6

کسی جج کو فون کرکے سزا دینے کا نہیں کہتا، وزیراعظم عمران خان

5 / 100

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح میں کسی جج کو فون کر کے سزا دینے کا نہیں کہتا۔

بھمبر میں جلسے سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج ملک میں عدالتیں آزاد ہیں، میں کسی جج کو فون نہیں کرتا اور نہ ہی 3 سال کی سزا 5 سال کا کرنے کا کہتا ہوں۔

انہوں نے جلسے کے شرکاء سے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار سے لے کر شریف فیملی کے بیٹے اور بچے تک باہر کیوں بھاگے ہوئے ہیں؟

عمران خان نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ تحریک انصاف کنٹرول نہیں کرتی، عدالت آزاد ہے، ملک کا سابق وزیراعظم جھوٹ بول کر اور بالی ووڈ کی ایکٹنگ کرکے بیمار بن کر باہر چلا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس نے ملک سے باہر جانے کے لیے ایسی اداکاری کی کہ ہماری کابینہ کی خواتین نے بھی اس کی شکل دیکھ کر رونا شروع کردیا۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کو جیسے ہی لندن کی ہوا لگی تو ادھر سے جو گیا تھا وہاں دوسرا ہی نواز شریف اترا۔

انہوں نے جلسے کے شرکاء کو ماسک پہننے کی تاکید کی اور کہا کہ یہ پہنیں گے تو بیماری سے بچ جائیں گے، یہ نہ ہو میرے جلسے کے بعد پتا چلے کہ کئی لوگ بیمار ہوگئے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میں آپ کے مستقبل کا سوچتا ہوں، کوئی بھیک مانگنے والے اور قرضہ مانگنے والے کی عزت نہیں کرتا، ہم نے خود کو بھی بدلنا ہے، اپنے ملک کو بھی بدلنا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر ہم عدالتیں یا نیب کنٹرول کرتے تو ہم اپنے وزیروں کو کیوں جیل میں ڈالتے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ آپ جس پارٹی کو ووٹ دے رہے ہیں کیا ان کے لیڈر صادق اور امین ہیں کہ نہیں، لیڈر ایماندار ہے اور امیدوار دو نمبر ہے تو وہ کچھ کرتے ہوئے بھی ڈرے گا۔

انہوں نے کہا کہ کمزور جیل میں جائے اور طاقتور این آر او لے لے، باہر جاکر بیٹھ جائے اور پوتے کا پولو میچ دیکھے، پولو بادشاہوں کا کھیل ہے، بڑا پیسا چاہیے، یہ بتائيں کہ پوتے جی کے پاس اتنا پیسا کہاں سے آیا، یہ آپ کا پیسا ہے، یہاں سے باہر گیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم قانون کی حکمرانی کی جنگ لڑ رہے ہیں، آپ جانتے ہیں، آپ کے کپتان کو مقابلہ کرنا آتا ہے، آپ کی حمایت سے اس مافیا کو شکست دے کر دکھاؤں گا، ایک نیا پاکستان ہم بنا کر دکھائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں