30

ڈینگی کا ملک گیر چیلنج

مچھروں کی ڈینگی نامی ایک مخصوص نسل سے پھیلنے والی ملیریا کی ایک خطرناک قسم جو خود بھی ڈینگی بخار کہلاتی ہے ، پچھلے کئی برسوں سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر پھیلتی چلی آرہی ہے۔عام مچھروں کے برعکس ڈینگی مچھر کی افزائش گندے پانی کے بجائے ٹھہرے ہوئے صاف پانی میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برسات کا موسم ڈینگی مچھر کی آبادی میں اضافے کے لیے بہت سازگار ہوتا ہے۔ اس لیے اسے زلزلے اور طوفان کی طرح کی اچانک ٹوٹ پڑنے والی کوئی ایسی آسمانی آفت قرار نہیں دیا جاسکتا جس کی آمد سے پہلے روک تھام کا بندوبست ممکن ہی نہ ہو۔لہٰذا برسات کی آمد کے ساتھ ہی ضروری احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کیا جائے تو مرض کے پھیلاؤ کو محدود رکھنے میں یقینا واضح کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ماضی میں ایسا ہوتا بھی رہا ہے جس کے نتیجے میں ڈینگی کے چیلنج پر شروع ہی میں قابو پالیا گیا اور مرض وبائی شکل اختیار نہیں کرسکا۔ لیکن اس سال بھی ڈینگی بے قابو ہوتا نظر آرہا ہے اور پچھلے برسوں میں بھی ڈینگی کی تباہ کاریاں بہت زیادہ رہی ہیں‘ ان دنوں میں بھی ملک بھر میں ڈینگی کے مرض میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ صوبہ پنجاب خاص طور پراس کا دارالحکومت لاہور نیز خیبر پختونخوا اور سندھ میں ڈینگی کا شکار ہونے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اسپتالوں نے مزید مریضوں کو لینے سے انکار کردیا ہے۔پنجاب کے اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے بستر ڈینگی کے متاثرین کے لیے مختص کردیے گئے ہیں۔اسلام آباد میں ڈینگی کے کیس کے خطرناک حد تک جا پہنچنے کے بعد انسداد ڈینگی مہم شروع کی گئی ہے۔وفاقی دارالحکومت میں مرض کا پھیلاؤروکنے کے لیے چیف کمشنر نے تمام متعلقہ حلقوں سے شہر میں انسداد ڈینگی مہم میں تعاون کی درخواست کی ہے۔ ہفتے کو اس مہم کا دوسرا دن تھا۔انتظامیہ کے مطابق اگلے چار پانچ دنوں میں دیہی اور شہری دونوں علاقوں مچھر وں کے خاتمے کے لیے خصوصی طور پر تشکیل دی گئی بیس ٹیمیں دوا کا چھڑکاؤ کریں گی۔انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرکے اعلان کیا ہے کہ جو لوگ اپنے گھروں کے باہر پانی جمع ہونے دیں گے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پنجاب حکومت نے ڈینگی کے پھیلاؤ کی وجہ سے لاہور میں میڈیکل ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔پنجاب کے سیکریٹری صحت کے مطابق حالیہ بارشوں کے ساتھ ساتھ نمی اور لاہور کے کچھ علاقوں میں تعمیراتی کام نے ڈینگی کی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کردیا ہے جس کے سال کے آخر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونانے پہلے ہی صوبے کے صحت کے نظام پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا ہے اور یہی طبی عملہ ڈینگی سے بھی نمٹ رہا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اب تک پنجاب میں ڈینگی کے کیس 3475 تک پہنچ چکے ہیں، ان میں سے لاہور کے کیسوں کی تعداد 2708 ہے۔صوبے میں 2580 مقامات پر لاروا کی افزائش کا انکشاف ہواہے، ان میں سے 1530 لاہور میں پائے گئے۔ملیریا کنٹرول پروگرام کے رابطہ کار افسر کے بقول بلوچستان کے تین اضلاع میں ڈینگی کے 1700 سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ سندھ میں ایک ماہ کے دوران ڈینگی کے 377 کیس سامنے آئے ہیں۔اس تفصیل سے واضح ہے کہ کورونا کے بڑی حد تک قابو میں آجانے کے بعد قوم کو اب ڈینگی کے ملک گیرچیلنج کا سامنا ہے۔لیکن کووڈ کے برعکس ڈینگی ایک ایسا مرض ہے جس کا علاج بھی موجود ہے اور ڈینگی کی افزائش کو روکنے کے لیے مچھر کش دوا کے چھڑکاؤ اورپانی کے ذخائر کو کھلا نہ رکھنے کی تدابیر اختیار کی جائیں تو مرض کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھرپورکامیابی بھی حاصل کی جاسکتی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت اور عوام دونوں ان تدابیر پر عمل درآمد کا مکمل اہتمام یقینی بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں