52

ڈاکٹر اسرار احمد: یوٹیوب نے پاکستانی مذہبی سکالر ڈاکٹر اسرار احمد کا چینل کیوں بند کیا؟

دنیا کی مقبول ویڈیو سٹریمنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے تنظیم اسلامی کے مرحوم بانی اور مذہبی سکالر ڈاکٹر اسرار احمد کا چینل بند کر دیا ہے۔
یوٹیوب نے یہودیوں کے ہفتہ وار جریدے ’دی جیوز کرونیکل‘ کو بتایا ہے کہ ڈاکٹر اسرار احمد کے چینلز کو نفرت انگیز تقاریر سے متعلق پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر ہٹا دیا گیا ہے۔ دی جیوز کرونیکل کے مطابق یو ٹیوب گزشتہ جون سے نفرت انگیز مواد کی تحقیقات کر رہا تھا۔ جریدے کے مطابق اس سے قبل یوٹیوب نہ صرف چینلز کو ہٹانے میں ناکام رہا بلکہ اس نے کوئی جواب بھی نہیں دیا تھا۔
یہودیوں کے ہفتہ وار جریدے ’دی جیوز کرونیکل‘ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ میں یہودیوں کی عبادت گاہ میں لوگوں کو یرغمال بنانے والا ملزم ڈاکٹر اسرار کی ویڈیو دیکھتا تھا۔
امریکی ریاست ٹیکساس کے کولیول نامی علاقے میں رواں سال جنوری میں یہودی عبادت گاہ میں ملک فیصل اکرم نامی شخص نے چار افراد کو یرغمال بنالیا تھا۔ اسے دس گھنٹے کے محاصرے کے بعد ایف بی آئی نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب کہ تمام یرغمالی بحفاظت فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
ملک فیصل کا تعلق برطانیہ کے شہر بلیک برن سے تھا۔ ہفتہ وار جریدے دی جیوز کرونیکل کا دعویٰ ہے کہ انھیں ملک فیصل کی فیملی نے بتایا تھا کہ وہ یوٹیوب پر ڈاکٹر اسرار کی ویڈیو دیکھتا تھا۔
’پابندی اسلاموفوبیا کی بدترین شکل ہے‘
تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے چینل پر ’پابندی لگانا اسلاموفوبیا کی بدترین شکل ہے، یہ لاکھوں سبسکرائبرز اور کروڑوں صارفین کا حامل عالمی شہرت یافتہ چینل ہے جو اسلام دشمن قوتوں کی آنکھ میں کھٹکتا تھا۔‘
ڈاکٹر اسرار کے چینل کے ایک پارٹنر آصف حمید نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ تو ایسا ہے جیسے پب جی گیم دیکھ کر والدین کو مارنے والوں کا ذمہ دار پب جی بنانے والوں کو قرار دیا جائے یا ہالی ووڈ کی فلمیں دیکھ کر کوئی اقدام لینے والے کا ذمہ دار فلم بنانے والوں کو سمجھا جائے۔
’ڈاکٹر اسرار کی یہ تقاریر اب کی تو نہیں ہیں، وہ کئی سال پرانی ہیں۔ وہ قرآن و احادیث کی روشنی میں بات کرتے تھے۔ قرآن میں جو یہودیوں کا ذکر ہے اس کا حوالہ دیتے تھے۔ انھوں نے کبھی کسی کو بھڑکانے کی بات نہیں کی۔ ہمارے احتجاج بھی پرامن ہی ہوتے ہیں۔ تنظیم اسلامی قانون کو ہاتھ میں لینے کے ہر اقدام کی مذمت کرتی ہے۔‘
آصف حمید کا کہنا ہے کہ رمضان کے دنوں میں ڈاکٹر اسرار کی تقاریر ’نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سنی جاتی ہیں‘۔ اس مہینے میں چینل بند کرنا ’اسلام دشمنی کا ثبوت‘ ہے۔ بقول ان کے سوشل میڈیا تو اختلاف رائے کا ایک پلیٹ فارم ہے اس پر ’اسلام کے خلاف بھی مواد موجود ہے، ان کے خلاف کیا کوئی ایکشن لیا گیا ہے‘۔
آصف حمید نے بتایا کہ یوٹیوب کا ایک مروجہ طریقہ کار ہے اور وہ ادارے سے رابطے میں ہیں اور انھیں اپنے دلائل دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وہ چینل بحال نہیں کرتے تو قانون کے متبادل طریقہ کار اختیار کیے جائیں گے۔
ڈاکٹر اسرار احمد کون تھے؟
ڈاکٹر اسرار احمد نے جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم سے سفر شروع کیا اور مذہبی سکالر تک کا سفر طے کیا۔ ان کی پیدائش موجودہ انڈیا کی ریاست ہریانہ کے علاقے حصر میں 26 اپریل 1932 کو ہوئی۔ انھوں نے 1954 میں کِنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے گریجویشن کی اور بعد میں 1965 میں جامعہ کراچی سے اسلامک سٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔
تنظیم اسلامی کے مطابق وہ ایک نوجوان طالب علم کی حیثیت سے علامہ اقبال اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے زیر اثر رہے۔ انھوں نے مختصر عرصے کے لیے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے لیے کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد اسلامی جمعیت طلبہ اور پھر جماعت اسلامی کے ساتھ منسلک رہے۔
جماعت اسلامی نے جب انتخابی سیاست میں شمولیت کا فیصلہ کیا تو ڈاکٹر اسرار احمد نے اس سے اختلاف رائے کیا اور کہا کہ ایسا کرنا تنظیم کے انقلابی طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتا اور اپنی راہیں الگ کرلیں۔ اس کے بعد انھوں نے منحرف ہونے والے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر تنظیم اسلامی کی بنیاد رکھی۔
ڈاکٹر اسرار نے 1978 میں پاکستان ٹیلیویژن پر مذہبی پروگرام شروع کیا اور بعد میں جب نجی ٹی وی چینل آئے تو وہ قرآن ٹی وی کے ساتھ بھی منسلک رہے۔ 1981 میں انھیں اعلیٰ سول ایوارڈ تمغہ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔
ڈاکٹر اسرار کی اپریل 2010 میں وفات ہوگئی تھی۔
انھوں نے اس سے بہت پہلے 2002 میں ہی تنظیم اسلامی کی سربراہی چھوڑ دی تھی۔ تنظیم اسلامی مقامی اور بین الاقوامی مسائل پر محدود احتجاج کرتی ہے جبکہ سود اور ویلنٹائن ڈے کے خلاف اس کی تشہیری مہم جاری رہتی ہے۔
سوشل میڈیا پر احتجاج
ڈاکٹر اسرار احمد کا یو ٹیوب چینل بند ہونے پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ڈاکٹر اسرار ’احمد کا چینل بحال کرو‘ اور ’اسلاموفوبیا‘ کے نام سے ٹرینڈ جاری ہیں جس میں یو ٹیوب کو ٹیگ کر کے لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ چینل بحال کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں