123

ڈاکٹر محمد مشتاق کی کتاب آداب القتال

ڈاکٹر محمد مشتاق کی کتاب آداب القتال
اسلامی نظریاتی کونسل میں جناب ڈاکٹر محمد مشتاق کی کتاب آداب القتال، کی تقریب رونمائی سے لوٹا ہوں۔ یہ محض کوئی رسمی سی تقریب نہ تھی، یہ مسلم دنیا کے فکری جمود کا کفارہ تھا جو برادرم ڈاکٹر مشتاق نے ادا کیا اور اس کی پزیرائی کو اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب کی میزبانی میں جناب جسٹس قاضی فائز عیسٰی، جناب سینیٹر مشتاق احمد، جناب ڈاکٹر عزیز الرحمن، سربراہ شعبہ قانون قائد اعظم یونیورسٹی اور اس طالب علم سمیت قانون اور فقہ کی دنیا سے تعلق رکھنے والی جید شخصیات موجود تھیں۔
اس کتاب کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں سیاق و سباق کو جاننا ہو گا۔ اسلام سے قبل جتنے بھی مذاہب تھے وہ انسان کے تزکیے تک محدود تھے۔ چینی تہذیب ہو، مسیحی تہذیب ہو یا بدھ مت، مذہبی ڈسکورس میں ریاست کے متعلق مباحث نہیں ملتے۔ بائبل میں بھی Ten Commandments میں اگر چہ ریاست اور قوانین کا کچھ ذکر موجود ہے لیکن مجموعی طور پر فرد کی اصلاح ہی مقصود ہے۔ یہ سمجھ لیاگیا کہ مذہب کا تعلق فرد اور سماج سے تو ہے لیکن ریاست سے نہیں۔ ریاست تو ہمیں حضرت سلیمان ؑ اور حضرت دائود ؑ کی بھی ملتی ہے لیکن اکیڈیمک لٹریچر میں ریاست کو موضوع نہیں بنایا گیا۔
اسلام معلوم انسانی تاریخ کا پہلا تجربہ ہے جس میں مذہب اور ریاست کو اکٹھا کر دیا گیا۔ اسلام نے اہتمام سے ان مسائل پر بات کی اور رہنمائی فرمائی جو ریاست سے متعلق ہیں۔ جب ریاست مذہبی تجربے کا حصہ بنی تو اس کے دفاع کے لیے اسلام نے قتال کا قانون دیا۔ اب گویا جنگ میں سب کچھ جائز نہ رہا بلکہ اسلام نے لڑائی اور جنگ کو ایک اخلاقی ضابطے کا پابند کر دیا۔ انسانی تاریخ پر اسلام کا یہ کوئی معمولی احسان نہیں کہ اس نے جنگ جیسی چیز پر بھی اخلاقی اصول لاگو کر دئیے۔
المیہ یہ ہوا کہ جب علم کی تاریخ مرتب ہوئی تو اس کا رجحان سیکولر رہا جہاں مذہب کو ایک ما بعد الطبیعاتی چیز سمجھا گیا اور اسلام کے اس غیر معمولی کردارپر بات ہی نہیں ہوئی کہ اس نے کیسے ریاست کو اور جنگوں کو ایک ضابطے اور اخلاقیات کاپابند کر دیا۔ چنانچہ جہاد و قتال کی سیکولر انداز سے شرح بیان کی گئی۔ یہیں سے خلط مبحث پر مبنی یہ نکتہ سامنے لایا گیا کہ اسلام تلوار سے پھیلا۔
اس تاثر کو فروغ دینے میں بد قسمتی سے مسلمان دانش نے بھی کردار ادا کیا۔ جب سیرت جیسے موضوع کو مغاذی، کے عنوانات کے تحت پیش کیا گیا۔ اس سے سیکولر دانش نے یہ نتیجہ نکالا کہ مسلمان بھی گویا محض فتوحات کے خواہاں تھے اور انہیں زمین پرغلبہ ہی مقصود تھا۔ مجید خدری شاید وہ پہلے عیسائی دانشور تھے جنہوں نے اسلام کے تصور قتال کو کسی حد تک درست انداز میں پیش کیا اور ان کی کتاب کا بعد میں غلام رسول مہر صاحب نے ترجمہ بھی کیا۔ مجید خدری ہی نے امام شافعیؒ کی ” الرسالہ” کا ترجمہ بھی کیا۔ لیکن یہ کوشش بھی مکمل طور پر تصویر پیش نہ کر سکی۔
اسلام کے تصور قتال پر جب مغرب میں سوالات اٹھے تو عالم یہ تھا کہ مسلم دنیا کے پاس جواب میں پیش کرنے کو علمی سطح پر کوئی کتاب نہیں تھی۔ چنانچہ محمد علی جوہر کو کہنا پڑا کہ کاش کوئی اٹھے اور اس مغربی پروپیگنڈے کا جواب دے۔ یہ جواب ایک 18سال کے نوجوان نے دیا۔ نوجوان کا نام سید مودودی تھا اور کتاب کا نام الجہاد فی الاسلام، تھا۔ اس کتاب کے دیباچے میں مولانا مودودی نے لکھا ہے کہ محمد علی جوہر کی یہ اپیل ہی ان کے کتاب لکھنے کی وجہ بنی۔ ذرا غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ مسلم دانش کی بہت بڑی علمی کمزوری تھی کہ ان کے پاس اپنے تصور قتال کی حقیقی تصویر پیش کرنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔
یہ بحث دوبارہ شروع ہوئی جب دہشت گر دی کے خلاف جنگ شروع ہوئی، ریاست کے خلاف بغاوت اور خروج کی باتیں ہونے لگیں اور مسلم دنیا داخلی چینلجز سے دوچار ہو گئی۔ یوسف قرضاوی صاحب نے فقہ الجہاد، تولکھی لیکن مسلم دنیا فکری سطح پر کئی قابل ذکر کام نہ کر سکی۔ اس کے دامن میں دو چار کتابوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ جس بات پر دنیا کو اسلام کا ممنون ہونا چاہیے تھا کہ اس نے جنگ کو اخلاقیات کے تحت کر دیا، اسی بات کو سیکولر دنیا میں اسلام کے خلاف مقدمہ بنا دیا گیا۔ اور ہم فکری محاذ پر بے بس پڑے رہے۔
اب ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب کی آداب القتال، سامنے آئی ہے تو یہ گویا وہی فرض عین تھا جو مسلم دانش کے ذمے تھا۔ ڈاکٹر محمد مشتاق قانون اور فقہ کی دنیا کا مستند نام ہیں۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی شعبہ قانون کے سربراہ رہ چکے، شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہ چکے۔ مسلم دنیا پر طاری فکری جمود میں وہ ایک ارتعاش ہیں اورغنیمت ہیں۔ ان کی فکری وجاہت اور ان کی حریت فکر قابل تحسین ہے۔
کتاب کی تقریب رونمائی میں اظہار خیال کرتے ہوئے جناب سینیٹر مشتاق احمد صاحب نے بہت اہم نکتہ اٹھایا کہ ڈاکٹر مشتاق علم کی دنیا کے آدمی ہیں، انہیں سوشل میڈیا پر توانائیاں ضائع کرنے سے روکا جانا چاہیے۔ اس ضمن میں سینیٹر صاحب نے بقیہ” کام ” کرنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی۔ مجھے اظہار خیال کا موقع ملا تو میں نے ان کی بھر پور تائید کرتے ہوئے کہا کہ مجتہد چونکہ اپنی رائے کا پابند ہوتا ہے اس لیے ان ” آداب القتال، کی روشنی میں ڈاکٹر صاحب کو سوشل میڈیا پر قتال، بند کر دینا چاہیے۔ ہمیں علم کی دنیا میں ان کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی میں نے عرض کی کہ عبوری مدت کے لیے ڈاکٹر مشتاق صاحب کے آرٹیکل 19 میں دیے آزادی رائے کے حقوق سوشل میڈیا کے قتال کی حد تک معطل کر دینے چاہییں۔
شرکاء کی تالیاں بتا رہی تھیں کہ وہ اس غیر آئینی اقدام کے لیے تیار ہیں لیکن جناب جسٹس قاضی فائز عیسی صاحب نے جو اس تقریب کے مہمان خصوصی بھی تھے، اپنے خطاب میں کہا کہ وہ ایک جج ہیں، اس لیے وہ میری اور سینیٹر مشتاق صاحب کی اس رائے سے متفق نہیں اور وہ ڈاکٹر مشتاق کی آزادی رائے کے حق کو ساقط نہیں ہونے دیں گے۔ یہی نہیں بلکہ جسٹس صاحب نے مسکراتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کی آزادی رائے کو مزید مہمیز عطا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں تو ڈاکٹر مشتاق کو ایک یوٹیوب چینل بھی بنا لینا چاہیے۔
سینیٹر مشتاق احمد صاحب اور میں جس “غیر آئینی “اقدام کی کئی مہینوں سے سازش، کر رہے تھے، جسٹس صاحب کی موجودگی کی وجہ سے وہ فی الوقت، ناکام ہو گئی۔ البتہ ڈاکٹر مشتاق صاحب نے اس جواب آں غزل کے ساتھ کہ آصف محمودخود بھی تو سارا دن سوشل میڈیا پر تمام جماعتوں کے قتال، میں مصروف رہتے ہیں، یہ وعدہ کر لیا کہ آئندہ سوشل میڈیا پر قتال، تو ہو گا مگر آداب القتال، کے ساتھ۔
علم کی دنیا ہمارے سماج میں اجنبی ہے۔ کتاب کلچر تو روٹھ چکا۔ ایسے میں اسلامی نظریاتی کونسل جیساا دارہ اہم کتابوں کی تقاریب پذیرائی کا انعقاد کرتا ہے تو یہ وہ نیک کام ہے جس کے لیے اس سماج کو ڈاکٹر قبلہ ایاز اور اسلامی نظریاتی کونسل کا ممنون ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں