97

چین: پہاڑ پر قدرت سے ہم آہنگ چاول کی انوکھی فصلیں

اکثر کہا جاتا ہے کہ دیوارِ چین انسان کی تخلیق کردہ وہ واحد چیز ہے جو خلا سے نظر آتی ہے مگر درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ یہ دیوار خستہ حال ہے اور اس کی چوڑائی ایک سڑک سے زیادہ نہیں۔ لیکن اگر کسی آلے کے بغیر انسانی آنکھ واقعی خلا کے مدار سے زمین پر بنائے گئے عجائبات کو دیکھ سکتی تو اس فہرست میں چین میں ’ہونگے ہانی رائس ٹیرسز‘ کو شامل کرنا چاہیے۔
چین کے جنوب مغربی صوبہ یونان کے پہاڑوں پر تراشے گئے وسیع و عریض چبوترے۔ یہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور 160 مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں جو کرہ ارض پر سب سے زیادہ شاندار اور حیران کر دینے والے مناظر پیش کرتے ہیں۔
مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ بڑے پیمانے پر بنایا گیا انجینئرنگ پراجیکٹ ہیں جس میں سیڑھیوں کی طرز پر پہاڑوں پر چبوترے بنائے گئے ہیں اور اس کا سہرا مقامی ’ہانی‘ لوگوں کے سر ہے۔ یہ چین کی 55 سرکاری طور پر تسلیم شدہ نسلی اقلیتوں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے پوری کمیونٹی کے فائدے کے لیے مقامی ماحول کا استعمال کیا ہے۔
’چائنا ہائی لائٹس‘ نامی ٹور کمپنی کے چینی صوبے یونان میں مقیم ایک گائیڈ اے ژیاؤئنگ کا کہنا ہے کہ ’قدیم زمانے سے ہانی قوم کے افراد نے پہاڑوں اور جنگلات سے موسم بہار کے پانی سے چبوتروں کی شکل میں بنائے گئے کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے گڑھے اور نہریں بنائیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جتنے گڑھے درکار تھے اُن کی تعداد بہت زیادہ تھی، اس کے لیے بہت زیادہ افرادی قوت اور مادی وسائل کی ضرورت تھی جو یہ لوگ اکیلے یا صرف ایک گاؤں آزادانہ طور پر برداشت نہیں کر سکتا تھا۔‘
ایک ہزار سال سے زائد عرصے پر محیط آزمائشوں اور غلطیوں سے سیکھ کر پہاڑوں پر بوئی گئی چاول کی فصلیں اس کمیونٹی کی جانب سے فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کام کرنے کی ایک متاثر کُن مثال ہے جس میں زمین کے استعمال کو علیحدہ ماحولیاتی زونز میں بلندی کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔
بارش اور پہاڑ پر چھائی دھند سے نمی کو ڈھلوانوں پر اونچائی پر موجود جنگلاتی علاقوں میں جمع کیا جاتا ہے اور اس سے زیر زمین پانی کی سطح میں آنے والی کمی کو بحال کیا جاتا ہے۔ فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے چشمے کا پانی بہایا جاتا ہے۔ جمع شدہ پانی بخارات بن کر بادلوں میں بدل جاتے ہیں اور بادل اونچائی پر موجود جنگلوں پر بارش برساتے ہیں۔ یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ دہراتا چلا جاتا ہے۔
اے ژیاؤئنگ کا کہنا ہے کہ ’ہانی لوگوں نے ہمیشہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزاری ہے۔ اوپر جنگلات، درمیان میں دیہات، نیچے چبوترے اور پانی کے نظام اور ان سب کے درمیان بہتی نہر ہے، اس طرح ’چار قدرتی عناصر‘ کا ایک منفرد ماحولیاتی نظام تشکیل دیا گیا ہے۔ جنگلات، گاؤں، چبوترے اور پانی کا نظام۔
یہ حکمت عملی نہ صرف چاول کی کاشت میں، بلکہ لکڑی، سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار سے لے کر بطخوں اور مچھلیوں کی افزائش اور روایتی ادویات میں استعمال ہونے والی جڑی بوٹیوں کے جمع کرنے تک ہر چیز میں مدد فراہم کرتی ہے۔ ایک طرح سے دیکھیں تو یہ چبوترے ہانی لوگوں کے لیے پورے سال کے دوران ذخیرہ کا ذریعہ ہیں۔
’یونان: چائنا ساؤتھ آف دی کلاؤڈز‘ کے مصنف امریکی ماہر نسلیات جم گڈمین جن کا علاقے کے قبائلی لوگوں کے ساتھ کئی دہائیوں سے رابطہ رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’انجینیئرڈ زمین سے ہر وقت پانی بہتا رہتا ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’دنیا میں کہیں اور چبوتروں کے نظام میں ایسی سہولت نہیں ہے۔ لہٰذا، سردیوں کے مہینوں میں، جب چاول اگانے کے موسم نہیں ہوتا تب بھی یہ چبوترے مچھلیوں اور مینڈکوں، گھونگوں اور اچھی چیزوں کے لیے ایک مفید جگہ ہیں جنھیں ہانی افراد کھا سکتے ہیں۔‘
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہانی قوم تیسری صدی کے آس پاس ویتنام کے ساتھ یونان کی موجودہ سرحد کے قریب واقع ایلاؤ کے پہاڑی علاقے میں آئے تھے، انھوں نے سخت، بنجر اور انتہائی مشکل چنگھائی تبتی سطح مرتفع سے جنوب کی طرف ہجرت کی تھی۔ انھیں وہاں جو کچھ ملا اس سے وہ بہت متاثر ہوئے، زرخیز زمین، ہلکی آب و ہوا، بہت زیادہ بارش۔ انھوں نے یہاں بسنے کا فیصلہ کیا۔
جم گڈمین کا کہنا ہے کہ ’80 سے زیادہ دیہات چبوتروں سے مستفید ہوتے ہیں، پانی ایک ایسی چیز ہے جو نہ صرف ہانی قوم کی بقا کے لیے اہم ہے، بلکہ کمیونٹی میں ہم آہنگی کے لیے بھی ضروری ہے۔ رسد کی مساوات گروپ کی کامیابی کا نقطہ آغاز ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہانی افراد نے زمین کو باشعور طریقے سے انجینیئر کیا، آبی گزر گاہیں بنائیں، بند اور پانی تقسیم کرنے کا نظام قائم کیا اور ان سب کا استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا کہ علاقے سے پانی منصفانہ طریقے سے گزرے۔‘
جم گڈمین نے یہ بھی بتایا کہ ’ہر گاؤں میں ایک سرکاری ’واٹر گارڈین‘ ہوتا ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پانی یکساں طور پر تقسیم کیا جائے۔ جس خاندان کی زمین چبوترے کے نیچے ہے اسے اتنا ہی پانی ملتا ہے جو سب سے اوپر والے کو ملتا ہے۔‘
کسی بھی اونچے مقام سے دیکھیں تو یہ غیر متناسب چبوترے کچھ فٹ بال کی پچز جتنے جبکہ باقی بیڈ شیٹ سے بڑے نہیں، اور یہ سب واضح طور پر گہرے رنگ کی کیچڑ کو اکٹھا کر کے خم کھاتی دیواروں سے تقسیم کیے گئے ہیں ایک بڑے پزل کی طرح نظر آتے ہیں۔
موسم سرما اور بہار میں، چبوترے آسمان کی عکاسی کرنے کے لیے پانی سے بھر جاتے ہیں، یہ سب ایک سٹینڈ گلاس کی کھڑکی کے پینل سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ہانی کے کسانوں نے ٹینگ شاہی خاندان (618-907 عیسوی) کے دور میں ان پہاڑوں پر چبوتروں کو تراشنا شروع کیا اور اس مخصوص طریقے سے پہاڑوں کو تراشنے کا ذکر تاریخ میں ایک نسل سے اگلی نسل کو ملتا رہا ہے اور اس وقت ہی سے چبوتروں کی دیکھ بھال کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔
یہ سطح سمندر سے 500 میٹر سے بھی کم بلندی پر دریا کے کنارے شروع ہوتے ہیں اور 1,800 میٹر سے زیادہ بادلوں سے لپٹی ہوئی بلندیوں تک موجود ہیں اور کچھ کی ڈھلوان 70 ڈگری تک ہے۔ ان کے ذکر کرنے کے لیے ’جنت کی سیڑھیوں‘ والی اصلاح کا استعمال کرنا مناسب ہو گا۔
اس سے بھی زیادہ متاثر کُن بات شاید یہ ہے کہ یہ چبوترے ہمیشہ سے ہاتھوں سے تراشے گئے ہیں اور آج بھی انھیں تعمیر کرنے کا طریقہ وہی ہے جو ہانی قوم کے آباؤ اجداد کا تھا۔
جم گڈمین کہتے ہیں کہ ’آپ چبوتروں پر مشینی طریقہ نہیں لاگو کر سکتے۔‘ اُنھوں نے اس بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ ٹریکٹر یا دیگر مشینوں کو ان کی شکل اور مقام کی وجہ سے استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اکثر گھٹنوں تک پانی سے بھرے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہانی اب بھی بھینسوں کا استعمال کر رہے ہیں یا ہاتھ سے محنت کر رہے ہیں، وہی چننے اور کدالیں استعمال کر رہے ہیں اور ہاتھ کے اوزار جو وہ سینکڑوں سالوں سے استعمال کر رہے ہیں۔‘
فصل لگانے کے ہر موسم کے ساتھ بتدریج توسیع کیے جانے کے باوجود، ہانی قوم کی یہ بہت عظیم الشان انجینئرنگ اور تجریدی آرٹ ورک کی مثال صدیوں تک باقی دنیا سے بڑی حد تک پوشیدہ رہی ہے۔
اس بارے میں 1890 کی دہائی میں اُس وقت ایک معتبر غیرملکی شخص کا بیان سامنے آیا جب اورلینز کے شہزادہ ہینری نے ویتنام سے یونان تک ایک فرانسیسی مہم کی قیادت کی، جس میں دریائے اروادی کے سرے کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی جو برما کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
پرنس ہینری نے لکھا ’یہاں کی پہاڑیوں کو دو تہائی اونچائی تک چاول کے کھیتوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے جو باقاعدگی سے چبوتروں کی طرح ابھرتے ہیں جن کے اوپر پانی جھرنوں کی طرح ٹپکتا ہے اور جو دھوپ میں شیشے کی طرح چمکتا ہے۔‘ پرنس ہینری نے مزید لکھا ’آبپاشی کا یہ طریقہ آرٹ کے زبردست فن پارے کی طرح تھا اور تمام پشتوں کو ہاتھ یا پاؤں سے شکل دی جاتی تھی۔‘
سنہ 1920 کی دہائی کے اوائل میں اس وقت کے سب سے بڑے سفری مصنفین میں سے ایک امریکہ کے ہیری اے فرانک تھے اور وہ بھی ویتنام سے یونان تک پہنچے اور اس علاقے کے ناہموار راستوں سے گزرتے ہوئے، اس کے مناظر کا فرانسیسی ساختہ تنگ گیج کی ریلوے پر سفرکرتے ہوئے اس کی کھڑکی سے مشاہدہ کیا۔
ہیری اے فرینک نے اپنی کتاب روونگ تھرو سدرن چائنا (1925) میں اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہر طرف چبوترے ہیں، سیڑھیوں سے زیادہ بڑی ڈھلوان ہے، لیکن جتنے تنگ ہیں، اتنے ہی اونچے ہیں، ان کے ارد گرد ہر طرف پہاڑوں پر چاول کے نئے کھیت ہیں۔‘
لیکن پھر 1930 کی دہائی میں شروع ہونے والی چین کی جاپان کے ساتھ طویل جنگ، اس کے بعد خانہ جنگی، انقلاب اور نئے کمیونسٹ ملک کے نام نہاد ’بیمبو کرٹن‘ کے پیچھے یہ پہاڑی سلسلہ غیر ملکیوں کے لیے بند ہو گئے اور پھر 80 کی دہائی میں جا کر دوبارہ اس تک رسائی ممکن ہوئی۔
سنہ 2000 کی دہائی تک کسی نے اس طرف زیادہ توجہ نہیں دی مگر نئی ٹارمیک سڑکوں کی آمد ہوئی اور مقامی حکام نے ان چبوتروں کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کرنے کا عزم کیا۔ (یہ بالآخر 2013 میں حاصل کیا گیا، اقوام متحدہ کی ایجنسی نے کہا ’چاول کی فصلوں والے چبوتروں کی زمین کی دیکھ بھال کا پائیدار نظام لوگوں اور ان کے ماحول کے درمیان، بصری اور ماحولیاتی دونوں لحاظ سے غیر معمولی ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔
پچھلی دہائی میں اس طرح کی عجیب و غریب جغرافیہ کو چھپائے رکھنا ناممکن رہا ہے اور اس کی وجہ فوٹو گرافی کے وہ شوقین اور باہمت افراد ہیں جو زیادہ تر چین کے امیر شہروں سے تعلق رکھتے ہیں، جنوری کے آخر یا فروری کے شروع میں چین کے نئے قمری سال کی تعطیلات کے دوران سیلاب زدہ چبوتروں پر اکٹھے ہوتے ہیں۔ حیران و پریشان کر دینے والے مناظر کو میگا پکسلز میں قید کرنا اور پھر سوشل میڈیا کو ان سے بھر دینا۔
اگرچہ چبوترے گرمیوں میں چاول اگنے کے موسم میں ایک متحرک زمرد رنگ سے لبریز ہو جاتے ہیں (مقامی علاقے تک محدود آب و ہوا کا نظام میں سال میں صرف ایک چاول کی فصل لگائی جا سکتی ہے) لیکن زمین نومبر سے اپریل کے آخر تک سب سے زیادہ دلفریب ہوتی ہے، جب پانی سے بھرے چبوترے قدرت کے بنائے ہوئے آئینے بن جاتے ہیں جو ہر طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے ساتھ حسین نیلے رنگ اور نارنجی رنگوں سے بھر جاتے ہیں اور سنہری، فیروزی اور قرمزی رنگ میں چمکتے ہیں۔
دور سے اس نظارے کو دیکھیں تو کبھی کبھار چلتے کسان اور بھینسیں خوشنما سائیوں کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں۔
ہانی گاؤں کی خوبصورتی ایسی ہی ہے جیسے کوئی حسین پوسٹ کارڈ ہو، یہاں کچی اینٹوں اور پتھر والے گھروں کے اوپر پر مشروم کی شکل جیسے چھپڑ والی چھت ہوتی ہے۔ اس محسور کن منظر کے ساتھ ہمیشہ گڑگڑاتی ندیوں اور آبپاشی کے لیے بنائے گئے راستوں پر بہتا پانی ماحول کو حسین تر بنا دیتا ہے۔
یوان یانگ کاؤنٹی، چبوتروں کا مرکز ہے۔ یہاں کی آبادی تقریباً 370,000 افراد پر مشتمل ہے، جن میں سے تقریباً 90 فیصد کا تعلق قبائلی گروہوں سے ہے۔ شینکن جیسے دیہات میں بازار کی ہلچل والے دن آتے ہیں جس میں ہانی اپنے میاؤ، یاؤ، ڈائی، زوانگ اور یی کے پڑوسیوں کے ساتھ تجارت کرنے اور علاقائی کاروبار میں شرکت کرنے، کھانے پینے، گپ شپ لگانے اور اپنے مخصوص، لمبے لمبے بانس کے پائپوں سے سگریٹ نوشی کرنے کے لیے شامل ہوتے ہیں۔
خواتین اکثر رنگ برنگے اور کڑھائی والے قبائلی ملبوسات اور چاندی کے بھاری زیورات پہن کر سج جاتی ہیں۔
تاہم شینکن سے 200 میٹر کے فاصلے پر کسی بھی سمت چلے جائیں تو بازار کی خرید و فروخت اور رونق سے آسانی سے دوری اختیار کی جا سکتی ہے۔ چبوتروں کے درمیان سے گزرنے والی پگڈنڈیوں پر ہائیک کریں یا یہاں کیچڑ کی مٹی کی دیواروں پر چلیں بشرطیکہ اگر آپ ہلکے قدموں کے ساتھ ان پر چل سکتے ہوں تو اس صورت میں آپ اپنے آپ کو بالکل اکیلے پائیں گے۔
ایک اس دور میں جب عالمی سطح پر قدرتی وسائل کم ہو رہے ہیں، جم گڈمین کا کہنا ہے کہ ’ہانی دنیا کو زمین پر اچھا نظام قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیات کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ رہنے کا سبق بھی دے سکتے ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’انھوں نے جو کچھ حاصل کیا ہے اس پر انھیں فخر ہے۔ انھوں نے ایک شاندار کام سرانجام دیا جو ممکنہ طور پر 1,300 سالوں سے قائم ہے۔‘
جم گڈمین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’انھیں وہ تصویر دکھائیں جو آپ نے ہانی لوگوں کی اُن کے روایتی کپڑوں میں ملبوس اور جیولری پہنے ہوئے کھینچی ہو تو وہ اسے دیکھ کر کندھے اچکا دیں گے۔ انھیں چاولوں کے چبوتروں کی تصویر دکھائیں تو ان کے چہرے پر آپ کو بڑی مسکراہٹ نظر آئے گی اور وہ آپ کو انگوٹھے سے اشارے دیں گے کہ زبردست ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں