mazhar-barlas 68

چند خاص باتیں.مظہربرلاس

7 / 100

آج یومِ شہادتِ علیؓ ہے۔ حضرت علیؓ سے متعلق بہت سی احادیث ہیں۔ حضرت علی ؓ پوری زندگی باطل قوتوں کے خلاف لڑے۔ حکمت و دانائی سے بھرپور فرموداتِ علیؓ کی دنیا معترف ہے۔ اُنہوں نے بہترین طرز حکمرانی کے لئے خطوط بھی لکھے۔ مالک ِ اشتر کو لکھا گیا طویل ترین خط حکمرانوں کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ افتخار حسین نقوی نے اس خط کا خوبصورت ترجمہ کر کے پاکستانی ایوانوں میں ڈیڑھ دو سال پہلے بھیجا تھا مگر شاید حکمرانوں نے باقی خطوط کی طرح اس خط کو نہ پڑھا اور نہ اس پر عملدرآمد کیا۔ اس خط پر عملدرآمد کر لیا جاتا تو بہت بہتر ہوتا۔

بیورو کریسی کے معاملات پر عمیق نگاہیں رکھنے والے اکلوتے کہنہ مشق صحافی محسن گورایہ نے ایک چھوٹی سی تحریر بھیجی ہے، موجودہ نظام پر اس سے اچھا تبصرہ ممکن نہیں۔ وہ لکھتے ہیں ’’کچھ لوگوں نے شکوہ کیا، ایٹم بم ہے اسپتال نہیں‘‘، کچھ نے ہرزہ سرائی کی ’’ایف سولہ ہیں، وینٹی لیٹرز نہیں‘‘، ’’جدید ٹینک ہیں، ایمبولینسز نہیں‘‘، کچھ کے ہونٹوں پر شکایت ہے ’’بندوقیں ہیں، ماسک نہیں‘‘ صاحبو…! ذرا سوچو! کہیں ایسا تو نہیں کہ جنہوں نے ایٹم بم، ایف سولہ، جدید ٹینک اور بندوقیں خریدنی تھیں، اُنہوں نے اپنا کام پورا کیا لیکن جنہوں نے اسپتال، وینٹی لیٹرز، ایمبولینسز اور ماسک خریدنے تھے، اُنہوں نے لندن، دبئی، سوئٹزر لینڈ اور جانے کہاں کہاں فیکٹریاں، بنگلے، ولاز، محل اور فلیٹس خرید لئے، ذرا نہیں پورا سوچئے…‘‘۔ ہمارا نظامِ حکومت جواب دے چکا ہے۔ اس سسٹم میں کوئی بھی آ جائے، یہ سسٹم لوگوں کے درد کا مداوا نہیں۔ چالیس سال ہماری حکومتوں نے تعلیم اور صحت سمیت پورے نظام کو کرپشن کا گڑھ بنائے رکھا، اب کوئی چاہے بھی تو یہ نظام کارکردگی نہیں دکھا سکتا۔ اس دوران بیورو کریسی بھی سیاست سے آلودہ ہو گئی۔ یہ مظاہرہ آپ نے احد چیمہ کی گرفتاری کے موقع پر دیکھا۔ اب بھی ایسا ہی مظاہرہ ہو رہا ہے جب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ایک اسسٹنٹ کمشنر کو کھری کھری سنائیں تو مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اسسٹنٹ کمشنر کے حق میں ٹویٹس کئے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے جوابی ٹویٹ کیا کہ ’’مریم نواز کے خاندان اور رانا ثناء اللہ کی چند روز پہلے بیورو کریٹس اور ان کی اولادوں کو دی گئی دھمکیاں حلال جبکہ اے سی کی دانستہ کوتاہی کی نشاندہی کرنا حرام ہے‘‘۔ واقعہ سے متعلق ایک ٹویٹ یا پریس ریلیز چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے بھی سامنے آئی۔ فردوس عاشق اعوان چیف سیکرٹری کو بھی مؤثر جواب دینا چاہتی تھیں مگر انہیں وزیر اعظم نے روک دیا۔ ایک واقعہ مظفر گڑھ میں بھی ہو گیا، اتفاق سے وہاں بھی اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ ہی ٹکرائو ہوا۔ ممکن ہے مظفر گڑھ میں اسسٹنٹ کمشنر ارشد ورک اور سیالکوٹ میں اے سی سونیا صدف عوامی خدمت پر یقین رکھتے ہوں، میرے نزدیک سسٹم کی خرابی نے مزاجوں کو تیز کر دیا ہے۔ اگر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بول رہی تھیں تو سونیا صدف ہی تکرار نہ کرتیں بلکہ اگر وہ یہ کہہ دیتیں کہ میڈم آئندہ خیال رکھا جائے گا تو بات آگے نہ بڑھتی۔ اسی طرح اگر ارشد ورک، خرم لغاری کو رمضان بازار کا دورہ کروا دیتے تو بات آگے نہ بڑھتی۔ سول افسروں کو یاد رکھنا چاہئے کہ عوامی نمائندوں پر لوگوں کا بہت دبائو ہوتا ہے۔ اگر افسر فرائض ادا کرتے ہیں تو سیاستدان دن رات عوامی خدمت میں گزارتے ہیں۔ افسروں کو نوکری سے نکلنے کا ڈر نہیں ہوتا جبکہ سیاستدانوں کو اگلے الیکشن کی فکر ہوتی ہے۔ سول سروس اکیڈمی سے فارغ التحصیل لوگوں نے بھی لب کشائی کی ہے۔ یہ طرز عمل درست نہیں، یہ کیا بات ہوئی کہ آپ کا ایک ساتھی غلط عمل کرے اور آپ اس کی حمایت میں نکل آئیں۔ اداروں کو افسروں کی اعلیٰ پیمانے پر تربیت کرنی چاہئے۔ یہ سچ ہے کہ کچھ بیورو کریٹس فون سننا یا جواب دینا گوارا نہیں کرتے، ذرا سوچئے پبلک سرونٹس ایسا کرتے ہیں، کیا اُنہیں ایسا کرنا چاہئے؟

کتنی مثالیں دوں، یہ نظام جواب دے چکا ہے، اب نظام بدلنے کی ضرورت ہے ورنہ معاشرہ سول وار کی طرف بڑھ رہا ہے، کیا آپ گلی گلی لڑائی دیکھنا چاہتے ہیں یا اپنے پیارے ملک کو پُرسکون دیکھنا چاہتے ہیں، فیصلہ کرنے والوں کے لئے یہی اہم ترین موڑ ہے۔ اگر وہ اب بھی فیصلہ نہ کر پائے تو کہیں دیر نہ ہو جائے۔ بقول عباس تابش ؎

تیرے بس میں بھی نہ تھے جو تیرے باعث بھی نہ تھے

ان مسائل کا بھی میں نے تجھے حل جانا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں