110

کتاب بینی اور انسان .ڈاکٹر ساجد خاکوانی(قلم کاروان،اسلام آباد)

حضرت انسان اور کتاب کا رشتہ بہت قدیم ہے، اولین معلمین انسانیت،انبیاء علیھم السلام،نے آسمانی ہدایت کو کتب و صحائف کے ذریعے ہی انسانوں میں متعارف کرایااور جب ان مقدس ہستیوں نے اس دنیاسے پردہ فرمایاتواپنے ترکے میں مال و زر اورجاہ و جلال و جائداوسلطنت واقتدارکی بجائے علوم کتب کا ترکہ چھوڑ کر گئے۔ایک حدیث نبویﷺکے مطابق کم و بیش تین سو تیرہ کتب آسمان سے نازل کی گئیں جن میں چار کا ذکر بصراحت قرآن مجید میں موجود ہے جب کہ اس دنیا میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جس کے پاس حضرت نوح علیہ السلام سے منسوب ایک کتاب موجود ہے جن کا شمار انسانیت کے قدیم ترین اوراولین انبیاء علیھم السلام میں ہوتاہے۔کتاب ہمیشہ سے سنجیدہ انسانوں کی شناخت رہی ہے اور طالب علم کے لیے کتاب ایک زیور کی حیثیت رکھتی ہے،تنہائی کی بہترین ساتھی ہے اورپریشانی میں مسائل کامداواپیش کرتی ہے۔انسانیت کا سب سے پہلا استاد،خالق کائنات،اللہ تعالی کو کتاب سے نسبت اس حد تک پسند ہے کہ اس نے اپنے نبیوں کے ماننے والوں کو اہل کتاب کے نام سے یادکیاہے خواہ وہ یہودی ہوں،مسیحی ہوں یامسلمان ہوں اور یہ اس لیے کہ اس نے آسمان سے ہدایت کے سامان کے طور پر کتب کے نزول کو پسند فرمایا۔کتاب کا لفظ ذہن میں آتے ہی صفحات کی ایک مجلدشکل ذہن میں ابھرتی ہے لیکن ایک زمانے میں پتھرپر لکھی ہوئی کتب دستیاب ہواکرتی تھیں اور ظاہر ہے ان کی تدوین،حفاظت اور ایک جگہ سے دوسری جگہ انتقال نہایت ہی ایک دقت طلب امرتھالیکن اس کے باوجود انبیاء علیھم السلام اور انکے مقدس پیروکاروں نے اپنی کتب کو اگلی نسلوں تک خوب خوب پہنچایا۔
اللہ تعالی نے قلم کااستعمال سب سے پہلے حضرت ادریس علیہ السلام کو سکھایاتھاجس کے بعد سے قبیلہ بنی نوع انسان میں کتابت کے عمل کاآغازہوا۔انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق انسان کااولین فن تحریر تصویری نوعیت کاتھااور انسان نے اپنے جذبات اوراحساسات کے اظہار کے لیے تصاویرکے وسیلے کواپنایا،آہستہ آہستہ زبان سے نکلے گئے الفاظ کو پتھروں پر ایک خاص شکل دی جانے لگی لیکن چونکہ پتھرپر نقوش کامرتب کرنااپنی کمیت،حجم اور وزن کے اعتبارسے ایک مشکل امرتھااس لیے بہت جلدانسان نے اس مقصد کے لیے لکڑی کااستعمال شروع کردیاجواگرچہ پتھرکی نسبت آسان تر مراحل کی حامل تھی لیکن اپنی مدت حیات میں کسی طور بھی پتھرکامقابلہ کرنے سے قاصرتھی اوربوجوہ بہت جلداپنے انجام تک پہنچ جاتی تھی۔تب انسان نے مٹی کی بنی ہوئی تختیاں استعمال کرناشروع کیں جوکہ قبل از تاریخ کے ”موسپوطینی“دورسے کم و بیش ساتویں صدی قبل مسیح تک بکثرت استعمال ہوتی رہیں۔ایک تکوناہتھیارکے ذریعے مٹی کی تختیوں پر حروف کندہ کیے جاتے تھے اورپھران تختیوں کوآگ کی بھٹی میں خوب پکایاجاتاتھاجس سے وہ ایک زمانے تک ناقابل تسخیردستاویزکی شکل اختیار لیتی تھیں۔”نینوا“جواپنے وقت میں دنیاکاسب سے بڑا شہرتھااورجوعراق کی قدیم تہذیب بھی سمجھی جاتی ہے 612ق م کی بنی ہوئی بائس ہزار تختیاں یہاں سے ملی ہیں جن پر اس زمانے کی تحریریں نقش ہیں۔جرمنی،چلی اور افریقہ کے صحرااعظم ”صحارا“میں مٹی کی تختیاں انیسویں صدی کے آخر تک بھی لکھی جاتی رہیں۔
قدیم مصر کی تہذیب تدوین کتب میں بہت عمدہ اور ترقی یافتہ تھی،وہ لوگ ایک خاص قسم کے درخت ”نرسل“(papyrus)کی شاخوں سے کسی طرح کامحلول کشید کرتے تھے جو سیاہی یاروشنائی کاکام دیتاتھااور پھر پرندوں کے پروں کوایک خاص انداز سے کاٹ کر ان سے قلم کاکام لیتے تھے۔اسی طرح درخت کے پتوں کوایک خاص اندازسے تیارکرکے تواس پر مقدس کتب کے احکامات یا بادشاہوں کے فرامین نقل کر لیاکرتے تھے۔پیپرس کے درخت کی بنی کتابوں کے ورق ایک دوسرے پررکھ کرانہیں اکٹھاکرکے گول گول موڑ لیاجاتاتھا اور بعض اوقات ان کی لمبائی دس میٹر سے بھی زائدہو جاتی تھی۔اس طرح کی کتب فراعین مصرکے اہراموں سے ملی ہے،رامسیس سوئم کی مرتب کردہ تاریخ چالیس میٹر طویل کتاب پر لکھی گئی ہے،ایک ایک صفحے پرکئی کئی کالم بنائے ئے ہیں اور کتاب کے اوراق کو بڑی نفاست سے محفوظ کیاگیاہے۔کھال اور ہڈیوں پر لکھنے کاآغازقدیم چین کی تہذیب سے ہوااور انسانی وسائل بتاتے ہیں کہ تاریخ میں سب سے پہلے کاغذکی ایجادچین کے اندر پہلی صدی عیسوی میں ہی ہو چکی تھی۔اگرچہ یہ کاغذ ابتدائی طرزکے گتے کی مانند تھا تاہم کتاب کی تاریخ میں ایک عہدساز پیش رفت تھی جس کا سہرا چینیوں کے سر جاتاہے۔ابتدائی کے طرز کے اس کاغذپر برش نما کسی قلم سے جس کی دم میں بہت سے بال ہوتے تھے،لکھاجاتاتھے۔چینیوں کی اس میدان میں ایک اور اہم اور نمایاں کامیابی طباعت کاعمل ہے جس کاآغاز بھی چینیوں کے ہاں سے ہوااور ابتدائی طور پر طبع کی ہوئی کتب میں بدھ مت کے احکامات لکھے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں