48

ڈاکٹر عبدلقدیر خان

Dr. Abdul Qadeer Khan

ڈاکٹر عبدلقدیر خان

اللہ تعالیٰ نے انسان کواس دنیا میں اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا اور اس کے ذمے بہت سے اہم کام لگائے ۔یوں تو ہر انسان ہی بہت اہم اور انمول ہوتا ہے لیکن بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ کچھ خصوصی فرائض کے ساتھ اس دنیا میں بھیجتا ہے جو کسی قوم کی تاریخ کو ایک خاص سمت عطا کرتے ہیں۔وہ قوم کے نجات دہندہ سمجھے جاتے ہیں۔ جب ہم پاکستان کی بات کر تے ہیں تو یہ کہا جا سکتا ہے بلاشبہ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا،قائداعظم محمد علی جناح نے اس کو عملی شکل دی اورڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اسکی سلامتی کو یقینی بنایا ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے وہ عظیم سائنس دان ہیں جن کا نام پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جا ئیگا ۔ پاکستان کے ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیرخان جن کو مختصر طور پر مسٹر اے کیوخان بھی کہا جاتا ہے، یکم اپریل 1936 کو ہندوستان کے شہر بھو پال میں ایک اردو بولنے والے پشتون گھرانے میں پیدا ہو ئے ۔ وہ قیام پاکستان کے بعد ہجر ت کر کے کراچی آئے ۔اُن کی والدہ ذولیخہ بیگم ایک عام گھر یلو خاتون تھی ۔ ان کے والدمحترم عبدالغفور ، نا گ پور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے اور وزارت تعلیم (ہندوستان ) میں ملا زمت کر تے رہے۔ ان کا خاندان بھو پال سے 1952 میں ہجرت کر کے پاکستان آ یا اور کراچی میں آ باد ہو ا ۔
تعلیم :
انہوں نے ابتدائی تعلیم بھوپال سے حا صل کی۔پاکستان آنے کے بعد ، ڈی جے سانس کالج (D.J Science College ) کراچی میں داخل ہو ئے ۔ 1956 میں فز کس پڑھنے کیلئے کراچی یو نیو رسٹی میں داخل ہو ئے ۔ 1961 وہ ا علی ٰ تعلیم کیلئے جر منی چلے گئے ۔ انہوں نے 150سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضا مین لکھے ۔ انہوں نے 1960 میں جا مع کراچی سے سائنس میں گریجویشن کی۔
وہ بعدازاں مختلف اداروں سے تعلیم حا صل کر نے کے بعد میٹرالوجیکل انجینئرنگ کی تعلیم حا صل کر نے کیلئے بر لن (جرمنی ) چلے گئے ۔ 1967 میں انہوں نے ہالینڈ کی ڈیلفٹ (Delft) ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی سے ماسٹر آف سائنس کی سندپائی۔ جبکہ 1972 میں بلجیئم لیوون (Leuven) یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف انجنیئر نگ کی ڈگری حاصل کی ۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر نے یورپ کے ممتاز سائنسی تحقیقی مراکز میں کام کیا ،جن میں ہا لینڈ کا یو ر ینیم انر چمنٹ پلا نٹ ،بھی شا مل ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ اسی مر کز میں کام کر تے ہو ئے انہوں نے یو رینیم افزود گی کی تکنیک میں مہارت حا صل کی ۔
ڈا کٹرعبدالقدیر کی ذاتی زندگی :

عبد القدیر خان نے ہا لینڈ میں ملازمت کے دوران ایک مقامی لڑکی ’’ ہنی ‘‘ سے شادی کی جو، اب مسز ہنی خان کہلا تی ہیں اور جن سے اُن کی دو بیٹیا ں ہو ئیں۔
ڈا کٹر عبد القد یر خان اپنے بچپن کے بارے میں کچھ یوں رقمطرازہیں :
’’میرا تعلق بھارت کی ایک چھوٹی سی ریاست بھوپال سے ہے ۔یہ ایک مسلمان ریاست تھی۔ وہاں اسلام بالکل سادہ طریقے پر اپنا یا جاتاتھا۔ ہمارے ہاں کسی قسم کی فرقہ پرستی ، شرپسندی یا اختلاف و غیرہ نہیں پا یا جاتا تھا۔ بچپن ہی سے ہم سب لوگ نمازی تھے ۔ روزے بھی رکھتے تھے۔ مجھے یاد ہے میں اس وقت میں سا ت یا آٹھ برس کا ہو ں گا، جب ہم مسجد جا تے تھے تو ہمارے مولوی صا حب ہمیں اذان دینا سکھا تے تھے ۔ بعد میں بڑا ہو کر میں اکثر و بیشتر صبح کی اذان دیتا تھا۔ ہمارے گھر میں تعلیم کا رواج شروع ہی سے تھا۔
میرے والد کے بڑے بھا ئی یعنی میرے تایا ریاست بھوپال کے محکمہ مالیات کے سیکر ٹری تھے۔ ہمارے والد ہیڈ ما سٹر تھے‘‘۔ ایک دو سری جگہ لکھتے ہیں: ’’ میرا تعلق ریاست بھو پال سے ہے اور بھوپال و سطی ہند میں واقع ہے اور یہ خوبصورت جنگلات ، جانوروں ، اور پرندوں کا علاقہ ہے ۔ وہاں رہنے والے تمام مسلمانوں کا تعلق تیراہ کے یوسف زئی اور اورکزئی قبائل سے تھا۔‘‘
عملی زندگی :
یہ 1976 کی بات ہے کہ مارگلہ کے سر سبز و شاداب دا من میں ایشیا کی عظیم الشان فیصل مسجد تعمیر ہو ر ہی تھی۔ اور اس کے زیر سا یہ ایک گھر بھی زیر تعمیرتھا، جو سر و قا مت ،گھنگھر یالے سیاہ بالوں اور در میانی جسا مت والے ایک سائنسدان کیلئے بنا یا جا ر ہا تھا۔ یہ سائنس دان کو ئی اور نہیں ڈا کٹر عبدالقدیر خان تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ذوالفقار علی بھٹو

مر حوم کے تعاون کے سا تھ ڈا کٹر عبدالقدیر خان پاکستان کو ایٹمی قوت بنا نے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ اور اس کا وا حد سبب وہ تڑپ تھی جو اسلام اور پاکستا ن کیلئے ان کے دل میں

مو جزن ہے۔ یاد رہے کہ سقو ط ڈھاکہ کے وقت ٹی وی پر بھا رتی فو ج اور مکتی باہنی کے ہا تھوں پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ تحقیر آ میز سلوک اور پاکستانی پر چم کی بے حر متی کے منا ظر دیکھنے کے بعد ڈا کٹر عبدالقد یر خان نے پاکستان کیلئے کچھ کر نے کے عزم کے سا تھ ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا اور جب ان کی طرف سے حو صلہ بخش جواب ملا توانہوں نے برازیل سے پاکستان واپسی کیلئے رخت سفر باند ھا جس کے دوران انہوں نے خانہ کعبہ اور روضہ رسول ﷺ پر بھی حا ضری دی ۔ اور یہ سلسلہ آ ج تک جاری ہے۔ ڈا کٹر صا حب خود کہتے ہیں کہ، میں خود کو روحانی طور پر پرسکون رکھنے کیلئے حجاز مقدس جا تا ہو ں ۔
ڈا کٹر عبدالقد یر خان نے و طن وا پسی کے بعد 10 سال سے بھی کم عر صے میں انتہائی نا مسا عد حا لا ت کے باد جود و طن عز یز کو نا قا بل تسخیر بنا نے کا کار نامہ سر انجام دیا جس کے نتیجے میں پاکستان کو مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں جو ہری طاقت بننے کا اعزاز حا صل ہو ا ۔وطن عز یز کے حکمرانوں میں پہلے ذوالفقار علی بھٹو پھر جنر ل ضیاء الحق ، غلام اسحق خان، محترمہ بے نظیر بھٹواور میاں نواز شریف سبھی نے پاکستان کے دفا ع کو نا قا بل تسخیر بنا نے میں ڈا کٹرعبدلقدیر خان اور ان کی ٹیم کا سا تھ دیا اور ان کی سرپرستی کی۔ تا ہم یہ اعزاز سا بق و زیر اعظم نواز شریف کے حصّے میں آیا کہ بلا آخر ان کے دور اقتدار میں 28 مئی 1998 کو پاکستان نے کامیاب جو ہری تجر بات کر کے دنیا سے خود کوا یٹمی طا قت منوا لیا ۔
جنرل پر و زیز مشرف کے سا تھ البتہ ڈا کٹر عبدالقد یر خان کے تعلقات کشیدہ ر ہے ۔ان کے دور حکومت میں ڈا کٹر خان پر ایٹمی ٹیکنالو جی کی بیرون ملک منتقلی کے الزامات لگے ۔ ان سے اعتراف بھی کرو ا یا گیا اورپھر نظر بند کر دیا گیا۔جب امر یکی و زیر دفا ع لیون کابیان آیا کہ ’’ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار د ہشت گر دوں کے ہاتھ لگنے کا خد شہ رہتا ہے “اس پر ڈا کٹر عبد القد یر خان کا مختصر مگر جا مع ر د عمل یہ تھا : ’’ ہمارے ایٹمی اثا ثے بیکری میں ر کھا ہوا کیک نہیں جو کو ئی اٹھا کر لے جا ئیگا ۔ ایٹمی اثا ثوں کی حفا ظت کیلئے پاک فوج نے جا مع نظا م بنایا ہواہے جس میں جنرل ضیا ء الحق ، جنرل اسلم بیگ اور جنرل عبدالو حید کا کڑ نے اہم کر دار ادا کیا ۔ اس نظام میں نہ گو ئی کڑ بڑ کر سکتا ہے،نہ ایٹمی اثا ثے اٹھا کر کہیں لے جا سکتا ہے۔
ڈا کٹر عبدالقدیر خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم نے ایٹم بم اس لئے بنایا تھا کہ دفا عی طور پر نا قا بل تسخیر ہو نے کے بعد ملک تر قی کی راہ پر گامزن ہو سکے گالیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا ۔ ہمیں ذاتی طور پر مفلوج رہنماؤں کی نہیں بلکہ مثبت اور توانا سوچ کی حا مل قیادت چا ہیے ۔ ڈا کٹر عبدالقدیر خان نے اپنی اسی سوچ کو آ گے بڑ ھا نے کیلئے ’’ تحر یک تحفظ پاکستان ‘‘ کے نام سے ایک سیاسی جما عت تشکیل دی ہے اور آ ئندہ الیکشن میں میزائل کا انتخابی نشان حا صل کر نے کیلئے ان کی جما عت نے الیکشن کمیشن کو در خواست بھی دے ر کھی ہے۔ مضبو ط ، خو شحالی ، خود مختار اور خود کفیل پاکستان یقیناًڈا کٹر عبدالقدیر خان کی طرح مادر و طن سے محبت رکھنے والے ہر پاکستانی کا خواب ہے۔ ڈا کٹر صا حب اسی خواب کو آ نکھو ں میں سجا ئے اپنی ہر صبح کا آ غاز نماز فجر کے بعد تفسیر قرآن کے مطا لعے سے کر تے ہیں ۔
ان کا روزانہ کا معمول ہے ایک راسخ العقیدہ مسلمان کی حیثیت سے وہ پریشان حال دوستوں کوسورۃ تغابن کی آ یت اور اس کا تر جمہ سنا تے ہیں ۔ ڈا کٹر عبدا لقدیر خان کی روز مرہ زندگی کے اور بھی کئی معمولات ہیں۔ وہ علی الصبح مارگلہ کے پہاڑسے اپنے گھر میں اتر آنےوالے بندروں کیلئے پر تکلف نا شتے کا اہتمام کر تے ہیں۔اس مقصد کیلئے ان کے گھر میں مو نگ پھلی ، گاجر ، اور کیلوں کا ذخیرہ مو جود رہتا ہے ۔ ڈا کٹر صا حب نے اپے گھر کے عقبی حصے کا سوئمنگ پول بھی انہی بندروں کیلئے مختص کر رکھا ہے ۔
سوئمنگ پول میں بندروں کا نہانا ایک بہت ہی دلچسپ منظر ہو تا ہے ۔ ڈا کٹراے کیو خان روزانہ ایک گھنٹہ اپنی قیام گاہ میں موجود چڑیا گھر ، میں گزارتے ہیں جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے انواع و اقسام کے پر ندے موجود ہیں۔ ڈا کٹر عبد القد یر خان کو مو سیقی سے بھی لگا ؤ ہے ۔ وہ ما ئیکل جیکسن ، غلام علی ، عابدہ پر وین ، اور اقبال بانو کی گائیکی کے مدا ح ہیں کو ئی پو چھے تو صاف گو ئی سے بتا تے ہیں کہ اقبال با نو کی گائی ہو ئی غزل ’’ستارو تم تو سو جاؤ ،ابھی تو رات باقی ہے اور غلام علی کاگایاہوا گیت ’’چپکے چپکے رات دن آ نسو بہانا یاد ہے ‘‘ انہیں بے حد پسند ہیں ،جب کہ پٹھانے خان اور را حت فتح علی خان کے گا ئے ہو ئے گیت بھی ان کی میوزک لا ئبر یری کا حصّہ ہیں۔بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان کا یہ ما یہ ناز فر زند بہت اچھا شا عر بھی ہے۔ یہ ڈاکٹر خان کی ہم جہت شخصیت کا ایک د ل فریب پہلو ہے ۔ان کے دوتازہ اشعار ’’اخبار جہاں ‘‘کے قارئین کی نذ ر کئے گئے یہ ہیں :
(۱)گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے
(۲)ہمارا ذکر آ ئے گا تو فورًالو گ پو چھیں گے
وہی اے کیو، زمانے میں جو فتنے کر تا پھر تا تھا
پاکستان کو ایٹمی ڈھال اور میزا ئل کی طاقت سے لیس کر نے کا سہر ا ڈا کٹر عبد القدیر خان کے سر جاتا ہے جن کی گرا ں قدر خد مات کے اعتراف میں دو،بار اُنہیں ’’نشان پاکستان ‘‘ کا اعزاز دیا گیا۔ نشان پاکستان سول اعزاز ات میں سب سے بڑا اعزاز ہے ۔ انٹر نیشنل پیرالڈ ٹریبون کا یہ تبصرہ یقیناًحقائق کا آ ئینہ دار ہے کہ’ڈا کٹراے کیو خان ہی پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کے حقیقی بانی ہیں ‘‘ اور خود انڈیا کے ایک جریدے کا یہ تبصرہ ہے : ’’بہت کم ایسے لوگ ہو ں گے جنہوں نے ڈا کٹر عبدالقد یر خان کی طرح پاکستان کی خد مت کی ہو اور خود کو مادر وطن کیلئے وقف کر دیا ہو‘‘۔
ڈاکٹر عبدالقد یر خان کی یورپ میں تحقیق :
1972 میں پی ایچ ڈی انجینئرنگ کی ڈگری حا صل کر نے کے بعد ڈا کٹر اے کیوخان فز کس ڈائیمنکس ریسرچ لیبار ٹری آ مسٹر ڈم (امر یکہ )
(Physics Dynamics Research Lab Amsterdam) کے سینئر سٹا ف کا حصّہ بن گئے ۔ اس لیبار ٹری کا اہم مقصد Centrifugesکا ارتقاء تھا۔ اس قسم کا ایک اور یورینیم بنا نے کا پلا نٹ نید ر لینڈ (Netherland) میں0 197 میں قا ئم ہوا تھا۔ جس کا مقصد Centrifuge Method کے ذریعے یورینیم کو زیادہ طاقت ور بنا ناتھا۔یہ پلانٹ نیو کلئیر پاور پلا نٹ نیدر لینڈ کیلئے کام کر ر ہا تھا ۔ اس سے پہلے اے کیو خان ایک فز کس لیبار ٹری میں کا م کر ر ہے تھے۔ جہا ں یورینیم میٹررالوجی سے متعلق تجر بات ہو ر تھے۔ ڈا کٹرعبدلقدیر خان نے دن رات محنت کی وجہ سے اس ادا رے میں اپنا ایک منفرد مقام بنا لیا جس پر بعد میں انہیں بہت اہم ذمہ داری سونپی گئی ۔
ڈاکٹر عبدالقد یر خان اور 1971 کی جنگ:
جب 1971 کی جنگ میں پاکستان کو انڈیا کی سازش اور کھلی جارحیت کی وجہ سے عزیمت کا سامنا کرنا پڑا تو پاکستان کی سا لمیت خطرے میں پڑ گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 20 جنوری 1972 کو ایٹم بم بنانے کا پروگرام بنا یا اور اس سلسلے میں کئی سیمینار منعقد کئے ۔سب سے پہلا سیمینار ملتان میں ہوا جہاں پاکستان کے نامور سا ئنسدانوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کر کے ان کو تر غیب دی کہ پاکستان کو نیو کلیر پاور بنا یاجا ئے ۔ پاکستان اٹامک انر جی کمیشن کے چیئر مین منیر احمد خان نے اس پر و گرام کا آ غاز کیا۔ اور وہ بلا واسطہ ذوالفقار علی بھٹو کو پروگرام کے بارے میں رپورٹ دیتے رہے۔ اس طرح نیو کلئیر ہتھیار بنا نے کی سوچ کو پروان چڑ ھا یا گیاجب ڈا کٹر عبدالقد یر خان کو پاکستان کے نیو کلئیر پاور بننے کے پروگرام کا پتہ چلا تو انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے رابطہ کر کے ایٹم بم بنا نے کیلئے اپنی خدمات کی پیش کر دیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے تسلی بخش جواب ملنے پر ڈا کٹر عبدالقدیر خان نے برازیل سے پاکستان کیلئے رخت سفر باندھا اور پاکستان آ کر ایٹمی پروگرام پر کام شروع کردیا۔ اُن کی دن رات کی محنت کی وجہ سے بالآخر پاکستان نیو کلیئر پاور بن گیا۔

کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری کا قیام:
ذوالفقار علی بھٹو نے یورینیم کی افزود گی کو بہت خطر ناک محسو س کر تے ہو ئے کسی محفوظ مقام کی تلاش شرع کردی ۔ اس سلسلہ میں ذوالفقار علی بھٹو نے ڈاکٹر عبد القدیر خان سے ملا قات کی ۔ دونوں ایک تجر بہ گاہ بنانے پر متفق ہو گئے جہاں پاکستان ایٹامک انر جی کمیشن کی کو ئی مدا خلت نہ ہو ۔ اُنہوں نے اسے ’’انجینئرنگ ریسرچ لیبار ٹری ‘‘ کا نام دیا اور 1976 میں اُسے انجینئر کو ر کے بریگیڈیئر زاہد علی اکبر کے سپر د کر دیااور بر گیڈیئر زاہد کو میجر جنرل کے عہدے پر تر قی دیکر انہیں ’’KRL‘‘ کا چیف ڈا ئر یکٹر بنا دیا ۔میجر جنرل زاہد نے یورینیم کی افزودگی کیلئے بحیثیت تجر بہ گاہ کہوٹہ کا علاقہ منتخب کیا ۔کچھ عر صہ کے بعد آرمی نے اپنی ضرورت کے پیش نظر میجر جنرل زاہد علی اکبر کو واپس عسکری خد مات کیلئے بلایا اور KRL کا چارج ڈا کٹر عبد القدیر خان نے سنبھال لیا۔ ڈا کٹر عبد القدیر خان نے وہ تمام علم جو انہوں نے اپنے سا تھ لا یا تھا یہاں آز مانا شروع کیا اور بہت جلد اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے او ر1989 میں کہوٹہ ریسرچ لیبار ٹری نے ایٹم بم بنا نے کی صلا حیت حا صل کر لی۔
عبدالقدیر خان اور ایٹمی دھماکے:
عبد القدیر خان وہ ما یہ ناز سائنسدان ہیں جنہوں نے آ ٹھ سال کے انتہائی قلیل عر صے میں انتھک محنت اور لگن کے سا تھ ایٹمی پلا نٹ نصب کر کے دنیا کے نا مور نو بل انعام یا فتہ سائنسدانوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ مئی 1998 کو انہوں نے بھارتی ایٹمی تجر بوں کے مقابلے میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے تجر باتی ایٹمی دھما کے کر نے کی در خواست کی ۔ با لآخر میاں نواز شریف کے دورحکومت میں پاکستان نے چاغی کے مقام پر چھ کامیاب تجر باتی ایٹمی دھماکے کر کے ایٹمی قوت کا اعلان کر دیا۔ اس مو قع پر ڈا کٹر عبدالقد خان نے پورے عالم کو پیغام دیا کہ ہم نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔یوں وہ پوری دنیا میں مقبول عام ہو گئے ۔
اس وقت کے سعودی عرب کے مفتی اعظم نے عبدالقدیر خان کو اسلامی دنیا کا ہیرو قرار دیا اور پاکستان کو ہر حا لت میں تیل مفت فراہم کر نے کا فرمان جا ری کردیا گیا۔ اس کے بعد پاکستان کو سعودی حکومت کی طرف سے خام تیل مفت فراہم کیا جا تا رہا ۔ مغربی دنیا نے پروپیگنڈہ کے طور پر پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم کا نام دیا جسے ڈا کٹر عبد القد یر خان نے بخو شی قبول کر لیا۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان کے اعزازات :
1۔ ہلا ل امتیاز (14اگست 1989)
2۔ نشان امتیاز 14اگست(1996)
3۔ نشان امتیاز (23مارچ 1999)
4۔ نشان پاکستان
ڈاکٹر عبدالقدیر خان آج کل فلاح و بہود کے کاموں میں حصہ لے رہے ہیں اور اس وقت پاکستان کی نامور بزرگ شخصیات میں شامل ہیں۔ ان سے ہر عمرکے پاکستانی خواہ وہ بچے ہوں یا بڑے ،پیار کرتے ہیں اوران پر فخر کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں