23

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے تحفظات اور آئی جی پنجاب

4 / 100

چار پانچ روز پہلے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ایک معاملے کی سماعت کے دوران جو ریمارکس دیے میرے لئے وہ چونکا دینے والے تھے‘بھلا اس قدر طاقتور اور اہم شخصیت پولیس سے خود کو غیر محفوظ کیوں سمجھنے لگی ہے۔ 7جون کو کچھ ٹی وی چینلز نے یہ ریمارکس بطور ٹکر چلائے۔اگلے دن 8جون کو تمام قومی اخبارات نے انہیں شائع کیا۔ محترم چیف جسٹس قاسم خان نے جو کہا ہے اس کے پیچھے ایک کہانی ہے، چیف جسٹس کے ریمارکس کے بعد مجھے اس کہانی تک پہنچنے کا تجسس ہوا ۔ معاملہ ایک بد نظمی اور پولیس کے جرم کا ہے جسے غلط طریقے سے چھپایا گیا ۔ چیف جسٹس قاسم خان کو یہ کہنے کی نوبت کیوں آئی کہ ’’میری ریٹائرمنٹ کے بعد پولیس میری زندگی اجیرن کرنے کو تیار ہے‘ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ 5جولائی کے بعد مجھے اور میرے اہل خانہ کو پولیس سے خطرہ ہو گا۔ اب آتے ہیں اس کیس پر جس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ایسے ریمارکس دیے۔ معاملہ ٹائون شپ لاہور میں ایک پولیس چوکی کی جگہ سے متعلق ہے۔ ایک شہری نے عدالت سے رجوع کیا کہ اس نے ٹائون شپ میں پلاٹ خریدا‘ پلاٹ کی رقم ایل ڈی اے کو ادا کرنے کی رسیدیں اس کے پاس ہیں لیکن اس جگہ پولیس نے قبضہ کر رکھا ہے۔ مدعی نے ایل ڈی اے اور پولیس کے خلاف درخواست دائر کی۔ اس وقت ٹائون شپ پولیس سٹیشن کا ایس ایچ او ابرار شاہ اور ڈی ایس پی ذوالفقار بٹ تھے۔ ابرار شاہ کے عدالت میں دیے بیان کے مطابق اعلیٰ پولیس حکام نے انہیں ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر عدالت میں پولیس کا موقف دینے کے لئے رپورٹ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پاس جمع کروائیں۔ ایس ایچ او نے ڈی ایس پی کو ڈی آئی جی لیگل کا پیغام دیا کہ شہری کی رٹ کے جواب میں تیار کی گئی رپورٹ ایس پی کو فارورڈ کر دیں‘ ڈی ایس پی نے ایسا کر دیا۔ اس رپورٹ پر متعلقہ ایس پی کے ابھی دستخط نہ ہوئے تھے کہ ابرار شاہ کو ڈی آئی جی لیگل نے رپورٹ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو پہنچانے کا کہا۔ اس دوران ایس پی تبدیل ہو گیا ۔نئے ایس پی حفیظ الرحمان بگتی آئے تو انہوں نے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو چوکی کی جگہ فروخت کرنے کا قصور وار قرار دیا۔ ان دونوں کے متعلق یہ خبر میڈیا میں خوب پھیلی، دونوں کی بدنامی ہوئی اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش کی گئی۔ مدعی کی رٹ پر جب عدالت نے کارروائی شروع کی تو چیف جسٹس صاحب نے پولیس سے مذکورہ جگہ کی قیمت ادائیگی کی رسیدیں‘ الاٹمنٹ لیٹر‘ چوکی قائم کرنے کی تاریخ۔ چوکی کا نام‘ چوکی کس نے بنائی‘ اس چوکی پر کن اہلکاروں کی تعیناتی ہوئی وغیرہ جیسی تفصیلات دریافت کیں۔ نئے ایس پی حفیظ الرحمن بگتی کے پاس کسی چیز کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ اسی دوران پولیس نے آئندہ سماعت سے قبل مدعی کے گھر چھاپہ مارا۔ چیف جسٹس قاسم خان نے اس امر کا نوٹس لیا۔ اس حوالے سے پولیس خاطر خواہ جواب نہ دے سکی۔ عدالت عالیہ نے ڈی آئی جی لیگل اور متعلقہ ایس ایچ او سے عدالت کے اندر ہی تصدیق کروائی۔ کسی نے ایس پی کے موقف سے اتفاق نہ کیا۔ اس پر ایس پی حفیظ الرحمن بگتی نے عدالت سے معافی اور قبضہ چھوڑنے کا وعدہ کیا‘ عدالت کو مقبوضہ جگہ کی چابیاں دینے کا بھی کہا۔ یاد رہے کہ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو قصور وار لکھنے والے ایس پی صدر حفیظ الرحمن بگتی اور ایس پی سکیورٹی سردار مہر تھے۔ انہی کے کہنے پر دونوں معطل ہوئے حالانکہ وہ دونوں پولیس کو قبضہ گروپ کے الزام سے بچا رہے تھے۔ پولیس کے کچھ نا سمجھ افسران کا خیال ہے کہ محکمے کے زیر قبضہ جگہ کو کسی پرائیویٹ شخص کی ملکیت بتا کر محکمے کی ناک کاٹی گئی۔ معطل انسپکٹر اور ڈی ایس پی عدالت کو بتا چکے کہ انہوں نے اعلیٰ حکام کے کہنے پر وہی رپورٹ پیش کی جو سچ ہے۔ پولیس کسی کی جائیداد پر کیسے قبضہ کر سکتی ہے؟ خصوصاً اس صورت میں جب ایل ڈی اے کا ریکارڈ‘ ادائیگی کی رسیدیں اور دیگر قانونی شواہد مدعی کے حق میں ہوں۔ ممکن ہے ایس پی حفیظ الرحمن بگتی کسی وجہ سے ماتحتوں سے ناراض ہوں یا پھر کوئی انہیں غلط معلومات فراہم کر کے محکمے کو بدنام کرانا چاہتا ہو۔ کوئی تیسری وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ میں نے چار دن اس کیس کی رپورٹنگ پڑھی ہے۔ چیف جسٹس روزانہ کہتے رہے ہیں کہ انہیں ایس پی کی معافی قبول نہیں اور وہ اسے جیل بھیجیں گے۔ ہو سکتا ہے دونوں جانب کے وکلا اس معاملے کو کسی صلح صفائی پر لے آئیں مگر اس سے پولیس کے بطور محکمہ ایک خطرناک رجحان کا اندازہ ہوا۔ ٹائون شپ قبرستان کے سامنے تھانہ کئی عشرے رہا۔ مالک مکان کو طویل جدوجہد کرنا پڑی ہو گی۔ فیصل ٹائون کے جن رہائشی فلیٹس میں تھانہ ہے جانے ان کے مالکان پر کیا بیتتی ہے‘ گرین ٹائون تھانہ پہلے رہائشی کوارٹروں میں تھا۔ وہاں بھی مسائل تھے۔ ایسی خبریں بھی ملتی رہتی ہیں کہ تھانے کا بل ادا نہ کرنے پر جب بجلی کاٹی گئی تو پولیس نے محکمہ بجلی کے اہلکاروں کو پکڑ لیا۔ اب ذرا ایل ڈی اے کی سن لیں‘ ایل ڈی اے حکام نے لاہور ہائی کورٹ میں جو بیان جمع کرایا اس میں بتایا کہ 1991ء میں محکمے نے پولیس حکام کو تھانہ یا چوکی بنانے کے لئے جگہ کی پیشکش کی تھی۔ یہ پیشکش ایک ماہ کے لئے تھی جس کے دوران پولیس کو اسے قبول کرنے اور ادائیگی کے معاملات پر بات کرنا تھی۔ ستم یہ کہ پولیس نے اس پیشکش کا بھی جواب تک نہ دیا۔ ہمیں نہیں معلوم اس معاملے پر آئی جی انعام غنی اب تک کیوں فعال نظر نہ آئے ، ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ چیف جسٹس اس کیس کا فیصلہ کب اور کیا کرتے ہیں لیکن یہ ضرور جانتے ہیں کہ پولیس میں اصلاحات صرف تھانے کی عمارتوں اور نئی گاڑیوں کی صورت میں نہیں ہونی چاہئیں ۔بطور محکمہ پولیس کی ساکھ اور داخلی احتساب کا نظام کمزور دکھائی دے رہا ہے ،چیف جسٹس جیسی ذمہ دار شخصیت کے تحفظات بے بنیاد نہیں ہو سکتے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں