38

کسی سروسز چیف نے نہیں کہا سازش ہوئی

کسی سروسز چیف نے نہیں کہا سازش ہوئی، حکومت نے عدالتی کمیشن بنایا تو مکمل تعاون کریں گے، فوجی ترجمان
کراچی (ٹی وی رپورٹ ) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کسی سروسز چیف نے نہیں کہا سازش ہوئی، حکومت نے عدالتی کمیشن بنایا تو مکمل تعاون کریں گے، کمیشن بنانے کا آپشن سابقہ حکومت کے پاس بھی تھا اور موجودہ حکومت کے پاس بھی ہے، نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ کا ایجنڈا پہلے سے طے ہوتا ہے، کوئی سیاسی بیان نہیں دیا، سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی کی اِن پٹ انٹیلی جنس بیسڈ انفارمیشن ہوتی ہے ذاتی رائےنہیں، کئی مرتبہ وضاحت کرچکا ہوں ، نہیں سمجھتا کہ اس معاملے پر پھر بات کروں گا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ایک انٹرویو میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ خط کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن یا اور کوئی فورم بنا تو ادارہ مکمل تعاون کرے گا۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ میں نے گزشتہ روز ایک انٹرویو کے دوران کسی قسم کا کوئی سیاسی بیان نہیں دیا۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ میں نے صرف پاکستان آرمی کے سروسز چیفس کی جانب سے ایک وضاحتی بیان دیا تھا، گزشتہ ہفتے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک نجی چینل کے پروگرام میں ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کسی بھی سروس چیف نے یہ نہیں کہا کہ سازش نہیں ہوئی۔ ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ شیخ رشید نے اپنی گفتگو کے دوران اس انداز میں گفتگو کی جیسے کہ وہ ان کے نمائندے کے طور پر بات کر رہے ہیں، اس لیے میں نے ضروری سمجھا کہ اسی پروگرام میں جاکر اس بات کی وضاحت کی جائے کیونکہ سروسز چیفس کے حوالے سے ان کا ترجمان میں ہی ہوں اور اگر ان کے بارے میں کوئی اس طرح کی بات کی جاتی ہے تو میری ذمےدار بنتی ہے کہ میں اس کی وضاحت کروں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ اس لیے میرے بیان میں کوئی سیاسی بات نہیں ہے اور جس چیز کی میں نے وضاحت کی وہ بھی یہ ہی تھی کہ بہت وضاحت کے ساتھ اس میٹنگ میں سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے بالکل واضح کردیا گیا تھا کہ کسی قسم کی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اس پر میں نے کل کافی وضاحت سے بات کی، میری جانب سے ایک وضاحتی بیان تھا، اس میں کوئی سیاسی بات نہیں تھی۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ ایک قومی سلامتی کا معاملہ تھا، اسی لیے تمام سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بھی وہاں اجلاس میں بلایا گیا تھا اور جب اس طرح کے اعلیٰ ترین فورم پر جو ملک کی سلامتی کا سب سے اہم فورم ہے، جب وہاں بلایا جاتا ہے تو اس کا ایجنڈا پہلے سے بتادیا جاتا ہے کہ اجلاس کیوں ہو رہا ہے۔ انہوں نےمزید کہا کہ اس طرح کے اجلاس میں شرکت کےلیے تمام شرکا، خاص طور پر تینوں سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی اپنی ان پٹ لے کر جاتے ہیں اور وہ ان پٹ جو ہوتی ہے وہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ہوتی ہے، وہ رائے نہیں ہوتی، آج کہا گیا کہ یہ اُن کی رائے ہے، وہ ہماری رائے ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دے کر کہا کہ میں سروسز چیفس کی جانب سے آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ یہ رائے نہیں تھی، یہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر انفارمیشن تھی، حقائق کو دیکھ کر ان کے مطابق وہاں یہ ان پٹ دی گئی تھی، اس لیے اجلاس میں موجود سیاسی قیادت نے بھی اس کے بعد میٹنگ کے اعلامیے میں سازش کا لفظ شامل نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح سے یہ ان پٹ دی گئی تھی تو اس کو رائے نہیں کہا جاسکتا، یہ ایک طریقہ کار کےتحت بریف کیا گیا تھا، ان پٹ لے کر گئے تھے اور اس کی بنیاد پر یہ بات کی گئی تھی۔ ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت عدالتی کمیشن یا کوئی بھی کمیشن اس معاملے کو اس کے منطقی انجام تک لے جانے کےلیے بنانا چاہیے تو وہ بنا سکتی ہے، سابقہ حکومت کے پاس بھی یہ اختیار موجود تھا جب کہ اس حکومت کے پاس بھی اختیار موجود ہے اور اگر حکومت اس معاملے پر کوئی کمیشن یا فورم بناتی ہے تو ادارہ اس سلسلے میں تمام مطلوبہ سہولت اور تعاون فراہم کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اس بارے میں جو کہنا تھاجو ادارے کاپوائنٹ آف ویو تھابڑی تفصیل سے بیان کردیاآج بھی آپ سے بات ہوگئی کل بھی میں نے کہا اوراس سے پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں میں نہیں خیال کہ میں آئندہ اس معاملے پر بات کروں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں