mufti gulzar ahmed aneemi 299

کربلاء ونجف . مفتی گلزار احمد نعیمی

کربلاء ونجف
آج ہم بغداد سے کربلاء معلی جارہے ہیں۔میری شدید خواہش تھی کہ یہ سفر ہوائی کی بجائے بری ہو تاکہ عراق کی سرزمین کو تفصیلا دیکھا جاسکے۔سو ابھی ہم بغداد کے علاقےالکرہ سے گزررہے ہیں۔یہ بغداد کا پوش علاقہ ہے۔ہمارے لبنانی دوست علماءجو اس سفر میں شریک ہیں،نہایت ہی خوش عقیدہ ہیں۔مزارات پہ حاضری کا بہت ہی شوق رکھتے ہیں اور مزارات پر ہاتھ اٹھا کے دعا بھی بالکل اسی طرح مانگتے ہیں جیسے ہم لوگ مانگتے ہیں۔گاڑی میں ساز کے ساتھ بہت ہی خوبصورت قوالی بھی سن رہے ہیں۔ان لوگوں کے ساتھ دوستی بہت خوشکن ہے۔بدعقیدگی کے اس سیلاب میں عرب دنیا میں بہت سے صاحبان علم و دانش ایسے ہیں جو اپنے آباء کے روحانی عقائد پر نہ صرف قائم ہیں بلکہ ان کی حفاظت کے لیے پہرہ بھی دے رہے ہیں۔
گانے والا کیاہی خوبصورتی سےسیدہ طیبہ طاہرہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کا قصیدہ گا رہا ہے۔
“صبت علی مصائب”
کھجور عربوں کی غذا بھی اور انکا پھل بھی۔سڑک کے دونوں طرف کھجوروں کے بہت ہی خوبصورت اور عالی شان باغات ہیں۔دجلہ کا مٹیالہ پانی کجھور کے ان درختوں کو سیراب کرتا ہے۔مجھے محسوس ہورہا ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کا کھیتی باڑی سے کوئی زیادہ شغف نہیں کہ تاحد نگاہ زمینیں ویران پڑی ہے۔منطقہ الشجیرہ میں سڑک پر واقع ایک ڈھابے پر گاڑی روکی گئی۔عربی گہوہ سب دوستوں کو پیش کیا گیا۔میں نے بھی پینے کی طبع آزمائی کی مگر کامیاب نہ ہوسکا،چینی کے دو چمچ ڈالنے کے بعد بھی کڑواہٹ ختم نہ ہوئی لیکن بڑی جرآت کے ساتھ دوچار گھونٹ پینے میں کامیاب ہوہی گیا۔میرے ہم سفر ساتھی کس اطمینان سے پی رہے تھے ،یہ انہی کا وصف ہے۔لو جی ہم سکندریہ پہنچ گئے ۔اس شھر کی بھی ایک اپنی تاریخ ہے۔
سڑک کے کناروں پر شھداء کی بڑی بڑی تصاویر بورڈز پر آویزاں ہیں۔عراق عرصئہ دراز سے حالت جنگ میں ہے۔پہلے صدام حسین نے ایران کے ساتھ کئی سال تک جنگ کی پھر کویت پر اس نے حملہ کیا۔اس کے بعد صدام رجیم کو ختم کرنے کے لیے امریکہ اس علاقہ پر قابض ہوا اور ابھی تک قابض ہے۔لیکن یہ ایک اچھا عمل ہے کہ عراقیوں نے اپنے شھداء کو یاد رکھا ہوا ہے۔اس سے دشمن کے خلاف لڑنے کا اور اپنی مٹی کی حفاظت کاجذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں ہمارے فوجی جوانوں علماء اور عوام الناس نے ملک میں پھیلی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ہمیں بھی ان شھداء کی قربانیوں کو زندہ رکھنے کے لیے بڑی شاہراؤں اور موٹرویز پر انکی تصاویر آویزاں کرنی چاہییں۔
بغداد سے کربلاء معلی تک ہم تقریبا ڈیڈڑھ گھنٹے میں پہنچے۔کربلاء سید الشھداء کی سرزمین ہے۔یہ حضرت غازی عباس علمدار کی شھادت گاہ ہے۔یہ عشق کی سرزمین ہے اور یہ اللہ کے نام پہ قربان ہونے والوں کا مسکن ہے۔ آپ کربلاء جائیں اور حضرت عباس اور امام عالی مقام حضرت حسین علیھما السلام کی بارگاہ میں حاضری دیں اور آپ کی آنکھوں سے آنسو نہ نکلیں تو سمجھ جائیں کہ آپکا دل عشق و محبت سے خالی ہے۔میری کیفیات کیا تھیں؟؟واللہ۔۔!اپنی کم مائیگی کا احساس اور اس دربار کی حاضری کوئی کرم ہی تھا اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔میں اپنے آپ کو بے حد گنہگار سمجھتا ہوں۔بارگاہ رب العلی میں سر اٹھاتے ہوئے شرمندگی اور ندامت محسوس کرتا ہوں مگر اس لحاظ سے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ اللہ سبحانہ وتعالی اپنے پیاروں کی زیارت کرا دیتا ہے۔بغداد میں حضور سیدی غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مقام پر حاضری،اعظمیہ میں سراج الائمہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے دربار پر حاضری،کاظمین میں امام موسی الکاظم علیہ السلام کے مقام کا شرف زیارت اور یہیں پر فقہ حنفی کے نامور امام اور تلمیذ خاص حضرت امام اعظم ابوحنیفہ جناب قاضی ابو یوسف علیہ الرحمہ کے دربار پر حاضری یقینا یہ بڑے مقدر کی بات ہے۔ان زیارات نے میرے دل کو بے حد سکون دیا اورمیرے ایمان کو جلا عطا فرمائی۔
یہاں سے فارغ ہوکرہم نجف اشرف کی طرف عازم سفر ہوئے۔مغرب کی نماز کا وقت ہوچکا تھا جب ہم نجف اشرف پہنچے۔زم زم ہوٹل میں ہم نے ٹھرنا تھا۔سامان رکھا اور وضو کرنے کے بعد سیدھے حضرت مولی علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں حاضری کا شرف پایا۔یہاں آکر دل بہت بے چین ہوا کہ دربار شریف بند تھا۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہاں ایک شخص میں کرونا وائرس ظاہر ہوا ہے جسکی وجہ سے انتظامیہ نےاحتیاطی تدابیر لیتے ہوئے دربار شریف بند کردیا ہے۔بہت پریشانی ہوئی مگر ہم نے باہر سے ہی حاضری لگوائی نماز ادا کی اور کافی دیر وہاں رکے رہےاور برکتیں سمیٹتے رہے۔۔میرے ساتھ سوڈانی دوست تھے جو فقہ مالکی کے مقلد تھے۔انہیں میں نے عرض کیا کہ آپ امامت فرمائیں لیکن انہوں زبردستی مجھے امامت کے لیے پکڑ کر امام بنا دیا۔فقہ مالکی جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں امام دار الھجرہ، فقہی مدینہ حضرت امام مالک علیہ الرحمہ کی تحقیق کا نچوڑ ہے۔مالکی فقہ کے مقلدین ہاتھ چھوڑ (ارسال)کے نماز پڑھتے ہیں اور رفع یدین بھی کرتے ہیں۔میں سوچ رہا تھا کہ اگر ہمارے ملک پاکستان میں فقہ مالکی کے مقلدین ہوتے تو شاید پاکستان میں ہاتھ چھوڑنے یا رفع یدین کرنے پر ہم ایک دوسرے کے اتنے خلاف نہ ہوتے۔مجھے اس مالکی دوست نےیہ کہہ کر اور بھی حیران کردیا کہ میں اکثر فتوی فقہ حنفی کے مطابق دیتا ہوں۔شام کھانے کی میز پرالشیخ احمد نثار سے طلاق ثلاثہ فی مجلس واحد پر تبادلہ خیال ہواتو انہوں نے کہا کہ ہم لبنان میں ایک مجلس میں دی گئی طلاق ثلاثہ کو ایک ہی شمار کرتے ہیں۔اور طلاق سکران کے عدم وقوع کا فتوی دیتے ہیں۔الشیخ احمد نثار لبنان کے نائب مفتی ہیں۔میں نےان سے کہا کہ ہم تو طلاق ثلاثہ فی مجلس واحد تین ہی شمار کرتے ہیں اور طلاق سکران(نشئی) کے واقع ہونے کا فتوی دیتے ہیں۔اور یہی ہمارےحنفی اکابرین کے فتاوی ہیں۔شیخ احمد نثار نے کہا کہ “فقہ کا مقصد آسانیاں پیدا کرنا ہے نہ کہ دین کو نہایت سخت بنا کر پیش کرنا”الشیخ نثار خود حنفی ہیں۔
میرا یہ سفر اس حوالہ سے نہایت ہی شاندار رہا کہ اس میں روحانی سکون بے حد وحساب تھا۔اللہ تعالی میری اس حاضری کو اپنے پیاروں اور اپنے دربار میں قبول فرمائے۔اور آنے والی آزمائیشوں میں سرخروئی کا سبب بنائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین
صلوۃ وسلام علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین الی یوم الدین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں