549

کرونا وائرس اور ہمارے علمائے کرام. تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

کرونا وائرس اور ہمارے علمائے کرام
جب سے کرونا وائرس(covid-19)پاکستان میں آیا ہے تب سے حکومت اور مذہبی طبقہ کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔علمائے کرام کرونا وائرس کے حملہ کو مذہب پر حملہ تصور کررہے ہیں۔ان کے خیال کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کے خدشہ کی آڑ میں مساجد اور مدارس کو سازش کے تحت بند کیا گیا ہے.خطباء وواعظین نے حکومتی احکام کے خلاف اپنے آتشیں خطبوں کے ذریعےعوام کوخوب اکسایا۔بعض واعظین نے تو یہاں تک حد کردی کہ کرونا وائرس مسجدوں میں نہیں آسکتا،بعض کے بیانات یہاں تک سننے میں آئے کہ کرونا وائرس نبی کے عاشقوں کو نہیں لگ سکتا۔حالنکہ یہ حقیقت بھی ان کے سامنے تھی کہ طاعون کی بیماری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہزاروں جانثاروں اور عشاق پر حملہ کیا اور اسی بیماری میں انکی شھادت ہوئی۔امین الامت حضرت ابوعبیدہ بن الجراح جیسے عظیم لوگ بھی طاعون کے وائرس کا شکار ہوئے تھے۔تو یہ کہنا کہ کرونا وائرس نبی کے عاشقوں کو نہیں لگ سکتا،یا مسجد میں نہیں آسکتا،یہ کس دلیل کی بنیاد پر ہے اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔
اس ملک میں علماء کرام نے1973ء کے آئین کی تشکیل میں بہت بھرپور کردار ادا کیا تھا۔آج ہمیں آئین میں جو اسلامی دفعات موجود نظر آتی ہیں یہ انہی بزرگان اور اکابر علماء کی کاوشوں کا ثمر ہے۔وہ آنے والے مذہبی قائدین کے لیے بہت مضبوط بنیاد رکھ کے گئے تھے۔وہ اس بنیاد پر اسلامی نظام کے نفاذ کی عمارت کو استوار کر سکتے تھےمگر وہ ایسا نہ کرسکے۔اسکی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں کا ان سیاسی جماعتوں کا بی ٹیم بن جانا ہے جو سیاسی جماعتیں پاکستان میں سیکولرزم اور الحاد کو فروغ دے رہی ہیں۔نتیجتا آج کوئی مذہبی سیاسی جماعت نفاذ اسلام کے ایجنڈے پر عمل نہیں کررہی اور نہ نفاذ اسلام کے لیے تگ ودو ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔مذہب کو صرف اور صرف سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔آج بھی ان دگرگوں حالات میں مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے ،سیکولر سیاسی جماعتوں کے مقاصد کی تکمیل کے لیے مسجداور مدرسہ کو استعمال کررہے ہیں۔ ان مذہبی پردھان منتریوں کے ذریعہ علماء اور ائمہ پر سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔کل کی پریس کانفرنس میں شرکت کرنے والے قائدین پر اگر غور کریں تو آپکو پورا پس منظر نظر سمجھ آجائے گا۔اس میں سب سیاسی جماعتوں کی تیسرے درجہ کی قیادت تشریف فرما تھی۔دینی مدارس کی انجمن کے جھنڈے کے نیچے سیاسی رہنماؤں کا آنا بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔اب سیاسی جماعتیں ان علماء کے کاندھے استعمال کر کے حکومت پر وار کررہی ہیں۔اس دفعہ بالواسطہ طور پر مذہبی کارڈ استعمال کیا جارہا ہےتاکہ کرونا کی آزمائش میں پھنسی حکومت کو اور مشکل سے دوچار کیا جائے۔ورنہ کیا تُک بنتی ہے کہ ایک طرف وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے اور دوسری طرف علمائے کرام مساجد کو کھولنے کا پریس کانفرنس کے ذریعہ اعلان کررہے ہیں۔وفاقی کابینہ کے فیصلہ کا انتظار بھی نہیں کیا گیا۔آخر علماء کو حکومت کے آمنے سامنے کھڑا کرنے کی حکمت عملی کون ترتیب دے رہا ہے۔میں نے پہلے بھی متعدد دفعہ لکھا ہے اور آج پھر اسے دہرارہا ہوں کہ استعماری قوتوں کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ اسلامی ممالک کی حکومتیں کمزور ہوں اور ان کے اشاروں پر ناچیں اور دوسرا اسلامی ممالک کی افواج نہایت کمزرو ہوں تاکہ وہ وقت آنے پر اپنی ریاست کا دفاع نہ کرسکیں۔عراق لیبیا اور شام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔میری یہ بہت سوچی سمجھی رائے ہے کہ جو حکومت یا فوج کو کمزور کرنا چاہتا ہے وہ استعمار کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔
یہ بہت قابل افسوس بات ہے کہ ایک وقت میں ہمارے علماء نے حکومتی لاک ڈاؤن کی مخالفت کی مگر جب حکومت نے سختی کی تو انہوں نے اسکی حمایت کردی۔علماء کی یہ شان نہیں ہے۔انہیں ہر حال میں حق بات کا علمبردار رہنا چاہییے۔اگر قید وبند کی صعوبتیں کلمہ حق سے دستبردار کرادیں تو پھر پہلے ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔آج سے کہیں سخت حکومتوں کے مقابلے میں ہمارے اکابر علماء نےبہت ثابت قدمی دکھائی تھی اور انہیں کوڑےمارے گئے،وہ پھر بھی کلمہ حق کہنے سے باز نہ آئے۔حتی انہیں زہر دیکر شھید کردیا گیا مگر وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ علماء کی یہ شان نہیں ہے کہ ان کے موقف میں تضاد ہو۔ایک طرف ہمارے علماءیہ کہتے ہیں کہ نماز کے بعد ذکر بالجہر کرنے کی وجہ سے ہم پوری دنیائے اسلام میں تنہاء ہوگئے ہیں اس لیے ہمیں اسکو بند کردینا چاہیے۔بلکہ یہاں تک فرما دیا گیا کہ ہمیں اپنے عقائد کو ریوائز کرنا چاہیے۔دوسری طرف کرونا وائرس کے باب میں شرق تاغرب شمال تا جنوب پوری دنیا مساجد کی بندش کے سلسلہ میں ایک نقطئہ نظر پر اکٹھی ہے جبکہ ہمارے علماء نے دنیائےاسلام سے ایک الگ موقف لیا ہے۔یہاں انہیں یہ خیال کیوں نہ آیا کہ ہم کرونا وائرس میں اپنے موقف کے اعتبار سے پوری دنیا سے الگ تھلگ ہوگئے۔سوال تو پھر اٹھے گا کہ اہل سنت کی مساجد سے ذکر بالجہر کی صداؤں کو آپ کس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیےخاموش کرنا چاہتے ہیں؟؟۔
میں اپنی معروضات کا اختتام امام شافعی علیہ الرحمہ کے ایک بہت ہی اہم قول پر کرنا چاہوں گا۔آپ نے فرمایا”ثلثۃ اشیاء لیس لطبیب فیھا حیلۃ،الحماقۃ والطاعون،والھرم۔(الانتقاء،ص۔99)ترجمہ: تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن میں طبیب کا بھی کوئی حیلہ نہیں چلتا۔حماقت،طاعون اور بڑھاپا۔
میں نے کل عمومی طور پر ایک پوسٹ اپنی وال پہ لگائی تھی کہ جب وزیراعظم نے یہ اعلان کردیا تھا کہ مساجد کے حوالہ سے فیصلہ علماء کی مشاورت سے کیا جائے گا تو پھر اتنی جلد بازی کی کیا ضرورت تھی۔اس پر جن لوگوں نے طوفان بد تمیزی کھڑا کیا انکو میرا صرف یہی جواب ہے
عرفی تو مندیش زغوغائے رقیباں
کہ آواز سگاں کم نکند رزق گدارا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں