چنگیز خان کی سوانح حیات کا مختصر خلاصہ 52

چنگیز خان کی سوانح حیات کا مختصر خلاصہ

چنگیز خان کی سوانح حیات کا مختصر خلاصہ

تعارف:
چنگیز خان دنیا کا عظیم ترین فاتح ہے جس نے اپنے خون خوار منگول قبائل کو یکجا کر کے پہلے منگولیامیں ایک مضبوط منگو ل حکومت کی بنیاد رکھی اور پھر مشرق اور مغرب کے ممالک کی فتوحات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا ۔ اس نے خوارزم، چین، روس ، ایشیائی ممالک ، افغانستان ، ترکی، عرب اور مغرب میں ہنگری اور پولینڈ کے علاقے فتح کر کے منگول سلطنت کے صوبے بنا دئیے۔اس کو کسی لڑائی میں شکست نہ ہوئی اور جہاں جہاں سے وہ گزرا، اس نے انسانی تہذیب و ثقافت کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔کہا جاتا ہے کہ وہ 1206میں منگولیا سے باہر نکلا اور اپنی موت پر تقریباً21 سال بعد،اپنے وطن مراہوا واپس لایا گیا۔ اس کو تاریخ میں دنیا کے عظیم ترین فاتحین میں سکندراعظم کے بعد دوسرا نمبر دیا جاتا ہے۔
ابتدائی حالاتِ زندگی:
چنگیز خان 1162میں گاؤں دولون بالڈوگ، منگولیا میں پیدا ہو ا۔ اس کے ماں باپ نے اس کا نام تموجن رکھا۔ لفظ تموجن کے لفظی معنی لوہار کے ہیں۔ جب چنگیز خان پیدا ہوا تو اس کی ہتھیلی میں خون منجمد تھا جس سے خون کا ایک سرخ سا دھبہ بن گیا تھا۔ مقامی روایت کے مطابق یہ واضح اشارہ تھا کہ وہ بڑا ہو کر ایک عظیم لیڈر بنے گا۔ اس کے والد کا نام یسوگی تھا۔چنگیزخان اپنے والدین کا دوسرا بیٹا تھا۔اس کا باپ یسوگی منگول قبائل کے اتحاد خان میگ کا مضبوط رکن تھا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تغرل بیگ نامی ایک جنگجو منگول سردار کا بھی اتحادی تھا۔ تغرل بیگ اس قبیلے کو دشمنوں سے بچاتارہا اور اس کے خان اعظم بننے میں اہم کردار ادا کیا ۔ بعد میں جب چنگیز خان دنیا فتح کرنے نکلا تو تغرل بیگ کا قبیلہ اس کے شانہ بشانہ جنگی خدمات بجا لاتا رہا۔چنگیز خان کی والدہ کانام ہولین تھا جو منگولوں کی ایک زریں شاخ سے تعلق رکھتی تھی ۔چنگیز خان کے باقی تما م بھائی سوتیلے تھا۔ اس کا پیدائش کا علاقہ منگولیا کے خشک پہاڑوں اور صحراپر مشتمل تھا۔ آ ج کل اس پہاڑی علاقے کا نام بر خان خالدون ہے۔ چنگیز خان کا گاؤں، منگولیا کے دارلخلافے الن باتر کے شمال میں پہاڑی علاقہ میں واقع تھا جس سے دریا گزرتا ہے اور دریا کے کنارے آج بھی لوگ بھیڑ بکریاں پالتے ہیں۔
چنگیز کا خان کا قبیلہ خانہ بدوش تھااور وہ گھاس اور پانی کی تلاش میں مارا مارا پھرتا تھا ۔اپنی بھیڑ بکریوں اورگھوڑوں کے ہمراہ آج ایک جگہ ہوتا تھا تو کل دوسری جگہ۔ تموجن نو برس کا ہواتواس کے باپ کو دشمن قبیلے کے افراد نے قتل کر دیا۔اگلے چند برس خاندان کے بقیہ افراد مستقل خطرے کے تحت پوشیدہ رہے۔یہ ایک بد شگون آغاز تھا ۔ تموجن کو اچھے دن دیکھنے سے پہلے نہایت زبوں حالات سے دو چار رہنا پڑا۔اپنی نوجوانی میں وہ حریف قبیلے کے ایک دھاوے میں گرفتار کرلیا گیا۔اس کی گردن میں چوبی طوق باندھ کر اسے کئی دن تک بھوکا پیاسا رکھا گیا ۔بیچارگی کی اس حالت سے نکل کر ایک قدیم اور بنجر ملک کاناخواندہ اسیر تمو جن دنیا کے انتہائی طاقت ور انسان کے طور پر ابھرا۔
ذاتی زندگی:
چنگیز خان نے ایک اتحادی سردار کی بیٹی بورتی اجن خاتون سے شادی کی۔ جب وہ بادشاہ بنا تو اس کو ملکہ کاخطاب دیا گیااور اس کے تمام امورخانہ داری کی نگران بنی۔ اس کا ولی عہد اوغدائی خان اسی خاتون کا بیٹا تھا۔ اس کے علاوہ اس کی گیارہ بیویاں تھیں جن میں یسوئی اور کنجو خاتون نمایاں ہیں۔چنگیز خان کثیرالاولاد تھا۔ اس کے سب سے بڑے بیٹے کانام جوچی خان تھا۔ دسرے بیٹے کا نام چغتائی جبکہ تیسرے کا نام اوغدائی خان تھا۔بورتی ایک بہادر خاتون تھی لیکن ایک دن وہ بکریاں چرا رہی تھی کہ تموجن کے دشمن قبیلے مرکت نے اسے اغوا کر لیا ۔بورتی ان کے پاس نو مہینے قید رہی۔ اسی قید کے دوران اس کابڑا بیٹا جوچی خان پیدا ہوا۔ اگرچہ وہ بھی چنگیز خان کی طرح بہادر اور دوراندیش تھا، لیکن اس کی والدیت مشکوک ہونے کی وجہ سے اسے ولی عہدی سے محروم کردیا گیا۔ چنگیز کی کی چھ بیٹیاں مشہورہوئیں۔ وہ قبیلے جنہوں نے منگولوں کے اتحاد میں چنگیز خان کے ہاتھ مضبوط کئے تھے وہ بعد میں منگول آرمی کے مایہ ناز جرنیل بنے اور انہوں نے چنگیز خان کی بڑی بڑی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ مثال کے طور پر اس کے بچپن کے دوست جیلمی،بورچواور چولان چنگیز خان کے مشہور جرنیل تھے۔
منگولوں کی خصوصیات:
تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ منگول آندھی کی طرح آئے اور طوفان کی طرح دشمن آبادیوں کو اپنے ساتھ بہا کر لئے گئے۔ وہ ان پڑھ اور جاہل تھے اور سنگدل بھی۔انہوں نے رحم کرنا سیکھا ہی نہیں تھا۔ تہذیب و تمدن سے ان کو دور دور تک کو ئی واسطہ نہیں تھا۔ وہ قبیلوں کی شکل میں رہتے تھے اور ہر قبیلے کی اپنی فوج ہوتی تھی جس سردار کا قبیلہ جتنا بڑا ہوتا ،وہ اسی طرح زیادہ بااثر اور طاقتور سمجھا جاتا تھا ۔ منگولوں کا آپس میں اتحاد مضبوط ہوتا تھا۔ سگے بھائیوں میں عام طور پر جھگڑے نہیں ہوتے تھے۔ اسی طرح سردار بننے کے لئے بھائیوں میں قتل و غارت گری کا رواج بالکل نہیں تھا۔اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ جب چنگیز خان قریب المرگ ہوا تو اس نے اپنے چھوٹے بیٹے اوغدائی خان کو اپنا جانشین نامزد کیا اور اس پر کسی نے چوں تک نہیں کی۔منگول مہمان نواز اور بہادر تھے۔ ان کے پاس اگر کوئی شخص پناہ لے لیتا تو جان پر کھیل کر اس کی حفاظت کرتے تھے۔ وہ بھیڑوں اور گھوڑی کا دودھ پیتے تھے ۔ ان کا سب سے پسندید ہ گوشت گھوڑے کا ہوتا تھا۔ وہ بکری کے بالوں سے بنے خیموں میں رہتے تھے اور جب چنگیز خان نے دنیا کے بہت سے ممالک فتح کر لئے تو بھی منگول خیموں میں ہی رہتے تھے۔ چنگیز خان کے منگول اعظم بننے تک ان کی آپس کی لڑائیاں چراگاہوں اور بھیڑ بکریوں کی چوری پرہو تی تھیں ۔ وہ صحرا میں نخلستان کی تلاش میں مارے مارے پھرتے تھے۔ ان کی عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ لڑتی تھیں اور مال مویشیوں چرانے کے لئے جاتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ چنگیز خان کی بیوی کو دشمن نے ایک ایسی ہی چراگاہ سے پکڑ کر کافی عرصے تک یرغمال بنائے رکھا۔ چنگیز خان کا انقلاب اصل میں اپنی بیوی کی رہائی اور باپ کے انتقام سے شروع ہوا اور قہر کی صورت میں دنیا کو تہہ و بالا کرگیا۔ منگول بنیادی طور پر مظاہرپرست تھے۔ وہ سورج ،چاند اور ستاروں کی پوجا کرتے تھے۔ بعد میں چنگیز خان کے بہت سے پوتے مسلمان ہوگئے۔ مغل بادشاہ بابر اور تیمورلنگ منگولوں کی نسل سے تھے اور بعد میں مسلمان ہوئے۔
تموجن سے چنگیز خان تک کا سفر:
تمو جن دنیا کا عظیم فاتح کیسے بنا ؟ اس کی ترقی کا آغاز اسکی اسیری سے فرار کے بعد ہوا ۔وہ اپنے باپ کے ایک دوست اور وہاں موجود متعلقہ قبائل میں سے ایک کے سردار تغرل سے جا ملا۔اگلے کئی برسوں تک ان منگول قبائل میں ہلاکت خیز جنگیں جاری رہیں جن میں تموجن نے عظمت کی طرف اپنا سفر جاری رکھا ۔اس نے ترکستانی، تاتاری اور منگول قبائل کا آپس میں الحاق کروایا۔اس کے لئے اس نے سفارت کاری اور تلوار دونوں کا بیک وقت استعمال کیا اور مخالف قبائل کو مطیع کرتا گیا۔اس نے ایک خفیہ عہد نامہ یا ضابطہ حیات جاری کیا جس کی مدد سے وہ مطیع قبائل کی وفاداری کو جیت لیتا تھا۔اس خفیہ منگول کوڈ کا نا م یاسا تھا۔ اس نے میرٹ پر فیصلے کئے اور جس کا جو حق تھا اسے دیا۔ اس نے ان بچوں کو اپنے قبیلے کی خواتین کے حوالے کیا جن کے والدین کو جنگ میں قتل کیا جا چکا تھا۔ اس کے پاس اپنے مخالفین کے مقابلے میں زیادہ جدت تھی۔ اس نے اپنے دوستوں کو اپنے اتنے قریب کر لیا کہ وہ اس کے مرید ہوگئے اور آخری سانس تک وفاداری کا دم بھرتے رہے۔ یوں ا س نے اپنے وفاداروں کی ایک مضبوط جماعت بنا لی جو لڑائی سے کبھی پیچھے نہ ہٹی۔
منگولیا کے قبائل کی ایک وجہ شہرت یہ تھی کہ وہ ماہر گھڑسوار اور تند خوجنگجو تھے ۔تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ شمالی چین پر مسلسل حملے کرتے رہے۔تموجن سے پہلے متعدد قبائل اپنی توانائیوں کو ایک دوسرے کے خلاف جنگ و جدل میں صرف کرتے تھے۔فوجی دلیری ،منافقت،سفا کی اور منتظمانہ اہلیت کے ملے جلے امتزاج کے ساتھ تموجن نے تمام قبائل کو ایک مرکزی قیادت کے تحت سات دم دار ستاروں والے جھنڈے کے نیچے متحد کر لیا۔1206ء میں منگول سرداروں کے ایک اجلاس میں اسے چنگیز خان یا’’کائناتی شہنشاہ‘‘کا خطاب دیا گیا۔وہ پڑھا لکھا تو نہیں تھا لیکن وہ خون خوار لیکن بصیرت افروز لیڈر تھا۔ وہ ایک اچھا سیاست دان ، منتظم اور جرنیل تھا۔ ان تینوں خوبیوں کی بدولت اس نے دنیا پر ایک طویل عرصے تک حکمرانی کی۔
وسطی ایشیااورایران کی فتوحات:
منگول قبائل کی متحدہ فوجی قوت جو چنگیز خان نے مجتمع کی تھی ،ہمسایہ اقوام پر چڑھ دوڑی ۔اس نے پہلے شمال مغربی چین میں ’’سہی سہیا‘‘ریاست پر اور شمالی چین میں’’چن‘‘ سلطنت پر یورش کی۔جب یہ مقابلے جاری تھے چنگیز خان اور خوارزم کے شاہ محمد میں ٹھن گئی جو ایران اورو سطی ایشیا میں ایک بڑی سلطنت کا بادشاہ تھا ۔1209ء میں چنگیز خان اپنی فوجوں کے ساتھ خوارزم شاہ پر چڑھ دوڑا ۔ اس نے وسطی ایشیااورایران کو تہہ و بالا کر دیا ۔ خوارزم شاہ کی سلطنت تباہ وبرباد ہو گئی اوراس تباہی کے بعد منگول فوجیں روس پر حملہ آور ہوئیں ۔ادھر چنگیز خان نے افغانستان اور شمالی ہند پر دھاوا بول دیا ۔اس کی زیر قیادت منگول فوجوں نے چین میں پیش قدمی جاری رکھی ۔روس کو پامال کیا اور آگے یورپ میں نکل گئیں ۔ اس کی وفات کے بعد1241ء میں منگول فوجیں بو دا پسٹ تک پہنچ گئیں ۔پولینڈ، جرمن اور ہنگری کی فوجوں کو تہہ تیغ کیا۔اس کے بعدجانشینی کے مسئلہ پر منگول سراروں میں خاصی لے دے ہوئی ۔تاہم چنگیز خان کے پوتوں منگو خان اور قبلائی خان کی زیر سرکردگی منگول ایشیا میں داخل ہوئے ۔1229ء تک جب قبلائی خان نے چین کی فتح مکمل کی تو منگولوں کی سلطنت تاریخ کی وسیع ترین سلطنت بن چکی تھی ۔ان کے زیر تسلط چین،روس اور وسطی ایشیا علاقہ تھا ۔اس کے علاوہ ایران اور جنوب مغربی ایشیا کا بیشتر حصہ بھی شامل تھا ۔ان فوجوں نے پولینڈ سے شمالی ہند تک کامیابی کے جھنڈے گاڑھے جبکہ کوریا،تبت اور جنوب مشرقی ایشیا میں قبلائی خان کی بادشاہت قائم ہوئی ۔
اس دور میں موجود آمدورفت کے قدیم ذرائع کی موجو دگی میں اتنی بڑی سلطنت تادیر قائم نہیں رہ سکتی تھی ۔سو جلد ہی یہ حصوں اور بخر وں میں تقسیم ہو گئی ۔تاہم کئی ریاستوں میں منگول حکومت طویل عرصہ تک قائم رہیں ۔1368ء میں منگولوں کو چین کے بیشتر حصوں سے خارج کر دیا گیا ۔روس میں ان کے اقتدار کی عمر دراز ہوئی۔وہاں چنگیز خان کے پوتے باتو خان کی سلطنت کو بالعموم ’’سنہری جرگہ‘‘ کا نام دیا جاتا تھا۔یہ سولہویں صدی تک قائم رہی جبکہ کریمیا میں یہ اقتدار 1783 تک باقی رہا۔چنگیز خان کے دیگر بیٹوں اور پوتوں نے وسطی ایشیااور ایران میں سلطنتیں قائم کیں۔ان دونوں علاقوں کو چودھویں صدی میں تیمور لنگ نے فتح کیا۔جو خود منگول نسل سے تھااورخود کو چنگیز خان کا جانشین کہلاتا تھا۔تیمور لنگ کی بادشاہت کا اختتام پندرہویں صدی میں وقوع پذیر ہوا۔لیکن یہ تمام منگول فتوحات اور اقتدار کا خاتمہ نہیں تھا۔تیمور لنگ کے پڑپوتے بابر نے ہندوستان پر حملہ کیا اور مغل (یا منگول) سلطنت کی بنیاد رکھی۔ بالآخر مغل حکمرانوں نے تمام ہندوستان پر قبضہ کیا اور یہ اقتدار اٹھارہویں صدی کے وسط تک قائم رہی۔
وفات:
چنگیز خان چین کی فتوحات میں کافی سالوں تک مصروف رہا۔ وہ18اگست 1227ء کو ین چوان شہر کی فتح میں مصروف تھا کہ اچانک بیمار پڑگیا اور فوت ہو گیا۔ اس کی وفات کے بارے میں کئی مفروضے قائم ہیں۔ایک کے مطابق وہ ایک دن شکار کر رہا تھا کہ اچانک گھوڑے سے گرااور شدید زخمی ہوا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پا گیا۔ ایک اور کہانی کے مطابق ین چوان کے علاقوں سے کچھ شہزادیاں کنیزیں بن کر چنگیز خان کے حرم میں لائی گئیں جن میں سے ایک کنیز نے موقع پا کر زہریلے خنجر سے چنگیز خان پر اتنے وار کے کہ وہ جانبر نہ ہوسکا۔ ایک اور روایت کے مطابق چنگیز خان کو ین چوان کے محاصرئے کے دوران تیر لگا جو مہلک ثابت ہوا۔
تاہم معتبر روایت کے مطابق وہ بیماری کی وجہ سے مرا۔ وفات کے بعد چنگیز خان کی میت کو اس کے آبائی گاؤں’’خان تی خامنگ ‘‘ لایا گیا جہاں اس کی وصیت کے مطابق اس کو کسی نامعلوم مقام پر دفن کردیا گیا۔ اس کی اولاد نے اس کے مقبرے پر ایک یادگار بنوائی جو آج تک قائم دائم ہے لیکن وہ یادگار ایک دوسری جگہ پر ہے۔عام طور پر یہ یقین کیا جاتا ہے کہ اس کی قبر کسی کو معلوم نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں