22

کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی!!!سعدیہ قریشی

7 / 100

خدا کے لیے ان بدکلامی کرنے والے گالیاں دینے والے اور کتاب کوایک دوسرے پر جوتوں کی طرح برسانے والے سیاسی جماعتوں کے ارکان کے ساتھ رہنما کے سابقے لاحقے استعمال کرنا بند کر دیں۔مجھے یقین ہے کہ رہنما لفظ ایسا نہیں جس کے معنی آپ کو فیروز اللغت میں ڈھونڈنا پڑیں۔تو چلئے اپنے دل کے آئینے میں جھانک کر پوچھیں کہ کیا رہنما ” ا یسے ہوتے ہیں۔جو طیش میں آکر اپنے اندر کی خباثت کو برداشت کی لگامیں ڈالنے سے قاصر ہوں۔ پھر جو ان کے کے منہ میں آئے بولتے چلے جائیں ان کا بس نہیں چلتا کہ کے منہ سے ایسی آگ نکالیں کہ مخالف کو بھسم کر کے رکھ دیں۔ جو کچھ ہاتھ میں آئے مخالف کے سر پر دے ماریں۔ جن جاہلوں کو کتاب کی حرمت کا اندازہ نہیں ان کے ناموں کے ساتھ سیاسی رہنما کے سابقے لاحقے استعمال کرنا حرف و لفظ کی حرمت کو پامال کرنے کے مترداف ہے۔یہ لفظوں کے مفہوم اور معنی کے ساتھ بددیانتی ہے۔جو تماشا قومی اسمبلی کے فلور پر برپا ہوا ،اس کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پہلی بار یہ ہوا ہے کہ سبھی ارکان نے باقاعدہ ہنگامہ برپا کیا ۔بجٹ اجلاس کے موقع پر شور شرابوں کی روایت بد قسمتی سے ہمارے ہاں موجود رہی ہے کہ وزیر خزانہ بجٹ کی تقریر کرتے ہیں تو اپوزیشن کے لوگ ڈیسک بجاتے ہیں۔ شور مچاتے ہیں اور یوں اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں ۔شوکت ترین کی تقریر کے دوران اپوزیشن کے بنچوں نے جو ہنگامہ کیا، اس کی بھی سو بار مذمت کرتے ہیں ۔پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ لیڈر آف اپوزیشن تقریر کرے تو حکومتی وزراء شور مچا کر ڈیسک بجا کر احتجاج کریں۔اقتدار کی طاقت آپ کے پاس ہے تو آپ بڑے ہیں۔ آپ پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور جس پر ذمہ داری عائد ہو، اسلیے برداشت اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ بھی زیادہ کرنا چاہیے۔تقریروں کے دوران احتجاج کرنا اپوزیشن کا کام ہے ۔یہ کام آپ گزشتہ حکومت میں بہت اچھے طریقے سے کرتے آئے ہیں لیکن خدا کے لئے اب آپ خود کو پہچانیں مملکت کی باگ ڈور آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ محض تحریک انصاف کی حکومت نہیں بلکہ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کی حکومت ہیں۔آپ کا کردار اس وقت وہ ہے جو گھر کے بڑے کا ہوتا ہے اس لیے تدبر، حکمت، برداشت اور رواداری آپ کو زیبا ہے ۔بھرا ہوا برتن بجتا نہیں خاموش ہوتا ہے۔پارلیمان کے ماحول کو بہتر رکھنے میں حکومت کا کردار اپوزیشن سے زیادہ اہم ہے۔ شہباز شریف کی تقریر پر سب سے پہلے ہمارے نستعلیق اردو بولنے والے وزیرخارجہ کھڑے ہوکر بینچ بجانے لگتے ہیں ،اس کے بعد شیریں مزاری اٹھتی ہیں اور بنچ بجاتی ہیں، اس کے بعد وہ دوسرے ارکان کو بھی ڈیسک بجاتے ہیں تاکہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر سنی نہ جا سکے۔یعنی کہ اسمبلی کے فلور پر ہنگامہ پروان چڑھانے میں سینئر حکومتی وزرا نے اہم کردار ادا کیا جنہیں پارلیمانی سیاست میں برسوں کا تجربہ تھا ۔ اسمبلی کے فلور پر بد تہذیبی کا جنگی میدان گرم ہوا اور میدان میں تازہ کار جنگجوؤں کو اتارا گیا۔پر لے درجے کی بدزبانی اور فحش گالم گلوچ کا مظاہرہ دونوں طرف کے اراکین نے کیا دونوں طرف کا رویہ قابل مذمت ہے۔ مجھے اس وقت زیادہ افسوس ہوا، جب میں نے کہ شیریں مزاری جیسی پڑھی لکھی قابل خاتون کو اس کریہہ منظر کا حصہ بنتے دیکھا۔ہیومن رائٹس کی سینئر وزیر شیریں مزاری پڑھی لکھی خاتون ہیں ،کئی دہائیوں تک صحافت سے وابستہ رہیں پھر سٹریٹجک سٹڈیز کے ایک ادارے کی ڈائریکٹر رہیں ،وہ بھی دونوں ہاتھ اپنے منہ کے قریب لا کر اونچی آواز میں چور چور کے نعرے لگا رہی تھی۔بدتہذیبی اور بدزبانی کا مظاہرہ ن لیگ کی طرف سے بھی ہوا جو اتنا ہی قابل مذمت ہے۔پولیٹیکل پولرائزیشن نے سیاسی جماعتوں کے درمیان منافرت اور تقسیم کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ ایک دوسرے کا وجود گوارا نہیں ہے۔ فکر انگیز سیاسی مباحث تو شاید کبھی بھی ہماری سیاست کی روایت نہیں رہے لیکن گھٹیا ترین سطح کی جو بدگوئی اب کے ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی۔اس بدترین دھینگا مشتی میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوںکے جو جو ارکان بھی شامل تھے، انہیں بطور سزا تین مہینے تک تنخواہوں اور مراعات سے محروم کردیا چاہیے۔ کل پی ٹی آئی کی ملیکہ بخاری اپنی آنکھوں پر پٹی باندھے ایک پروگرام میں شریک تھیں ۔یہ زخم ن لیگ کے ایک جنگجو کے کتاب مارنے سے انہیں لگا۔کتاب کا یہ ہتھیار ایک سارجنٹ کو بھی زخمی کر گیا۔ بجٹ کتاب کو جوتوں کی طرح ایک دوسرے کے اوپر برساتے یہ نام نہاد سیاسی رہمنا کیکٹس میں بدلتے ہوئے اس سماج کے زوال کا استعارہ ہیں۔ سماج کے لیے اس سے بڑی بدشگونی کیا ہوگی کہ کتاب کو پڑھنے کی بجائے ایک دوسرے کو مارنے کے لیے استعمال کیا گیا۔اور اس کے ادھر ادھر اڑتے پھرتے کٹے پھٹے صفحات پر جوتے رکھے جائیں۔ افتخار عارف کی ایک لازوال نظم ایک علامت کے طور پر یاد آرہی ہے، اس کی تہہ دار معنوی علامت کے آئینے میں زوال آثار سیاسی ماحول کا بدصورت چہرہ دیکھئے: بد شگونی عجب گھڑی تھی کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی اب اس سے پہلے کہ رات اپنی کمند ڈالے یہ چاہتا ہوں کہ لوٹ جاؤں عجب نہیں وہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ہو عجب نہیں آج بھی میری راہ دیکھتی ہو چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسو ہوا و حرص و ہوس کی سب گرد صاف کر دیں عجب نہیں میرے لفظ مجھ کو معاف کر دیں عجب گھڑی تھی کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی۔۔!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں