39

چار قانونی کیسز عمران خان کے سیاسی کیریئر کیلئے خطرہ بن گئے

چار قانونی کیسز عمران خان کے سیاسی کیریئر کیلئے خطرہ بن گئے
اسلام آباد (نیوز رپورٹ) پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو چار مختلف قانونی کارروائیوں کا سامنا ہے اور ان سب سے ان کے سیاسی کیریئر کو خطرہ ہے۔ عمران خان اگر خود کو ان مقدمات سے بچانے میں ناکام ہوئے تو اس کا مطلب ان کیلئے سیاست سے نااہلی ہوگا۔

جس وقت بتایا جارہا ہے کہ وہ مقبولیت کی بلندیوں پر ہیں، اس وقت قانونی نوعیت کے یہ خطرات توہین عدالت کی دو کارروائیوں، توشہ خانہ کیس میں اسپیکر قومی اسمبلی کے دو ریفرنسز اور فارن فنڈنگ کیس میں اثاثہ جات کے غلط گوشوارے جمع کرانے کے کیس کی صورت میں اُن کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔

توہین عدالت کے دو کیسز میں سے ایک اسلام آباد ہائی کورٹ کا توہین عدالت کا کیس ہے جس میں عدالت نے عمران خان کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 31؍ اگست کو طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے عمران خان کیخلاف از خود نوٹس لیا ہے کیونکہ گزشتہ ہفتے ریلی میں عمران خان نے شہباز گِل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شہباز گل کو پولیس کی درخواست پر ریمانڈ پر بھیجنے پر ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کو خبردار کیا تھا کہ خاتون جج نتائج کیلئے تیار ہو جائیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس جج کیخلاف ایکشن لیں گے۔ ماہرینِ قانون کے مطابق، یہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کا سنگین کیس ہے۔ خاتون جج کو دھمکی کوئی معمولی معاملہ نہیں لیکن یہ پوری عدلیہ کی توہین اور قانون کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا معاملہ ہے۔ اس کیس میں سزا پانچ سال تک سیاست سے نااہلی ہے۔

الیکشن کمیشن (ای سی پی) کا توہین کا کیس بھی عمران خان کیخلاف ہے۔ ای سی پی نے ملک کے انتخابی ادارے پر مختلف تقاریر کے دوران غیر پارلیمانی اور ناشائستہ زبان کے استعمال اور چیف الیکشن کمشنر پر الزامات عائد کرنے پر گزشتہ ہفتے عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو توہین کا نوٹس بھیجا تھا۔

ای سی پی نے ان رہنماؤں کو نجی حیثیت میں یا پھر وکیل کے توسط سے 31؍ اگست تک جواب دینے کا حکم دیا ہے۔ ای سی پی کا کہنا تھا کہ ادارے نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی مختلف تقاریر کا جائزہ لینے کے بعد نوٹس جاری کیے ہیں۔ یہ تقاریر پیمرا نے ای سی پی کو فراہم کی تھیں۔

اگر ای سی پی نے ان رہنمائوں میں سے کسی کو بھی قصور وار قرار دیا تو اس کی سزا پانچ سال تک سیاست سے نااہلی ہے۔ عمران خان کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس قومی اسمبلی کے اسپیکر نے الیکشن کمیشن کو بھیجا تھا جس میں الزام یہ ہے کہ عمران خان نے ای سی پی میں جمع کرائی گئی اثاثہ جات کی تفصیلات میں کچھ چیزیں چھپائی تھیں۔

سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عہدے سے ہٹا کر انہیں تاحیات نا اہل قرار دیا تھا کیونکہ انہوں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں ’’غیر حاصل شدہ قابل وصول‘‘ اثاثہ جات کو چھپایا تھا۔ عمران خان کے معاملے میں انہوں نے مبینہ طور پر توشہ خان کے تحائف کو گوشواروں میں چھپایا۔

عمران خان نے یہ تحائف ایک یا دو سال بعد اُس وقت گوشواروں میں ان تحائف کا ذکر کیا جب میڈیا نے توشہ خانہ اسکینڈل پر توجہ مبذول کرائی تھی اور بتایا تھا کہ عمران خان نے ان میں سے کچھ تحائف فروخت کردیے ہیں۔

نواز شریف اور عمران خان کے کیس میں کسی قدر مماثلت یوں ہے کہ دونوں رہنمائوں نے اپنے اثاثہ جات کے گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے۔ نواز شریف کے معاملے میں دیکھیں تو انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ قابل وصول اثاثہ جات انہوں نے وصول نہیں کیے۔ عمران خان کے کیس میں انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ توشہ خانہ کے تحائف فروخت کرکے انہیں کتنی رقم ملی۔

عمران خان نے اس حوالے سے ایک سال بعد کے گوشواروں میں معلومات فراہم کیں۔ نواز شریف نے 2013ء کے الیکشن کیلئے جمع کرائے گئے کاغذاتِ نامزدگی میں معلومات فراہم کیں۔ یہ الیکشن ان کی جماعت جیت گئی اور وہ تیسری بار وزیراعظم پاکستان بن گئے۔

عمران خان نے گوشوارے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران جمع کرائے کیونکہ ارکان پارلیمنٹ کیلئے یہ لازمی شرط ہے کہ وہ ہر سال اپنے اثاثہ جات اور واجبات کے حوالے سے گوشوارے جمع کرائیں گے۔ چوتھا کیس فارن فنڈنگ کیس کا ہے جس میں ای سی پی کے حالیہ فیصلے کے مطابق عمران خان کی پی ٹی آئی فنڈنگ کے حوالے سے سند (سرٹیفکیشن) پر سوالات اٹھ گئے ہیں اور یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ فنڈز کی نوعیت کے حوالے سے غلط حقائق جمع کرانے پر سزا کے مستحق ہیں یا نہیں۔

تاہم، جو بات زیادہ سنگین ہے وہ عمران خان کی جانب سے کھولے گئے دو بینک اکائونٹس ہیں اور اس حوالے سے دستاویزات پر اُن کے اپنے دستخط ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے فارن فنڈنگ کیس میں یہ بات الیکشن کمیشن کو نہیں بتائی۔

اس کیس پر عمران خان کیخلاف آئین کے آرٹیکل (f) (1) 62 کے تحت کارروائی ہوگی جس کے نتیجے میں وہ تاحیات سیاست سے نا اہل ہو سکتے ہیں۔ مذکورہ بالا تمام کیسز میں عمران خان کو اگر سزا ہوئی تو وہ صرف سپریم کورٹ میں ہی اپیل دائر کر سکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں