mazhar-barlas 34

چکوالی ثقافت اور اقبال کے نوجوان.مظہر برلاس

چکوال کی علمی اور روحانی ہستی 93 سالہ راجہ نذر حسین آف ہستال کی طرف سے ایک دعوت نامہ ملا۔ یہ دراصل ان کے پوتے رضا کی شادی کا کارڈ تھا۔ کارڈ پرسات فنکشن تھے۔ تفصیل میں جانے سے پہلے راجہ نذر حسین سے متعلق بتاتا چلوں کہ اگر کوئی چکوالی ہونے کا دعوے دار ہو اور اسے راجہ نذر حسین کا پتہ نہ ہو تو پھر وہ چکوال کا ہے ہی نہیں۔ راجہ صاحب کے بڑے صاحبزادے راجہ ثناء 70ء کی دہائی میں پنجاب یونیورسٹی لاہور میں بائیں بازو کی سیاست کے سرخیل تھے، انہیں صوفی سٹین کہا جاتا تھا۔ پوری پنجاب یونیورسٹی میں اس صوفی سٹین کا چرچا ہوا کرتا تھا۔ ویسے تو راجہ صاحب کے ساتوں بیٹوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی مگر چکوال میں مشاعرے کی روایت کا آغاز ان کے ڈاکٹر بیٹے مرتضیٰ عدیمؔ نے کیا۔ چھوٹے صاحبزادے راجہ عظیم الحق منہاس سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف کے داماد ہیں۔ یہ اپنے نام پر گئے ہیں کیونکہ باقی بھائیوں کا خیال ہے کہ اگرچہ عظیم ہمارا چھوٹا بھائی ہے مگر یہ اپنے کردار کی وجہ سے سب سے بڑا ہے۔

اب آتے ہیں اس شادی کی طرف، جس کے کارڈ پر سات فنکشن درج تھے۔ اس کے ہر فنکشن نے چکوال کی ثقافت کو زندہ کیا۔ تقریبات کا آغاز ہوا تو پتہ چلا کہ پہلے دن جشن نیزہ بازی ہے تمام دن نیلہ روڈ پر نیزہ بازی ہوتی رہی۔ دوسرے دن جنج تھی۔ وسطی پنجاب میں جنج بارات کو کہا جاتا ہے مگر چکوال کےگائوں ہستال میں اس کا مطلب ہے کہ دن بھر گھوڑوں کا رقص ہوگا، ڈاچی رقص ہوگا، اس میں اونٹنیوں اور گھوڑوں کا خوب سنگھار کیا ہوتا ہے۔ لوگ لڈی ڈالتے ہیں، گیت گاتے ہیں، جھومر سمیت ثقافت کے کئی مظاہرے ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ گائوں کے ایک کھلے میدان میں ہوتا ہے۔ ڈھول والے بھی خاص تراکیب سے ڈھول بجاتے ہیں۔ تیسرے دن کے فنکشن کا نام سنگیت تھا۔ یہ محفل موسیقی تھی اس میں لوک فنکاروں نے ایسےگیت پیش کئے جو ثقافت کے آئینہ دار تھے۔ اگلے دن مشاعرہ تھا۔ اس کے لئے لندن کے معروف ڈاکٹر راجہ مرتضیٰ عدیم خاصے سرگرم تھے۔ انہوں نے چکوال ہی سے تعلق رکھنے والے اپنے کلاس فیلو سعید قاضی کی صدارت رکھی ہوئی تھی۔ سعید قاضی ایک نجی چینل میں بطور تجزیہ نگار پروگرام کرتے ہیں۔ پرنٹ میڈیا میں بھی انہوں نے طویل عرصہ خدمات انجام دیں۔ مجھ خاکسار کو مشاعرہ کا مہمان خصوصی بنایا گیا تھا۔ یہاں بڑے خوبصورت اشعار سننے کو ملے۔ ماضی کی طرح برملا اظہار کر رہا ہوں کہ ہمارے بڑے شہروں سے کہیں اچھا ادب ہمارے مضافات میں تخلیق ہو رہا ہے۔اس مشاعرے میں اگرچہ پروفیسر سعید اکرم، پروفیسر احسان الٰہی احسان، خواجہ بابر سلیم، پروفیسر باقر وسیم قاضی، ناطق جعفری، صفی الدین صفی اور بیورو کریٹ راشد محمود لنگڑیال سمیت کئی شعراء کا خوبصورت کلام سننے کو ملا مگر راجہ قابل جعفری نے تو کمال ہی کردیا۔ ان کی پنجابی نظم پورے مشاعرے پر حاوی رہی۔ اس نظم میں چکوال کی ثقافت بول رہی تھی، صرف بول ہی نہیں رہی تھی حالات کا ماتم بھی کر رہی تھی۔ خیر یہ مشاعرہ کئی حوالوں سے یاد گار تھا۔

شادی کے سلسلے میں اگلا فنکشن مہندی کا تھا۔ اس سلسلے میں زیادہ تفصیل لکھنے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کہ یہ فنکشن اب ہر جگہ ہوتا ہے اور اس سے لوگ واقف ہیں۔ اگلے دن یعنی ہفتے کے روز سہرا بندی اور بارات تھی جبکہ اتوار کے دن ولیمہ تھا۔ ولیمے کی اس تقریب میں سردار غلام عباس، ملک فدالرحمٰن اور مرزا سعید اختر سمیت کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ یہیں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے ملاقات ہوئی۔ یہیں کچھ پرانے دوستوں مختار قریشی، آفتاب عالم، تنویر خان، نسیم راشد اور حسن اختر مرزا سے بھی ملاقات ہوئی۔

کہنے کوتو یہ ایک شادی کی تقریبات کا احوال ہے مگر اس میں ایک سبق ہے کہ ہمیں کسی بھی موسم میں اپنی ثقافت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی ثقافت اور شناخت کو زندہ رکھنا چاہیے۔ پاکستان کے صفِ اول کے صحافی سہیل وڑائچ کے بزرگ لکھنوال میں تمام ثقافتی رسومات میں شریک ہوتے تھے۔ ثقافت اپنے تمام رنگوں سمیت لکھنوال، لاہور اور لندن میں بولتی ہے۔ لندن سے یاد آیا کہ وہاں آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھانے والے ایک چکوالی نوجوان پروفیسر عدیل ملک نے کچھ اور پاکستانیوں کے ساتھ مل کر زبردست پروگرام شروع کیا ہے۔ اب آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے تحت مستحق پاکستانی طالبعلموں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے وظائف دیئے جائیں گے۔ ابتدائی طور پر مخیر پاکستانیوں نے اس سلسلے میں پانچ لاکھ پائونڈز کی رقم رکھی ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان سے متعلق تحقیق کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔ طالب علموں کے وظائف کے علاوہ پاکستان کے اساتذہ اورفیکلٹی ممبرز کے لئے وزیٹنگ فیلو شپ کی فراہمی اور پاکستان کے حوالے سے آکسفورڈ یونیورسٹی میں خصوصی لیکچرز کا اہتمام کیا جائے گا۔ یہ پروگرام بنیادی طور پر پروفیسر عدیل ملک، ڈاکٹر طلحہ جے پیرزادہ اور معروف وکیل ہارون زمان کی تخلیق ہے۔ اقبالؒ نے جن نوجوانوں سے امید باندھی تھی وہ اپنا کام کر رہے ہیں۔ یہاں ایک بات بتاتا چلوں کہ پروفیسر عدیل ملک، معروف ماہر اقبالیات پروفیسر فتح محمد ملک کے صاحبزادے ہیں۔ اقبالؒ کا دن ہے تو پھر آج شعربھی اقبالؒ ہی کا پیش خدمت ہے۔

ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت

احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں