265

کافرکافرنہیں ایمان ایمان کی صدائے محبت

کافرکافرنہیں ایمان ایمان کی صدائے محبت
جامعہ نعیمیہ اسلام آبادمیں جماعت حرم پاکستان کے زیراہتمام ساتویں خاتون جنت کانفرنرنس میں گزرے چندگھنٹے روح وقلب کی تازگی کا باعث ھوئے.
امیرجماعت اہل حرم,ناظم اعلی جامعہ نعیمیہ جناب مفتی گلزار احمدصاحب نعیمی نے محبتوں,الفتوں,عقیدتوں,ولوں,جذبوں کا پورا گلستان سجا رکھا تھا.کانفرنس کیا ہی شان والی تھی جس میں حاضرین کوپیغام توحیدکے جام,عشق خیرالانام,عظمت صحابہ کرام,اہل بیت اطھار کی محبت وافرجام پلائے گئے.
یہ کانفرنس اور بانئ کانفرنس مبارکباد کے لائق ہی نہیں خود ہی سراپامبارک ہیں.
کیوں?
بدقسمتی سےجس معاشرے کو صوبائ,قومیتی,علاقائ,لسانی,
مسلکی بیماریوں کی آکاس بیل نے جکڑرکھا ھو, جہاں علم وفن کے نامور ماہرین امت کی تقسیم کاری کے لئے اور مسلکوں,فرقہ بندیوں,گروہی پہچان کے لئے قرآن وسنت سے باقاعدہ دلائل دئں اوپر سے فقہائے امت سے منسوب خودساختہ اقوال کو اپنے ذاتی پسند وناپسند,مسلکی وفرقہ واریت کا مصالحے دار چورن تھوک کے حساب سے بیچ رھے ہوں,جہاں ہرطرف کافر کافر کی چیخ و پکار پڑی ھو,جہاں خطیب پاکستان,مناظراسلام اور مقررشعلہ بیانی کے القاب وخطابات کے تمغے صرف ,افراتفری,آپادھاپی,دھینگامشتی اور جذباتیت کاماحول بنانے والوں کوملیں ایسے میں اتحاد ویگانگت,رواداری,ہاہمی اتفاق واتحاد کی بات کرکے صلح کلی کے” طوق “گلے میں ڈلنے کا طعنہ برداشت کرنے کی جرات پیداکرنا.” مناظرین اسلام” کی نشترزنی سے بےخوف ھوکر کافر کافر کی بجائے ایمان ایمان کی صدائے محبت لگانے والا آج کے دور کاکوئ قاید,عالم دین وجود باعث برکت ھے ہی نہیں سراپا برکت ھے .
خاتون جنت کانفرنس کے آغاز میں ہی کلمات استقبالیہ میں جناب مفتی گلزار احمد نعیمی نے سیدہ پاک کی بارگاہ عالیہ میں عقیدتوں کا خراج پیش کرتے ھوئے اتحاد امت کے لئے اپنی ایسی دردمندی
کا اظہار کیا کہ بعد میں آنیوالے تمام مقررین جن میں مولانا ڈاکٹرنورالحق قادری صاحب وفاقی وزیرمذہبی امور,جناب صاحبزادہ حامد رضا رضوی صاحب,جناب سید صفدر شاہ گیلانی مرکزی جنرل سیکرٹری جمیعت علمائے پاکستان,جناب ڈاکٹرثاقب اکبر جیسے نامور اہل علم ودانش کے اسمائے گرامی شامل ہیں.
سبھی مقررین نے ایک ہی بیان پہ زور دیا جسے قومی بیانیہ بھی کہا جاسکتا ھے .
تمام فاضل مقررین مخلفت الفاظ کے ساتھ ایک ہی بات پہ زور دیا کہ اب امت کو تقسیم,تفرقہ و انتشار سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ھے اور سب سے بڑی ملی ودینی خدمت ھے.مقررین نے کہا کہ ذرا اقوام عالم کو دیکھئے دوسری قومیں بین الاقوامیت کا لیبل اپنے اوپر چڑھا رہی ہیں جبکہ جنھیں اللہ رب العزت نے امت وسط قرار دیا تھا وہ افراط وتفریط کا شکار ھوکرکہیں لسانی,کہیں صوبائ,کہیں مسلکی اور گروہی فرقہ بندیوں کی بندگلیوں میں گھستے جارہے ہیں..مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جب تاریخ اعتبار سے یہ طے اور تجربہ شدہ بات ھے کہ اسلام اور امت مسلمہ کو سب سے زیادہ نقصان فرقہ واریت اور مسلکی جھگڑوں اور بین المسالک عدم روداری کے کلچرنے پہنچایاھے تو ایسے میں اب *کافر کافرکا نعرہ پراگندہ نہیں بلکہ ایمان ایمان کا نعرہ مستانہ لگایا جائے* کیونکہ
* اس وقت عالمی سطح پہ امت کا مقدمہ مسلک وفرقہ کی پہچان کے ساتھ نہیں امت کی پہچان اور تعارف کے ساتھ ہی جیتا جاسکتا ھے*
ماشاءاللہ کانفرنس کے ویسع وعریض انتظامات بہترین ,مستعد اور منظم ٹیم نے سنبھال رکھے تھے,پابندئ وقت,مہمانوں کے استقبال اور لنگر وتناول ماحضر,میڈیا اور میڈیاپرسنرکی بھرپور حاضری سے جناب مفتی گلزار احمدنعیمی کے جہاں اخلاص,محنت,لگن کا پتہ چلتاھے وہاں حضرت کی انتظامی وقائدانہ صلاحیتوں کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ھے.
اللہ تعالی حضرت مفتی گلزار احمدنیعیمی سربراہ جماعت اہل حرم اور پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ھوئے جناب مفتی نعیمی صاحب اور جماعت اہل حرم کے انتھائ زیرک مشن کے انتھائ مخلص ساتھی جناب مفتی ابوبکر اعوان ایڈووکیٹ صاحب کا بہت شکر گزار ھوں کہ جنھوں اتنی اھم قومی کانفرنس میں بندہ کومدعوکیا,ااظہارخیال کا موقع عنایت فرمایا اورتمام سفری سھولیات بہم پہنچائیں.اور مجھ ناچیز کو اعزازاونبساط اوربرکت وفرحت کا ایک حسین اوراھم موقع عنایت فرمایا
جزاکم اللہ خیرا
طالب دعا
محمدنعیم جاویدنوری
خادم جمیعت علمائے پاکستان(نورانی)ضلع لاھور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں