69

چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوں سیاسی استحکام تک معیشت نہیں سنبھل سکتی

چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوں سیاسی استحکام تک معیشت نہیں سنبھل سکتی
اسلام آباد(ایجنسیاں‘ٹی وی رپورٹ) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ہمیں ہرانے کیلئے ریاستی مشینری کا استعمال کیا گیا‘ بند کمروں میں فیصلے کرنیوالے غلط فہمی میں نہ رہیں‘ ہمارامینڈیٹ چوری کرنیوالوں کواب ہرجگہ شکست ہوگی‘ضمنی الیکشن میں جس طرح لوگ نکلے یہ نیا پاکستان ہے‘جب تک سیاسی استحکام نہیں آتا معیشت اوپر نہیں جائےگی اور خطرہ ہے کہ حالات اس نہج پر نہ پہنچ جائیں کہ معاملات سب کے ہاتھ سے ہی نکل جائیں‘ سیاسی بحران سے نکلنے کا واحد حل صاف اور شفاف الیکشن ہیں ‘ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ فوری استعفیٰ دیں ‘ہمیں ان پر اعتماد نہیں‘ نیب قوانین میں ترمیم کا بل آج سپریم کورٹ میں چیلنج کروں گا۔پیر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کے لیے مصنوعی سیاسی بحران پیدا کیا گیا، جب ملک صحیح سمت جارہا تھا تو ہمارے خلاف سازش کی گئی‘اب شعور کا جن بوتل سے نکل آیا ہے اس کو واپس نہیں ڈال سکتے‘ ہم کسی اور کی غلامی کے لیے تیار نہیں ہیں‘جب ہم ایک قوم بنیں گے تو قرضوں سمیت جتنے بھی مسئلے ہیں یہ حل ہونا شروع ہو جائیں گے ۔ چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ہمیں الیکشن ہرانےکے لیے تمام حربے استعمال کیےگئے ‘ موجودہ چیف الیکشن کمشنرکی زیرنگرانی صاف اور شفاف الیکشن نہیں ہوسکتے۔ انہوںنے کہا کہ 9 اپریل کو صرف اپنی ڈائری ہاتھ میں پکڑ کر وزیراعظم ہاس سے نکلا، 25 مئی کو ساری قوم موجودہ حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر نکلی، یہ حکمران قوم کو انسان نہیں بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں‘ انہوں نےکہا کہ جب ہم کہتے تھے عالمی مہنگائی ہے تو یہ لانگ مارچ نکالتے تھے‘ عمران خان نے کہاکہ ہمیں پتا تھا یہ لوگ کیوں اقتدار میں آنا چاہتے تھے، آتے ہی ان لوگوں نے 11سو ارب روپے کےکیسز ختم کرا دیے ‘نیب قوانین میں ترمیم کا بل آج سپریم کورٹ میں چیلنج کروں گا۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آج پاکستان دیوالیہ ہونے والے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے‘موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ منفی کردی ہے‘ ریٹنگ منفی ہونےکا مطلب ہمیں قرضے بھی مہنگے ملیں گے، خدشہ ہے کہ واپڈا کو ڈیم بنانے کے لیے اب پیسے نہیں ملیں گے‘جب سے یہ آئے ہیں زرمبادلہ کے ذخائر آدھے رہ گئے ہیں، آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعدروپیہ مضبوط ہونا چاہیے تھا لیکن مزید گرگیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں جیسا الیکشن کرایا ایسے ہی الیکشن کرانے ہیں تو بحران بڑھےگا‘سب سے زیادہ افسوس چیف الیکشن کمشنر پر ہے جس نے بددیانتی کی اور ن لیگ کو جتوانے کی پوری کوشش کی۔تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اشرافیہ نے ملک سے باہر کیوں فلیٹ خریدے ہوئے ہیں، اپنا پیسہ باہر کیوں رکھا ہوا ہے؟ کیونکہ یہ لوگ پاکستان پر اعتماد ہی نہیں کرتے ۔ عمران خان نے کہا کہکوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ بند کمروں میں ملک کے مستقبل کا فیصلہ کر لیں گے‘یہ قوم حقیقی آزادی کی طرف چلی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں