوازشریف کو کہہ رہے تھے کہ شیورٹی بانڈ دو لیکن عدلیہ نے اسکے بغیر ہی باہر بھیج دیا۔خان صاحب اپنی انتظامی اور مجموعی طور پر اقتصادی ناکامیوں کے اعتراف کے بجائے درس دے رہے ہیں کہ جمہوریت میں ایران میں خمینی کے انقلاب کے برعکس حالات بہتر ہونے میں وقت لگتا ہے ۔ بہرحال اس وقت ملک جمود کا شکارہے ۔ بٹی ہوئی اپوزیشن حکومت کا کچھ بگاڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اس کے استعفے تو دور کی بات ہے،لانگ مارچ کا پروگرام بھی ٹھس لگتا ہے ۔ جہاں تک مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے وہ اپنے اندرونی خلفشار میں پھنسی ہوئی ہے ۔ یہ واضح نہیں ہے کہ پارٹی نے محاذ آرائی کی ہارڈ لائن اختیار کرنی ہے یا مذاکرات کاراستہ اپنانا ہے۔ چہار جانب گومگو کی اس صورتحال میں ملک پر نفسا نفسی کی کیفیت طاری ہے اورکوئی مثبت سمت نظر نہیں آ رہی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں