33

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کیخلاف قانونی کارروائی سے متعلق وزارت داخلہ میں 2اجلاس

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کیخلاف قانونی کارروائی سے متعلق وزارت داخلہ میں 2اجلاس
اسلام آباد (نیوز ایجنسیز) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کیخلاف قانونی کارروائی سے متعلق وزارت داخلہ میں اتوار کے روز 2؍ اجلاس ہوئے اور مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق رائے مانگی گئی کہ عمران خان پر الگ سے مقدمہ درج ہو یا شہباز گل کیس کا حصہ بنایا جائے۔ ادھر وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران نیازی نے شہدا کے تقدس کو پامال کیا، سانحہ لسبیلہ شہدا کیخلاف عمران خان کی پشت پناہی پر منظم مہم چلائی گئی، گرفتار نہ کیا تو یہ قوم کو کسی حادثے سے دوچار کردیگا، وزیراعظم بھی گرفتاری چاہتے ہیں، جن دفعات کےتحت عمران خان کی گرفتاری چاہتا ہوں اس کیلئے کابینہ کی اجازت قانونی تقاضاہے، کابینہ کی منظوری کے بعد عمران خان کو گرفتار کرینگے،امیدہے کابینہ عمران خان کیخلاف مقدمہ کافیصلہ کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کیخلاف قانونی کارروائی سے متعلق اتوار کو وزارت داخلہ میں ہونے والے 2اجلاسوں میں مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ میں ایک ہی دن میں 2 اجلاس ہو ئے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایک واقعے کی 2 ایف آئی آر نہیں ہو سکتیں، شہباز گل کے حق میں نکالی گئی ریلی دفعہ 144 کی خلاف ورزی بھی تھی۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وزارت داخلہ نے عمران خان کیخلاف قانونی کارروائی کیلئے ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون سے 2 آپشنز پر رائے مانگ لی ہے۔ ذرائع کے مطابق رائے مانگی گئی کہ عمران خان پر الگ سے مقدمہ درج ہو یا شہباز گل کیس کا حصہ بنایا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان پر مقدمے کا فیصلہ ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت قانون کی رائے کے بعد کیا جائیگا۔ دریں اثناء تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد پولیس نےکل شام سے عمران خان اور انکی رہائش گاہ کی سکیورٹی واپس لے لی ہے۔ تاہم ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہےکہ عمران خان کی سکیورٹی واپس نہیں لی گئی، عمران خان کے ساتھ اور ان کی رہائش گاہ پر جتنی نفری تعینات تھی وہ موجود ہے۔ ترجمان کا کہنا ہےکہ عمران خان کی سکیورٹی واپس لیے جانے سے متعلق پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات میں صداقت نہیں ہے۔ قبل ازیں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب اور جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ کے میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران نیازی نے شہدا کے تقدس کو پامال کیا، سانحہ لسبیلہ شہدا کیخلاف عمران خان کی پشت پناہی پر منظم مہم چلائی گئی، عمران نیازی کا بیانیہ غیر ملکی ایجنڈا ہے، عمران نیازی نے پاکستان پر وہ الزامات لگائے جو دشمن ملک نے بھی نہیں لگائے، گرفتار نہ کیا تو یہ قوم کو کسی حادثے سے دوچار کردیگا، وزیراعظم بھی گرفتاری چاہتے ہیں، جن دفعات کےتحت عمران خان کی گرفتاری چاہتا ہوں اس کیلئے کابینہ کی اجازت قانونی تقاضاہے، کابینہ کی منظوری کے بعد عمران خان کو گرفتار کرینگے،امیدہے کابینہ عمران خان کیخلاف مقدمہ کافیصلہ کرے گی،گرفتار کیا جائیگا، عمران خان خود افسروں، ججز کو دھمکیاں اور شرم کے طعنے دیتے ہیں، کیا خود انہیں طیبہ گل اسکینڈل، محسن بیگ پر تشدد اور مجھ پر جھوٹا مقدمہ بناتے ہوئے کبھی شرم آئی، جب آپ بشیرمیمن کو بلاکر نواز،شہباز،حمزہ ،مریم نواز کیخلاف مقدمہ بنانےکاکہہ رہے تھے اس دن شرم نہیں آئی، عمران خان نے دھمکی دی،اب قانون کا سامنا کرنا ہو گا،لانگ مارچ کا منتظر ہوں 25 مئی سے زیادہ موثر جواب دینگے۔ انہوں نے مزید کہاکہ پی ٹی آئی نے عمران نیازی کے ایما پر سانحہ لسبیلہ کے شہدا کے خلاف بہت ہی افسوسناک اور قابل مذمت مہم جوئی کی،جس میں شہدا کے تقدس کو پامال کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذموم مہم کے تسلسل میں شہباز گل نے 8اگست کو ایک فکس میچ ایک فکس پروگرام کے طورپر ایک نجی چینل پر کیا ، جس کی باقاعدہ ریکارڈنگ موجود ہے کہ پروگرام میں شامل لوگ کس طرح پروگرام کی فکسنگ کرتے رہے۔ انہوں نے کہاکہ طے کیا گیا تھا کہ اتنے بجے فون آئیگا ، اتنے بجے پروگرام شروع ہوگا ، اتنے بجے یہ سوال کیا جائیگا، اس کے جواب میں آپ نے 14منٹ گفتگو کرنی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں