29

کشمیر پر بھارتی قبضہ : امریکہ، برطانیہ، ناروے ، کینیڈا، جنوبی افریقہ میں مظاہرے

مقبوضہ کشمیر پر 27 اکتوبر 1948 کو بھارتی قبضہ کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رہا، کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کیلئے امریکہ، ناروے ، کینیڈا، جنوبی افریقہ میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے ، تقریبات میں دستاویزی فلمیں دکھائی گئیں اور بھارت سے کشمیر پر قبضہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا۔ امریکہ میں نیویارک کے دل ٹائمز سکوائر پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں تمام مکتبہ فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ مظاہرہ کا مقصد عالمی دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کرانا مقصود ہے کہ کس طرح بھارت نے طاقت کے زور پر کشمیر پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے ۔ اقوام متحدہ کے دفاتر کے سامنے اور نیویارک کی سڑکوں پر چکر لگاتا ایک ٹرک سب کی توجہ کا مرکز بنا رہا جس پر بڑی سکرینوں کے ذریعے پیغام دیا گیا کہ بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے ۔ تحریک کشمیر یورپ ناروے کے زیر اہتمام بھارتی سفارتخانہ ناروے کے سامنے احتجاجی مظاہرے میں کشمیر پر بھارت کی ننگی جارحیت اور غاصبانہ قبضہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔مظاہرین سے تحریک کشمیر یورپ ناروے کے صدر شاہ حسین کاظمی، پاک ناروے فورم کے صدر چودھری وسیم شہزاد، تحریک کشمیر یورپ کے جنرل سکریٹری میاں محمد طیب، قاری پروفیسر ارشد محمود، کونسلر چودھری خالد محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی توجہ مبذول کرائی جارہی ہے کہ بھارت پر سیاسی، سفارتی اور اقتصادی دبائو ڈالا جائے کہ مسئلہ کو پُرامن طور پر حل کرے ۔ بھارت کشمیر سے نکل جائے ۔ جنوبی افریقہ میں پاکستانی اور کشمیری برادری نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔ مظاہرین نے جوہانسبرگ ، لیناسیا اور رچرڈ بے میں بھارتی قونصلیٹ کے سامنے احتجاج کیا، جو ہانسبرگ میں قونصلیٹ کو ایک احتجاجی یادداشت بھی پیش کی گئی۔بھارتی قونصلیٹ نے احتجاج کو دبانے کیلئے اونچی آواز میں موسیقی کا استعمال کیا۔ کینیڈا میں بھی ٹورنٹو ، وینکوور، مونٹریال میں عوامی مظاہروں سمیت مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا ۔اوٹاوا میں تقریب کے دوران دستاویزی فلمیں دکھائیں ۔برطانیہ میں لندن میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے ہزاروں کشمیریوں کا صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی قیادت میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے بھارت اور مودی کے خلاف زبردست نعرے بازی کی ، گو مودی گو، کشمیریوں کا قاتل مودی، انڈیا کشمیر سے نکل جا، اقوام متحدہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دو، ہم چھین کے لیں گے آزادی ، ہے حق ہمارا آزادی، ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کا ترجمان بیرسٹر سلطان جیسے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے ۔ مظاہرے میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ برطانیہ میں مقیم تارکین وطن کی بڑی تعداد میں شرکت نے 2014 میں لندن میں ملین مارچ کی یاد تازہ کر دی۔ مظاہرین نے صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی قیادت میں مظاہرے کے شرکاء نے برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ 10, ڈاوننگ سٹریٹ تک مارچ کیا۔سلطان محمود نے 10ڈائوننگ سٹریٹ میں ایک یادداشت بھی پیش کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں