84

ڈائلر اور میسیجز ایپ کے زریعے نجی ڈیٹا لیک کئے جانے کا انکشاف

ایک نئے تحقیقی مقالے میں گوگل کی کچھ ایپلی کیشنز کے حوالے سے ہوشرُبا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گوگل، ڈائلر اور میسجز جیسی ایپس سے صارفین کا ڈیٹا حاصل کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ یہ دونوں ایپلی کیشنز اینڈرائیڈ فونز پر پہلے سے ہی انسٹال ہوتی ہیں۔
مذکورہ مطالعے میں بتایا گیا کہ یہ ایپس صارف سے اجازت لیے بغیر گوگل کو ڈیٹا بھیجتی ہیں۔
اس اسٹڈی کو کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر ڈگلس لیتھ نے مرتب کیا ہے۔
لیتھ کا دعویٰ ہے کہ گوگل صارفین سے متعلق ڈیٹا اکھٹا کر رہا ہے، جس میں پیغامات کی SHA26 ہیش، ان کے ٹائم اسٹیمپ، رابطے کی تفصیلات، آنے اور جانے والی کالز کا لاگ اور تمام کالز کا دورانیہ شامل ہے۔
اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ گوگل نے خاموشی سے اپنی ڈائلر اور میسجز ایپ کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنے پر رازداری کی پالیسی دینے سے گریز کیا ہے، جو کہ زیادہ تر فریقین کے لیے واضح خلاف ورزی ہے۔
لیتھ نے گزشتہ سال اس تحقیق کے بعد سامنے آنے والے نتائج کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔
انوہں نے مشورہ دیا کہ سرچ کمپنی نے رازداری میں اس طرح کی غلطیوں سے بچنے کے لیے کچھ اہم تبدیلیاں کی ہیں۔
گوگل نے ڈائلر اور میسجز ایپ سے ڈیٹا حاصل کرنے کی وجوہات کی وضاحت کرنے کی پیشکش کی۔
گوگل نے کہا کہ میسج ہیش کو میسج سیکوینسنگ بگز کا پتہ لگانے کے لیے جمع کیا جاتا ہے۔ فون لاگز کو RCS پلیٹ فارم پر بھیجے جانے والے ون ٹائم پاس ورڈز کی خودکار شناخت کو بہتر بنانے میں مدد کے لیے لیا جاتا ہے۔
اگرچہ یہ وضاحتیں گوگل کو درحقیقت وہ کلین چٹ نہیں دیتیں جس کی وہ خواہش کرتی ہے، لیکن ہم امید کر رہے ہیں کہ مستقبل کے اینڈرائیڈ ورژنز اور ایپ اسٹور کی پالیسیوں میں بہت زیادہ ضروری تبدیلی لائی جائے گی، تاکہ صارفین اس کی ایپس کا استعمال کرتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں