42

کمپیوٹر، موبائل، نمک، گوشت، بیکری، لگژری اشیا مہنگی

حکومت نے منی بجٹ پیش کردیا جس میں کمپیوٹر،آئیوڈین نمک، درآمدی گوشت، بیکری آئٹمز، لگژری اشیاء، بچوں کے دودھ، نیوز پرنٹ، کتابیں، سلائی مشینیں،کپاس کے بیج مہنگے ،کئی چیزوں پر 17GST فیصد، 343 ارب میں سے 71 ارب کا ٹیکس استثنیٰ مکمل ختم،مشینری پر 112ارب ، فارماسیوٹیکلز پر 160ارب کی ٹیکس چھوٹ ختم، ریفنڈ اور ایڈجسٹیبل کابھی آپشن ،ضمنی مالیاتی بل میں ڈیوٹی فری شاپس پر پہلی بار 17فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز،وزیر خزانہ کاکہناہےکہ عوام پر صرف 2ارب کا بوجھ پڑیگا،اسٹیٹ بینک کو انتظامی آزادی دی ہے، پارلیمنٹ کو جوابدہ ہوگا، بورڈ اور گورنر حکومت مقرر کریگی، ہاتھ سے نکلا تو سادہ اکثریت سے خودمختاری ختم کردینگے۔گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان میں رولز معطل کرنے کی قرارداد پیش کردی، رولز معطل کرنے کی قرارداد منظور ہوئی جس کے بعد وزیر خزانہ شوکت ترین نےمالیاتی ضمنی بل اور اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پیش کردیا ،ایوان میں اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے متعلق اسٹیٹ بینک ایکٹ ترمیمی بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا،اسپیکر نے کہا کہ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط و طریقہ کار کے قاعدہ 122 کے تحت یہ بل قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کے سپرد نہیں ہوگا،اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ ضمنی مالیاتی بل میں ترامیم پر مکمل بحث کرائی جائے گی اور سب کو بولنے اور تجاویز دینے کا موقع ملے گا۔ضمنی مالیاتی بل میں تقریباً 150 اشیاء پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے جن سے 343 ارب روپے سے زیادہ اضافی ریونیو حاصل ہوسکے گا، گاڑیاں، دوائیں، ڈبل روٹی، ریسٹورنٹ کا کھانا مہنگا ہوگا، بیکری آئٹمز، موبائل فون، بچوں کے دودھ، ڈبے والی دہی، پنیر، مکھن، کریم، دیسی گھی، مٹھائی اور مسالا جات کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی،اس کے علاوہ درآمدی نیوز پرنٹ، اخبارات، جرائد، کاسمیٹکس، کتابیں، سلائی مشین، امپورٹڈ زندہ جانور اور مرغی پر مزید ٹیکس لگے گا۔کپاس کے بیج، پولٹری سے متعلق مشینری، سونا، چاندی اور کمپیوٹرز بھی مہنگے ہوجائیں گے،موبائل فونز پر ٹیکس 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کرکے 7 ارب روپے اضافی حاصل کیے جائیں گے۔الیکٹرک کاروں پر ٹیکس 5فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کیا جائے گا،تندور پر تیار ہونے والے نان، روٹی اور شیر مال، مقامی طور پر فروخت ہونے والے چاول ، گندم اور آٹے پر بھی کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔موبائل فون کمپنیوں کی سروسز پر ایڈوانس ٹیکس 10 فیصد سے 15 فیصدکرنےکی تجویز ہے، ڈیوٹی فری شاپس پر پہلی بار 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔پولٹری کے شعبے سے متعلقہ مشینری پر ٹیکس 7 فیصد سے بڑھاکر 17 فیصد کرنے جبکہ چاندی اور سونے پر ٹیکس کی شرح 1 سے بڑھاکر 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔اس کے علاوہ بیکری، ریسٹورنٹس، فوڈ چینز پر بریڈ کی تیاری پر 17فیصد جی ایس ٹی کی تجویز ہے جب کہ عام تندوروں پر روٹی اور چپاتی پر ٹیکس استثنیٰ برقرار رہے گا،زرعی سیکٹر پر سیلز ٹیکس نہیں لگایا گیا،پیکنگ میں فروخت ہونے والےدرآمدی مسالوں پر 17فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز ہے،ملٹی میڈیا ٹیکس بھی 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصدکرنے کی تجویز ہے،بیٹری پر ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے،ڈاک کے ذریعے پیکٹ ارسال کرنے پر17فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز ہے،ادویات کےخام مال پر بھی 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) لگانے کی تجویز ہے،سیب کے علاوہ درآمدی پھلوں، سبزیوں پر 10 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز ہے،فلار ملز پر بھی 10 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز ہے جس سے آٹا بھی مہنگا ہوسکتا ہے۔ اجلاس کے بعد وزیر خزانہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ ٹیکس دینے والوں پر مزید ٹیکس نہیں لگا رہے، ضمنی مالیاتی بل سے صرف 2 ارب روپے کے ٹیکس لگیں گے، 2ارب روپے کے اضافی ٹیکس سے کون سا مہنگائی کا طوفان آجائے گا؟شوکت ترین نے کہا کہ 2ارب روپے کے اضافی ٹیکس سے صرف چار چیزیں مہنگی ہوں گی، لگژری گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے ہیں اور بڑھا رہے ہیں، آئی ایم ایف نے گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے پر کوئی قدغن نہیں لگائی،اس کے علاوہ غیر ملکی اسٹیک اور مچھلی کھانے والوں پر ٹیکس لگے گا، موبائل فونز پر 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی تجویز ہے اور سونے چاندی سمیت قیمتی جیولری پربھی17 فیصد سیلز ٹیکس بل میں شامل ہے۔شوکت ترین نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا، فارما سیکٹر کو ٹیکس ریفنڈ کریں گے، مشینری پر 112ارب کی ٹیکس چھوٹ ختم کی ہے، فارماسیوٹیکلز پر 160 ارب کی ٹیکس چھوٹ ختم کی ہے، باقی لگژری اشیاء کی درآمد پر 71 ارب روپےکی ٹیکس چھوٹ ختم کی ہے۔شوکت ترین نے کہا کہ ضمنی مالیاتی بل کا مقصد ٹیکس لگانا نہیں بلکہ معیشت کو دستاویزی شکل دینا ہے، مالیاتی ضمنی بل سےمہنگائی بڑھنے کی افواہیں پھیلائی گئیں ،کھاد پر ٹیکس نہیں لگنے دیا، سنیما کے آلات پر بھی ٹیکس نہیں لگایا گیا، پرانے کپڑوں پر بھی ٹیکس نہیں لگے گا،اشیائے خورونوش مہنگی نہیں ہونگی۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری پر سمجھوتہ کیا جا رہا ہے کیونکہ اسٹیٹ بینک کی اصل تھارٹی بورڈ کے پاس ہو گی اور اگر اسٹیٹ بینک ہاتھ سے نکلنے کی کوشش کرے گا تو اس کی خودمختاری ختم کردیں گے۔تحریک انصاف کی حکومت اداروں کو خودمختاری دینا چاہتی ہے تاکہ وہ مضبوط ہوں اور جب تک ہم اداروں کو اختیارات نہیں دیں گے اور مداخلت کرتے رہیں گے تو وہ کبھی مضبوط نہیں ہوں گے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حکومت نے اب تک اسٹیٹ بینک سے ایک روپیہ بھی قرض نہیں لیا ہے لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ خود مختاری پر سمجھوتہ کیا جا رہا ہے، ہم ڈھائی سال سے اسٹیٹ بینک سے پیسہ نہیں لے رہے تو اس دوران ہماری کونسی خودمختاری پر سمجھوتہ ہو گیا ،ہم انہیں انتظامی طور پر خودمختاری دیں جس سے تنخواہیں وغیرہ ان کا بورڈ خود طے کر سکتا ہے، اسٹیٹ بینک کی اصل اتھارٹی بورڈ کے پاس ہو گی، نان ایگزیکٹو بورڈ سارے فیصلے کرے گا، بورڈ کے لیے نامزدگیوں اور اس کی منظوری کا اختیار مانگا گیا لیکن ہم نے اسے مسترد کردیا اور کہا کہ یہ اختیار حکومت پاکستان کے پاس ہو گا لہٰذا یہ ابہام نکال دیں کہ ہم نے اپنی آزادی بیچ دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں