491

کرونا وائرس اور احکام شریعت۔ تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

کرونا وائرس اور احکام شریعت۔
چین کے شہر ووہان سے برآمدہونے والے کرونا وائرس نے ایک طرف عالمی معیشت پر بہت ہی خوفناک اثرات مرتب کیے ہیں اور دوسری طرف یہ وائرس انسانی جانوں کے ضیاع کے حوالہ سے بھی ایک وبائی (pandemic)شکل اختیار کر چکا ہے۔دنیا کے ایک سو ساٹھ(160) سے زائد ممالک میں یہ پھیل چکا ہے۔اس مہلک اور قاتل جرثومے کے اثرات سے مشرق ومغرب بلاامتیاز متاثر ہیں۔ایک فرد سے دوسرے فرد کی طرف سفر کرنے والا یہ جرثومہ لاکھوں میل کا سفر طے کرکے چاردانگ عالم میں پھیل چکا ہے.ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق 17 مارچ 2020 تک پوری دنیا میں اسکی وجہ سے 7332 ہلاکتیں ہوچکی ہیں اور اس سے متاثرین کی کنفرم تعداد185387 تک پہنچ چکی ہے۔
اس نےدنیا کے ممالک کی معیشت کو کیسے متاثر کیا ہے۔کاروبار زندگی کو کیسے نقصان پہنچایا ہے الغرض اس پر مختلف زاویوں سے اظہار خیال کیا جاسکتا ہے مگر ہم اس وبائی مرض کے احکام شریعت اسلامیہ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں،اس آرٹیکل میں ہم اسکا جائزہ لیں گے۔
اسلامی ممالک نے احتیاطی تدابیر لیتے ہوئے مساجد اور خانقاہوں کو مقفل کردیا ہے حتی کہ حرم کعبہ اور مسجد نبوی شریف کو بھی عمومی زائرین کے لیے بند کردیا ہے۔عراق کے شہر نجف اشرف میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مزار، کربلائے معلیٰ میں سید الشھداء امام عالی مقام حضرت امام حسین اور حضرت غازی عباس علمدار کے مزارات بھی سیل کردیے گئے ہیں۔بغداد میں حضور غوث اعظم الشیخ عبد القادر جیلانی اور امام اعظم ابو حنیفہ کے مزارات بھی بند کردیے گئے ہیں۔سعودی عرب،کویت ایران اورعراق میں بڑے اجتماعات پر پابندی لگادی گئی ہے اور جمعۃ المبارک کے اجتماعات بھی عارضی طور پر بند کردیے گئے ہیں۔پاکستان میں حکومت پاکستان نے تمام تعلیمی ادارےاورمدارس کو 5 اپریل 2020 تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔دیگر اسلامی ممالک میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اہل مسجد اور اہل مدرسہ حکومت وقت کے فیصلوں پر تنقید کرنےکی طاقت بالکل نہیں رکھتے۔خصوصا جہاں بادشاہتیں قائم ہیں وہاں تو کئی ایک دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک عالم دین کو دوران خطبہ ہی بہت بے رحم طریقے سے دبوچ کر حوالات بھیج دیا جاتا ہے۔نہ مسجد کے تقدس کا خیال اور نہ منبر اور عالم دین کی عزت کا خیال کیا جاتا ہے۔لیکن پاکستان میں یہ صورت حال نہیں ہے۔یہاں اہل مذہب بہت طاقتور ہیں۔اس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب حکومت نے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا اعلان کیا تو اس پر مدارس کو بند نہیں کیا گیا بلکہ دوسرے دن دینی مدارس کے بورڈز نے اپنے نوٹیفکیشنز میں یہ بات واضح طور پر مینشن کی کہ حکومت کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے ہم مدارس کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔میرا اپناذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ پاکستان میں علماءکرام حکومتوں کی طرف سے مذہب کے حوالہ سے کیے گئے ہر فیصلے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ حکومتیں مذہب کے حوالہ سے فیصلے پاکستانی عوام کی خواہشات کے مطابق نہیں بلکہ مغربی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کرتی ہیں۔یہ سوچ عمومی طور پاکستان میں اہل مذہب کی اکثریت کی ہے۔یہ سوچ رکھنے میں وہ حق بجانب بھی ہیں کیونکہ حکومتیں اس حوالہ سے بہت بدنام رہی ہیں۔حکومتوں کے اس رویہ اور بعض دیگر حالات نے علماءکرام کے ذہنوں کو بہت سخت(regid) بنا دیا ہے.اس سختی کی وجہ سے علماء کرام بعض مفاد عامہ کے معاملات میں سخت رویہ اپناتے ہیں جسکا نقصان یہ ہورہا ہے کہ پاکستان کے عوام علماء سے دور بھاگتے ہیں اور ان کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔میری رائے ہے کہ ہمارے علمائے کرام کو مفاد عامہ کے معاملات میں سختی کے بجائے لچک (flexibilty) دکھانی چاہیے۔اگر ہم اپنی علمی تاریخ پر نظر دوڑائیں توپتہ چلتا ہےکہ فقہاء نے اپنی زندگیاں دین کے معاملے میں عوام کے لیے قرآن وسنت کی روشنی میں آسانی پیدا کرنے کے لیےوقف کی ہیں نہ کہ اسلامی احکام کو اور زیادہ مشکل کرنے میں۔فقہ کا مقصد آسانیاں ہیدا کرنا ہے اور عوام کی مشکلات کو حل کرنا ہے۔
موجودہ حکومت نے ملک میں تمام اجتماعات منعقد کرنے پر پابندی لگادی ہے۔ مسجد میں پنج وقتہ نمازاور جمعۃ المبارک کے اجتماعات پر ابھی تک پابندی نہیں لگائی گئی حالنکہ یہ بھی اجتماعات ہی ہیں۔وہ ان پر پابندی لگانے میں اس لیےتذبذب کا شکار ہے کہ کہیں کوئی مذہبی ایشو نہ کھڑا ہوجائے اور ملک ایک اور دلدل میں نہ پھنس جائے۔
شریعت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ حالات وواقعات کے بدل جانے سے شرعی احکام میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں جب شدید قحط پڑا تو آپ نے چور کی سزا قطع ید(ہاتھ کاٹنے) کو وقتی طور پر معطل کردیا تھا حالنکہ یہ سزا حدوداللہ میں سے ہے۔اس وقتی تعطل پر کسی نے اعتراض نہیں کیا کیونکہ اس کے پیچھے کوئی معاشی ایجنڈا نہیں تھا بلکہ مفاد عامہ اور دفع ضرر کی بنیاد پر آپ نے اس سزا کو معطل کیا تھا۔آپ نے فرمایا کہ اب لوگ چوری بطور پیشہ نہیں کررہے بلکہ مجبوری کے عالم مین جان بچانے کے لیے کررہے ہیں۔اس لیے ان کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔اس غیر معمولی صورت حال میں بھی عوام کے ساتھ محبت اور انکے ساتھ ہمدردی کے جذبات کا اظہار عوام کو حکمران کی للھیت اور اخلاص کا گواہ بننے پر مجبور کرتا ہے اور وہ حکمران کے کہنے پر سر تسلیم خم کرتے ہیں اگرچہ وہ قرآنی احکام کو ہی عارضی طور پر معطل کیوں نہ کردے۔عمر فاروق صبح کے وقت معمول کے مطابق بازار کا گشت کررہے ہیں۔کیا دیکھتے ہیں کہ ایک جگہ پر افراد کا جمگھٹا ہے۔آپ صورت حال معلوم کرنے آگے بڑھتے ہیں۔کیا دیکھتے ہیں کہ نحیف وناتوان اونٹوں میں ایک بہت ہی موٹا تازہ اونٹ کھڑا ہے۔لوگ اس پر بولی دے رہے ہیں اور اسکو بہت ہی عجیب اور حیرت زدہ نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔لوگوں سے پوچھا کہ یہ اونٹ کس کا ہے۔جواب ملا کہ یہ آپکے بیٹے عبد اللہ کا ہے۔آپ فورا عبد اللہ بن عمر کے گھر گئے باہر سے ہی آواز دی۔جب عبداللہ باہر آئےتو آپ نے اونٹ کی نشانیاں بتا کر پوچھا کہ یہ اونٹ تو نے منڈی میں بھیجا ہے؟۔ابن عمر نے ہاں میں جواب دیا۔آپ نے فرمایا : فورا جاؤ اور خود اونٹ بیچو اور ایک عام اونٹ کی قیمت اپنے پاس رکھ کر باقی ساری رقم بیت المال میں جمع کرا دو۔کیونکہ تیرے اونٹ کو دیکھ کر لوگ کہتے ہونگے کہ یہ امیرالمؤمنین کے بیٹے کا اونٹ ہے اسے چرنے دو اور اسے پہلے پانی پینے دو۔اس لیے یہ اونٹ موٹا تازہ ہوگیا ہوگا۔اس اونٹ کے موٹا تازہ ہونے میں تمہارے نہ چاہتے ہوئے بھی میرا مقام و مرتبہ استعمال ہوا ہے جبکہ یہ مقام و مرتبہ پوری امت مسلمہ کی امانت ہے۔اس لیے اس اونٹ کے منافع میں پوری امت کا حق ہے۔
جب اس قسم کی ایمانداری اور اخلاص عوام الناس دیکھتے ہیں تو وہ خود بخود حکمران کی حسن نیت کی گواہی دیتے ہیں۔لیکن ہمارے ملک میں حکمرانوں نے مغربی ایجنڈے کو آگے بڑھایا اور اسلامی روایات اور اسلام کے بطور مذہب ذرا بھی پرواہ نہیں کی۔اسلیے یہاں عوام وخواص حکمرانوں کو اسلام کے ساتھ مخلص نہیں سمجھتے۔
ہمارے ہاں یہ بحث چل رہی ہے کہ جب حکومت نے اجتماعات پر پابندی لگا دی ہے توکیانماز پنجگانہ اور جمعۃ المبارک باجماعت پڑھنا چاہیے یا ان نمازوں کو فرادیٰ فرادیٰ گھروں میں ہی ادا کرنا چاہیے۔ہمارے بعض جید علماء نے کہا ہے کہ نماز باجماعت کسی صورت بھی معطل نہیں کی جاسکتی۔انہوں نے نماز خوف کو بطور دلیل پیش کیا ہے کہ جب حالت جنگ میں نماز کی باجماعت ادائیگی ساقط نہیں ہوئی تو اس موجودہ صورت حال میں بھی ساقط نہیں ہوسکتی۔ہمارے لیے تمام علمائے کرام قابل احترام ہیں اور چونکہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے اس لیے اس پر صاحبان علم ودانش کو ضرور اظہار خیال کرنا چاہیے۔میری دانست میں نماز خوف سے استدلال درست نہیں ہےکیونکہ یہ نماز صرف اور صرف حالت جنگ میں ادا کی جاتی ہےاور ظاہرہے کہ دارالحرب اور سرحدات کے احکام دارالامن اور شہروں پر لاگو نہیں کیے جاسکتے۔تاریخ اسلام میں یہ کسی دور میں نہیں ہوا کہ میدان جنگ میں نماز خوف پڑھنے والوں کی اتباع میں دارالامن میں سکونت پذیر عوام نے بھی اسی طرح صلوۃ الخوف ادا کی ہو۔اس لیے صلوۃ الخوف سے استدلال درست نہ ہوگا۔ہمارے سامنے ایک اور نظیر بھی موجود ہے جس میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےمعرکئہ خندق میں صحیحین کی روایت کے مطابق نماز عصر وقت پہ ادا نہ فرمائی حتی کہ سورج غروب ہوگیا اور بعض دیگر محدثین(مسند احمد و مسند شافعی) کی روایات کےمطابق ظہر عصر مغرب اورعشاء سے مشرکین نے آپکو روکے رکھااور آپ نے یہ نمازیں ادا نہ فرمائیں۔لیکن اس موقع پر آپ نے صلوۃ الخوف ادا نہیں فرمائی اور نہ ہی مجاہدین کو دو صفوں میں تقسیم فرمایا۔آپ نے پھر رات کو تمام نمازیں اکٹھی ادا فرمائیں۔اس جنگ میں آپ نے نماز باجماعت کو معطل ہی نہیں فرمایابلکہ نمازیں سرے سے وقت پر ادا ہی نہیں فرمائیں۔اسی طرح خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور پرنور میں شدید بارش کی صورت میں آپ نے متعدد دفعہ مؤذن کو حکم ارشاد فرمایا کہ وہ آذان میں اعلان کردیں کہ لوگ نماز ادا کرنے مسجد میں نہ آئیں بلکہ گھروں میں ہی ادا کریں۔حضرت عبد اللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مؤذن شدید بارش اور تیز ہواؤں والی سرد رات میں اعلان کردیا کرتا تھا”صلوا فی رحالکم۔یعنی اپنےگھروں میں ہی نماز ادا کرلو”(نسائی، کتاب الآذان،وابن ماجہ)
دوستوں کا یہ کہنا کہ پوری اسلامی تاریخ میں نماز باجماعت کو معطل نہیں کیا گیا،میرے خیال کے مطابق یہ بات درست نہیں۔میں اپنے قابل قدر علماء کی خدمت میں عرض کرونگا کہ تاریخ میں متعدد دفعہ طاؤن کی بیماری دنیا میں پھیلی اور لاکھوں نہیں کروڑوں جانیں لقمئہ اجل بنیں۔اس دوران مسجدیں مقفل ہوگئیں حتی کہ مسجد میں کوئی آذان دینے والا بھی نہیں تھا۔امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں لکھا ہے کہ 448ھ میں مصر اور اندلس میں ایسا قحط پڑا اور وباپھیلی کہ مسجدوں میں کوئی نماز پڑھنے والا نہیں ملتا تھا۔تاریخ میں یہ قحط “الجوع الکبیر” کہلاتا ہے.سیراعلام النبلاء(411/18)
اسی طرح علامہ مقریزی نے اپنی کتاب السلوک میں لکھا ہے کہ749ھ میں ایک خوفناک طاؤن پھیلا” اس طاؤن کی وجہ سےبہت سے مقامات پر آذان معطل ہوگئی،مشہور علاقوں میں صرف ایک آذان ہوتی تھی۔اکثر مساجد اور خانقاہیں بند کردی گئیں اور لوگوں نے تقریبات اور شادیوں کا سلسلہ موقوف کردیا۔(السلوک4/88)تاریخ میں اس طاؤن کو سیاہ طاؤن(Black death) کہتے ہیں۔
اس لیے میری دانست کے مطابق اس موذی مرض کے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیےاگر حکومت نماز باجماعت یا جمعہ کے اجتماعات کو چند دنوں کے لیے معطل کرتی ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔کیونکہ ایک انسان کی جان تلف کرنا، پوری انسانیت کی جان تلف کرنے کے برابر ہے اور ایک جان کو بچانا گویا پوری انسانیت کی جان بچانا ہے۔
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں