34

کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو ایونٹ میں ریکارڈ تھرو کر کے طلائی تمغہ جیتنے والے ارشد ندیم کون ہیں؟

کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو ایونٹ میں ریکارڈ تھرو کر کے طلائی تمغہ جیتنے والے ارشد ندیم کون ہیں؟
اکستان کے 25 سالہ ایتھلیٹ ارشد ندیم نے برطانیہ کے شہر برمنگھم میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں جیولن تھرو ایونٹ میں نہ صرف طلائی تغمہ جیت لیا ہے بلکہ 90.18 میٹر کی تھرو کے ساتھ کامن ویلتھ گیمز ریکارڈ بھی قائم کر لیا ہے۔یہ گذشتہ 60 برسوں میں کامن ویلتھ گیمز کے ٹریک اینڈ فیلڈ مقابلوں میں پاکستان کا پہلا طلائی تمغہ ہے اور ارشد وہ پہلے جنوبی ایشیائی ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے جیولن تھرو ایونٹ میں 90 میٹر سے زیادہ کی تھرو کی ہے۔
انھوں نے ایونٹ میں اپنی پانچویں تھرو میں جیولن 90.18 میٹر دور پھینک کر طلائی تمغہ حاصل کیا۔ یہ تھرو اب نہ صرف ایک کامن ویلتھ گیمز ریکارڈ ہے بلکہ ارشد وہ پہلے پاکستانی ہیں جنھوں نے 90 میٹر سے زیادہ کی جیولن تھرو کی ہے۔ارشد ندیم نے جب ایونٹ میں اپنی پہلی جیولن پھینکی تو یہ 86.81 میٹر دور جا کر گری۔ ان کی دوسری باری ضائع ہوئی تاہم تیسری مرتبہ 88 میٹر دور جیولن تھرو کر کے انھوں نے واضح سبقت حاصل کی۔
اس دوران گریناڈا کے اینڈرسن پیٹرز نے 88.60 میٹرز کی تھرو کرتے ہوئے کچھ دیر کے لیے سبقت حاصل کی تاہم ارشد ندیم نے 90.18 میٹر کی تاریخی تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ یقینی بنا لیا۔
خیال رہے کہ ایونٹ سے قبل ارشد کی جانب سے جاری ویڈیو میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ یہ ایونٹ گھٹنے اور کہنی میں تکلیف کے باوجود کھیل رہے ہیں۔
ان کی اس کارکردگی کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کو گذشتہ برس ٹوکیو اولمپکس میں جیولن تھرو ایونٹ میں طلائی تمغہ جیتنے والے نیرج چوپڑا نے 87.58 میٹر دور جیولن پھینکا تھا۔
دولتِ مشترکہ مقابلوں میں یہ پاکستان کا دوسرا طلائی تمغہ ہے اس سے قابل پاکستانی ویٹ لفٹر محمد نوح دستگیر بٹ نے 109کلوگرام سے زیادہ وزن کے ویٹ لفٹرز کے مقابلے میں مجموعی طور پر 405 کلوگرام وزن اٹھا کر نہ صرف گولڈ میڈل حاصل کیا بلکہ کامن ویلتھ گیمز کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔
ٹریک اینڈ فیلڈ ایونٹس میں ارشد ندیم پاکستان کی تاریخ کے وہ تیسرے ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے کامن ویلتھ گیمز میں سونے کا تمغہ جیتا ہے۔
سنہ 1954میں محمد اقبال نے ہیمر تھرو میں اور سنہ 1962 میں غلام رازق نے 120 گز ہرڈلز میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔
یاد رہے کہ ارشد سنہ 2019 میں نیپال کے شہر کٹھمنڈو میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز فاصلے تک نیزہ پھینک کر ساؤتھ ایشین گیمز کا نیا ریکارڈ قائم کر چکے ہیں اور اس ریکارڈ کو انھوں نے ٹوکیو اولمپکس کی تیاری کے دوران ایران میں مزید بہتر کیا تھا۔اسی کارکردگی کی بنیاد پر وہ گذشتہ برس براہ راست ٹوکیو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے میں بھی کامیاب ہوئے تھے جہاں 84 اعشاریہ 62 میٹر فاصلے پر نیزہ پھینک کر وہ پانچویں نمبر پر رہے تھے۔
آئیے آپ کو ارشد ندیم کی زندگی کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہیں جو میاں چنوں کے ایک گاؤں سے اٹھے اور آج پاکستان کے لیے طلائی تمغہ لے آئے۔
میاں چنوں کے گاؤں کا کرکٹر ایتھلیٹ کیسے بنا؟
ارشد ندیم کا تعلق میاں چنوں کے قریب واقع گاؤں چک نمبر 101-15 ایل سے ہے۔
ان کے والد راج مستری ہیں لیکن اُنھوں نے اپنے بیٹے کی ہر قدم پر حوصلہ افزائی کی ہے۔ ارشد ندیم کے کریئر میں دو کوچز رشید احمد ساقی اور فیاض حسین بخاری کا اہم کردار رہا ہے۔
رشید احمد ساقی ڈسٹرکٹ خانیوال ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے صدر ہونے کے علاوہ خود ایتھلیٹ رہے ہیں۔ وہ اپنے علاقے میں باصلاحیت ایتھلیٹس کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہے ہیں۔
رشید احمد ساقی نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ارشد ندیم جب چھٹی ساتویں جماعت کے طالبعلم تھے، اُنھیں وہ اس وقت سے جانتے ہیں۔ ‘اس بچے کو شروع سے ہی کھیلوں کا شوق تھا۔ اس زمانے میں ان کی توجہ کرکٹ پر زیادہ ہوا کرتی تھی اور وہ کرکٹر بننے کے لیے بہت سنجیدہ بھی تھے لیکن ساتھ ہی وہ ایتھلیٹکس میں بھی دلچسپی سے حصہ لیا کرتے تھے۔ وہ اپنے سکول کے بہترین ایتھلیٹ تھے۔’
رشید احمد ساقی کہتے ہیں ‘میرے ارشد ندیم کی فیملی سے بھی اچھے مراسم ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن ان کے والد میرے پاس آئے اور کہا کہ ارشد ندیم اب آپ کے حوالے ہے، یہ آپ کا بیٹا ہے۔ میں نے ان کی ٹریننگ کی ذمہ داری سنبھالی اور پنجاب کے مختلف ایتھلیٹکس مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے بھیجتا رہا۔ ارشد نے پنجاب یوتھ فیسٹیول اور دیگر صوبائی مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔’
وہ کہتے ہیں ʹیوں تو ارشد ندیم شاٹ پٹ، ڈسکس تھرو اور دوسرے ایونٹس میں بھی حصہ لیتے تھے لیکن میں نے ان کے دراز قد کو دیکھ کر اُنھیں جیولن تھرو کے لیے تیار کیا۔’
رشید احمد ساقی بتاتے ہیں ʹمیں نے ارشد ندیم کو ٹریننگ کے لیے پاکستان ایئر فورس بھیجا لیکن ایک ہفتے بعد ہی واپس بلا لیا۔ اس دوران پاکستان آرمی نے بھی ارشد ندیم میں دلچسپی لی بلکہ ایک دن آرمی کی گاڑی آئی اور اس میں موجود ایک کرنل صاحب میرا پوچھ رہے تھے۔
‘میں گھبرا گیا کہ کیا ماجرا ہے؟ لیکن جب اُنھوں نے ارشد ندیم کی بات کی تو میری جان میں جان آئی۔ کرنل صاحب بولے ارشد ندیم کو آرمی میں دے دیں ، لیکن میں نے انکار کر دیا۔ کرنل صاحب نے وجہ پوچھی تو میں نے بتایا کہ آپ لوگ اس کی ٹریننگ ملٹری انداز میں کریں گے۔ بہرحال اس کے بعد میں نے ارشد ندیم کو واپڈا کے ٹرائلز میں بھیجا جہاں وہ سلیکٹ ہو گئے۔’
ارشد ندیم شادی شدہ ہیں ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔
رشید احمد ساقی کہتے ہیں ʹمیں ارشد ندیم کو مذاقاً کہتا تھا کہ اولمپکس میں شرکت کا خواب پورا ہو جائے تو پھر شادی کرنا، لیکن آپ کو پتہ ہی ہے کہ گاؤں میں شادیاں کم عمری اور جلدی ہو جایا کرتی ہیں۔’
بہت جلدی سیکھنے والا شاگرد
ارشد ندیم کا سفر میاں چنوں کے گھاس والے میدان سے شروع ہوا جو اُنھیں کامن ویلتھ گیمز میں لے گیا۔
ارشد ندیم کے موجودہ کوچ فیاض حسین بخاری ہیں جن کا تعلق پاکستان واپڈا سے ہے۔ وہ خود بین الاقوامی ایتھلیٹکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
بات کرتے ہوئے کہا کہ ارشد ندیم ایک سمجھدار ایتھلیٹ ہیں جو بہت جلدی سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو کام ایک عام ایتھلیٹ چھ ماہ میں کرتا ہے ارشد وہ کام ایک ماہ میں کر لیتے ہیں۔’
اُن کے مطابق دو سال قبل ہونے والی ساؤتھ ایشین گیمز سے قبل اُن دونوں نے یہ عہد کر لیا تھا کہ اولمپکس میں وائلڈ کارڈ کے ذریعے نہیں جانا بلکہ کارکردگی کے ذریعے کوالیفائی کریں گے۔
ارشد ندیم کا انٹرنیشنل کریئر
ارشد ندیم نے 2016 میں انڈیا کے شہر گوہاٹی میں منعقدہ ساؤتھ ایشین گیمز اور ویتنام میں ہونے والی ایشین جونیئر ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں کانسی کے تمغے جیتے۔
سنہ 2017 میں باکو میں ہونے والے اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پھر 2018 میں جکارتہ میں ہونے والی ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ اسی سال اُنھوں نے کامن ویلتھ گیمز میں آٹھویں پوزیشن حاصل کی۔اس کے بعد 2019 میں ارشد ندیم نے قطر میں ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سولہویں پوزیشن حاصل کی اور 81 اعشاریہ 52 میٹرز کے ساتھ نیا قومی ریکارڈ بھی قائم کیا۔
اُسی سال اُنھوں نے کٹھمنڈو میں منعقدہ ساؤتھ ایشین گیمز میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز کے ساتھ ان کھیلوں کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔
ارشد ندیم کو ٹوکیو اولمپکس کی تیاری کے سلسلے میں ایران کے شہر مشہد میں ہونے والے مقابلے میں حصہ لینے کا موقع ملا جہاں اُنھوں نے نہ صرف گولڈ میڈل جیتا بلکہ 86 اعشاریہ 38 میٹرز دور نیزہ پھینک کر اپنا ہی قائم کردہ قومی ریکارڈ بہتر بنایا۔
ٹوکیو اولمپکس میں ارشد ندیم وہ کارکردگی تو نہ دکھا سکے جن کی ان سے امید کی جا رہی تھی اور وہ اس برس جیولن پھینکنے کی اپنی بہترین کارکردگی دوہرا نہ سکے اور فائنل مقابلے میں ان کی بہترین کوشش 84 اعشاریہ 62 میٹر رہی اور وہ پانچویں نمبر پر رہے تھے۔
تاہم اب کامن ویلتھ گیمز میں انھوں نے تاریخی تھرو پھینک کر طلائی تمغہ جیت لیا ہے جو اب تک ان کی کریئر کی بہترین کارکردگی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں