261

کرونا وائرس اور سازشی تھیوریاں۔ تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

کرونا وائرس اور سازشی تھیوریاں۔
کرونا وائرس لمحئہ موجود تک 196ممالک میں پھیل چکا ہے اور 15 ہزارسے زائد انسانوں کوموت کے گھاٹ اتار چکا ہے۔لاکوں افراد اب تک اسکا شکار ہوچکے ہیں۔دنیا اس کے سامنے بے بس ہوچکی ہے۔یورپ کاملک اٹلی جو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار کیا جاتا ہےوہ بھی اس کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہے۔اٹلی کی سڑکوں پر ہر طرف انسانوں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں،نفسیٰ نفسی کاعالم ہے۔اٹلی کے وزیراعظم کو اس صورت حال پر بے بسی کے عالم میں آنسو بہاتے دکھایا گیا ہےاور وہ کہہ رہا تھا”کرونا پر ہمارا کنٹرول نہیں رہا صرف خدا کے پاس ہی ہے”کوئی سوچ سکتا تھا کہ دنیا کا ترقی یافتہ اٹلی اپنی بے بسی پہ یوں آنسو بہائے گا۔اٹلی کی کرونا کے سامنے شکست تسلیم کرنے سے یہ بات متحقق ہوچکی ہے کہ انسان جتنی بھی ترقی کرلے وہ خدائی تدابیر کے سامنے بے بس ہے۔آج دنیا کے صف اول کے ممالک بھی کرونا کانام سن کر خوف سے کانپ کانپ جاتے ہیں۔۔ایران جو چالیس سالوں سے امریکی پابندیوں کا بہت دلیری سے سامنا کررہا ہے وہ بھی آج آئی ایم ایف سے امداد کے لیے درخواست کر چکا ہے۔دنیا سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ اس انسانی المیہ سے مقابلہ کرنے کےلیے امریکہ کو مجبور کرے کہ وہ ایران کو سخت پابندیوں سے آزاد کرے۔ہمارے پاس اس قیامت کا مقابلہ کرنے کے لیے مالی وسائل نہیں ہیں۔میرا اپنا وطن پاکستان بھی کرونا کی دلدل میں بہت بری طرح پھنس چکا ہے۔پورا ملک مقفل ہوچکا ہے اور عملا پاکستان کو فوج کے حوالے کیا جاچکا ہے کہ آزمائش کی ہر گھڑی میں اہل پاکستان کے لیے اوپر خدا اور نیچے فوج ہی کا سہارا ہے۔پاکستان کے ایک عظیم سپوت ڈاکٹر اسامہ جس نے کرونا کے سامنے بے جگری سے اپنی بہادری کے جوہر دکھائے،اپنی جان کی پرواہ نہ کی،کرونا سے متاثرین کا علاج کیا اور خود بھی اسی کرونا کا شکار ہوکر شھادت کے مقام تک پہنچ گئے۔پاکستان کے اس جانثار ڈاکٹر نے اپنی ڈاکٹر برادری کے لیے ایک مثال قائم کردی۔جب بھی پاکستان کی کرونا کے حوالہ سے تاریخ لکھی جائے گی تو اس فرزند پاکستان کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ اس خوفناک وبائی مرضepdamic میں بھی کچھ سیاستدان اپنی سیاست چمکانے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔کچھ صحافی وقت کو غنیمت جان کر اپنی بدبودار صحافت کا تعفن پھلارہے ہیں۔کچھ نام نہاد مولوی اپنی جھوٹی شہرت کے حصول کے لیے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔فیس بک پہ بھی اس پریشان کن وقت مین اختلافی پوسٹیں شئر کی جارہی ہیں۔کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ وائرس تفتان بارڈر سے آنے والے شیعہ پاکستانیوں کی وجہ سے پھیلا ہےاور اس کا ذمہ دار وزیراعظم کا معاون خصوصی زلفی بخاری ہے۔ان کے اس دعوی کی قلعی اس وقت کھل گئی جب بہارہ کہو کی ایک مسجد سےسہ روزہ چلہ پہ آئے ہوئے تبلیغی جماعت کے تین افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی۔اب ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے کہ کیا یہ تبلیغی بھی تفتان بارڈر سے آئے تھے؟.
الغرض ایک طرف حکومت اپنے کم ترین وسائل میں کرونا سے نبردآزماہے تو دوسری طرف اسے مختلف سازشی تھیوریز کا سامنا ہے۔حالانکہ یہ وہ موقع ہوتا ہے کہ جب قومیں اپنے اندرونی اختلافات بھلا کر آنے والی آفات کا یک جان ہوکر مقابلہ کرتی ہیں۔گزشتہ کل وزیراعظم پاکستان نے پاکستانی صحافت کے سینئر صحافیوں کی ایک پریس کانفرنس میں عوام کی مشکلات کا ذکر کیا اور ان مشکلات کو حل کرنے کے لیے 880 ارب کے مراعاتی پیکج کا اعلان بھی کیا۔پٹرولیم کی مصنوعات میں 15 روپئے فی لیٹر تک کمی کی،اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ حاجتمند خاندانوں کی 3ہزارروپئےماہانہ مالی معاونت کا اعلان بھی کیا۔دہاڑی دار مزدوروں کے لیے 200 ارب روپئے مختص کیے۔50 ارب روپئے میڈیکل ورکرز کو طبی سہولیات دینے کے لیے مختص کرنے کا بھی اعلان کیا۔حکومت کا یہ ایک نہایت اچھا فیصلہ ہے۔لیکن اس پر مکمل درآمد بھی ہونا چاہیے اور “حق بحق دار رسید”کی پالیسی پر مکمل ہوگا تو عوام کو کچھ ریلیف ملے گا۔اعلانات تو اچھے ہیں اگر ان پر عمل درآمد ہوا تو حکومتی ساکھ بہتر ہوگی۔
اس پورے المیہ میں ابھی تک جو بہت ہی قابل افسوس بات ہے وہ مذہبی طبقہ کی ہٹ دھرمی اورجہالت ہے۔الزام تراشیوں کی انتہاء ہے کوئی اسے شیعہ وائرس کہہ رہا ہے تو کوئی وہابی۔ایک سے ایک بڑھ کر روحانی علاج اور ٹوٹکے بتائے جارہے ہیں۔ہمارے مسلک کے بعض بے وقوفوں نے یہاں تک اعلان “فرما”دیا ہے کہ ہم اہل سنت ہیں اور اہل سنت پر کوئی وائرس حملہ نہیں کرسکتا۔مدرسوں اور مسجدوں کو ویران کرکے نعت خوانی کی محفلوں پر لاکھوں روپئے خرچ کرنے والےاور عمرے کے ٹکٹ فضول میں بانٹے والی قوم سے اس سے زیادہ کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ان عقل کے اندھوں سے پوچھا جائے کہ ہزاروں کی تعداد مین طاعون کے وائرس سے شھید ہونے والے صحابہ کیا اہل سنت نہیں تھے؟۔کیا تم ابوعبیدہ بن الجراح سے زیادہ رسول اللہ کے عاشق ہو جنکی شان میں میرے رسول نے فرمایاتھا: لکل امت امین وامین ھذہ الامۃ ابوعیبدہ بن الجراح۔کہ ہر امت کا ایک امین ہے اور میری امت کا امین ابوعبیدہ ہے۔یہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے بدر کے مقام پر رسول اللہ کے مقابلہ میں آنے والے اپنے باپ کو قتل کردیا تھا۔یہ طاعون کے وائرس سے شھید ہوئے۔اسی طرح جلیل القدر صحابی حضرت معاذ بن جبل بھی طاعون کی وبا میں شھید ہوئے تھے۔یہ وہ ہستیاں ہیں جنکے ساتھ میرے رسول بہت محبت فرمایا کرتے تھے۔جب یہ وائرس کا شکار ہوگئے تو آپ کس باغ کی مولی ہیں۔؟؟اپنی دوکانداری برقرار رکھنے کے لیے سادہ لوح انسانوں کو آپ لوگ گمراہ کررہے ہیں۔یہ دنیا چند دن کی ہے گزر جائے گی۔اگر قیامت کے دن اللہ کے نبی نے تمہارے جھوٹ ،فریب اور دجل کی وجہ سے تمہیں دھتکار دیا تو کون سا دروازہ کھٹکٹاؤگے؟
اس مشکل کھڑی میں جو مولوی اہل پاکستان کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں یا مس گائیڈ کررہے ہیں وہ اس زمین کے بدترین باسی ہیں وہ ملک کے بھی دشمن اور دین کے بھی۔میری عوام الناس سے اپیل ہے کہ ان مداریوں کی باتوں پر بالکل کان نہ دھریں۔جو بات ڈاکٹرز اور حکومت کہہ رہی ہے ان ھدایات پر عمل کریں،خود بھی محفوظ رہیں اور اپنے خاندان کو بھی محفوظ رکھیں۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں