چہرے نہیں نظام بدلو 184

چہرے نہیں نظام بدلو۔ تحریر مفتی گلزاراحمدنعیمی

چہرے نہیں نظام بدلو۔

میں نے بروز اتوار دس ذوالحجہ کو ایک پوسٹ لگائی جس میں اہنا نقطہ نظر پیش کیا کہ نظام بدلنے سے ملکی مسائل حل نہیں ہو گے بلکہ ان لوگوں کو بدلنے کی ضرورت ہے جو ملکی ترقی اور نظام کو ناکام بنانے  میں پیش پیش ہیں۔میرا مقصد کسی شخصیت کے نقطہ نظر سے اختلاف قطعا نہیں تھا اور نہ ہے۔اسی طرح میرا مقصد کسی رہنماء کے نقطہ نظر کو سپورٹ کرنا بھی بالکل نہیں تھا اور نہ ہے۔لیکن  بعض احباب نے اس پر جو تبصرے لکھے ہیں ان سے محسوس ہورہا ہے کہ وہ میری اس تحریر کو اپنے قائد کے نقطہ نظر کے خلاف سمجھتے ہیں۔یہ بہت قابل افسوس ہے۔انہوں نے کچھ ایسے فقرے اور جملے بھی لکھے جو کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہیں۔مجھے حیرانگی ہوتی ہے کہ ہمارے اندر تربیت کا کتنا فقدان ہے۔ہم کس قدر متشدد ہوگئے ہیں۔خدا جانے کسی مذہبی سکالر یا شیخ طریقت کا نقطہ نظر اہل سنت کے ہاں کس طرح  نصوص کے مقام تک پہنچا گیا ہے کہ ان سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا۔اگر کسی جماعت کا کوئی کارکن یا لیڈر معقول رائے کی بنیاد پر اپنے قائد سے اختلاف کرے تو اسے فورا جماعت سے نکال دیا جاتا ہے یا پھے کم ازکم جماعت کے اندر اس کے لیے ایسے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں کہ وہ جماعت کے اندر رہنے کے قابل ہی  نہیں رہتا اور وہ جماعت کو چھوڑ دیتا ہے۔میں نے اپنے کئی دوستوں کو دیکھا ہے جنہوں بچپن سے لیکر جوانی تک اپنا خون جگر دیکر کسی جماعت کی جڑوں کو پختہ کیا ہے۔بعض وہ بھی میرے علم میں ہیں جہنوں نے سرکاری ملازمتیں چھوڑ دیں کیونکہ وہ  اپنے قائدین سے  انقلابوں کی نویدیں سن سن کر کچھ زیادہ ہی یقین کر بیٹھے تھے۔
ہماری مذہبی جماعتوں میں تعصب اور عدم برداشت اس عروج پر ہے کہ الامان والحفیظ۔
اگر کوئی آراء کے اختلاف کی بنیاد پر جماعت چھوڑ دے تو اس کی پچھلی تمام خدمات پر سرخ سیاسی سے قلم پھیر دیا جاتا ہے۔اسکی کردار کشی کی جاتی ہے۔وہ اگر کسی دوسری پارٹی میں جائے تو اس کے لیے عذاب, وہ اگر کوئی اپنا سیٹ اپ بنانا چاہے تو اس کے لیے جینا دوبھر کردیا جاتا ہے۔دوسری طرف آپ دیکھتے ہیں سیکولر جماعتوں کے لوگ پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے کی خوشی و
اور غم میں بھی شریک ہوتے ہیں اور ان کے دوستانہ مراسم بھی برقرار رہتے ہیں۔اس بنیاد پر ان کے درمیان کوئی عداوت نہیں ہوتی کہ اس نے پارٹی بدل لی ہے تو  اس کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات اب جائز نہیں رہے۔یہ چیزیں مجھے مذہبی  جماعتوں میں نظر آتی ہیں ۔شاید اسکی وجہ ہہ  ہے کہ ہمارے ہاں مدارس  میں بہت گھٹن کے ماحول میں بچوں کی تربیت ہوتی ہے۔ہم قرآن وحدیث پڑھاتے ہوئے بھی انکی متعصبانہ تربیت کرتے ہیں اور پھر یہ تعصب انکی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے ۔جب وہ کسی دوسرے ادارےیا جماعت میں جاتے ہیں تو اس عادت بد کو ساتھ  لیکر جاتے ہیں۔میرا خیال ہے اہل  مذہب کو کشادہ دلی سے اختلاف رائے کو برداشت کرنا چاہیے۔
اس ضمنی بات کے بعد میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔عرصہ دراز سے ہمارے ملک میں ایک نعرہ بلند ہورہا ہے کہ “چہرے نہیں نظام بدلو”۔اسکا واضح مفہوم یہ ہے کہ اس ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام ناکام ہوگیا ہے۔اس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ اس نظام کو بدل کر کونسا نظام لایا جائے? بحیثیت مسلمان میری تو اول ترجیح یہ ہوگی کہ اس ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ کیا جائے۔کیونکہ اس ملک کو کلمہ طیبہ کے نعرہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا۔بانیان پاکستان کی بھی یہی خواہش تھی کہ ہم برصغیر میں ایک ایسی تجربہ گاہ چاہتے ہیں جہاں ہم اسلامی طرز زندگی کو آزما سکیں۔بعض لوگوں کی خواہش ہے کہ یہاں صدارتی جمہوریت کا نفاذ ہو جبکہ بعض افراد اسے ایک سیکولر ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
اس ملک می. اکثریت کی رائے یہ ہے کہ اسلامی نظام نافذ ہو جس کے لیے یہ ملک معرض وجود میں آیا ہے۔ہماری بھی یہی خواہش  ہے کہ اللہ کرے ایسا ہوجائے۔مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ نظام کو تبدیل کون کرے گا۔???آپ خود بتائیں کہ اس وقت جو لوگ سیاست کے میدان میں ہیں وہ مذہبی ہوں یا سیکولر سب ناکام ہوگئے ہیں۔ان میں سے اکثر کرپشن کے گٹر میں سر تا پا ڈوبے ہوئے ہیں۔ان کو سیاست کی بجائے جیلوں میں ہونا چاہیے۔کیا یہ لوگ نظام بدلیں گے??اگر آپ کا جواب ہاں میں تو میری آپ سے کوئی بحث نہیں ہے لیکن اگر آپکا جواب نہیں میں تو میرا سوال ہے کہ کیا ہمارے پاس کوئی متبادل قیادت موجود? میرا جواب ہے کہ متبادل قیادت موجود نہیں ہے۔جب قیادت موجود نہیں ہے تو ہم کس سے مطاپبہ کرتے ہیں کہ چہرے نہیں نظام بدلو۔کیاان لوگوں سے ہم مطالبہ کررہے ہیں جو اس نظام کی خرابی کی بنیاد ہیں??
میں ایک طالب علم ہوں میری رائے میں خطاء ہوسکتی ہے مگر میں نے جو پڑھا ہے اور تاریخ کا مطالعہ کیا ہے اس میں تو مجھے یہی کچھ نظر آیا ہے کہ نظام کو بدلنے کے لیے سب سے پہلی ضرورت نظام بدلنے والے افراد کی تیاری ہے۔اس لیے نظام بدلنے سے پہلے افراد کو بدلنے کی ضرورت ہے۔اس ملک کے نظام سیاست کو چلانے والوں سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ اپنے آپ کو درست کر لیں گے۔اسی طرح وہ ادارے جو ملک کے نظام کو چلا رہے ہیں وہ اس ملک کو موجودہ نظام کے ساتھ ہی چلانا چاہتے ہیں۔
نظام کو بدلنے کے لیے ایسے افراد کی اور جماعت کی ضرورت ہوتی ہے جو موجودہ نظام کو چلانے والے افراد کی جگہ لے سکیں۔اس ملک میں جو جماعتیں نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگارہی ہیں انہوں نے افراد کی ایسی جماعت تیاری نہیں کی جو ان کرپٹ افراد کا متبادل بن سکے۔اس ملک میں ایک بڑا اتحاد بنا تھا جسکا منشور “نظام مصطفی کا نفاذ اور مقام مصطفی کا تحفظ” تھا.یہ پلیٹ فارم نظام کی تبدیلی میں اپنا کردار ادا کر سکتا تھا مگر اس کے پاس نعرے کے علاوہ نہ متبادل نظام تھا اور نہ ہی افراد تھے۔اس کے بعد ایک اور نعرہ “انقلاب”کے عنوان سے سامنے آیا کچھ سال اسکی بازگشت تھی مگر آج وہ بھی ہمیں کہیں نظر نہیں آتا۔آپ سب پاکستانی اس بات کا وسیع مشاہدہ رکھتے ہیں کہ آج مذہبی سیاسی جماعتیں سیکولر سیاسی جماعتوں کی بی ٹیم بن چکی ہیں۔پاکستان کے سیاسی منظر پر ہمیں کوئی جماعت ایسی نظر نہیں آتی جو نظام بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔پاکستان کے جتنے ریاستی ادارے ہیں وہ بھی اسی نظام کو ہی رواں دواں رکھنا چاہتے ہیں۔اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ لاقانونیت اور کرپشن ہے۔نظام انصاف جن ہاتھوں میں ہے وہ اس قابل نہیں ہیں کہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنا سکیں۔ہمارا عدالتی نظام انصاف کے اعتبار سے دنیا کے کمزور ترین عدالتی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔اگر اس نظام کو ٹھیک کر دیا جائے تو ہمارے نوے فیصد مسائل حل ہوسکتے ہیں۔اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے قیام پاکستان کے بعد اسے کوئی نظام دیا ہی نہیں ہے۔نہ ہم پورے طور پر جمہوری ہیں اور نہ پورے طور پر اسلامی۔ہمیں  اس ملک کو صالح قیادت دینا ہوگی جو ابھی تک تیار نہیں کی گئی۔پہلے قیادت تیار کریں پھر کسی دوسری طرف جائیں
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں