441

پی ٹی آئی کی میلاد کانفرنس۔تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی

پی ٹی آئی کی میلاد کانفرنس
شب گزشتہ(12 ربیع الاول) پاکستان تحریک انصاف نے فاطمہ جناح پارک ایف نائن میں عشرہ ربیع الاول کا آخری اور مرکزی پروگرام منعقد کیا۔اس کانفرنس کے آرگنائزر محترم المقام جناب پیرزادہ ڈاکٹر نورالحق قادری سابق وفاقی وزیر تھے۔پیر صاحب خود عشق و محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خمیر میں گوندھی ہوئی شخصیت ہیں۔پی ٹی آئی کے مذہبی پروگراموں میں انکا اثر واضح اور نمایاں نظر آتا ہے۔کل کی میلاد کانفرنس تحریک انصاف کا ایک غیر سیاسی پروگرام تھا جسکا مقصد محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اظہار تھا۔اس پروگرام میں ہمیں تحریک انصاف کا کوئی جھنڈا دیکھنے کو نہیں ملا اور نہ ہی کوئی سیاسی نعرہ سننے کو۔سینٹر فیصل جاوید نے اعلان کیا کہ مجھے پنڈال میں پی ٹی آئی کے دوجھنڈے نظر آرہے ہیں انکو فورا اتار دیا جائے۔جب کچھ جوانوں نے وزیراعظم عمران خان کے نعرے لگائے تو میں دیکھ رہا تھا خود عمران خان نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا۔اس طرح یہ خالصتا ایک محفل میلاد تھی۔۔تلاوت، نعت اور قوالی نے محفل میلاد میں بہت پاکیزہ رنگ بکھیرے۔پروگرام کے شرکاء میں شیرنی بھی تقسیم کی گئی۔اس محفل میں پیرزادہ صاحب نے کچھ علماء ومشائخ کو مدعو کیا ہوا تھا۔انکی محبت ہے کہ وہ مجھ ناچیز کو بھی ایسے مواقعوں پر حکم فرماتے ہیں ۔اہل علم وعرفان کی صحبت میں کچھ وقت بیٹھنے کو مل جاتا ہے۔پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فروغ کے لیے رحمت للعالمین اتھارٹی کا قیام کیا اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسکم کو نصاب تعلیم میں نمایاں جگہ دی۔ماہ ربیع الاول کو بڑے ہی تزک و اہتشام سے مناتے رہے۔سال گزشتہ میں اہل اسلام آباد نے دیکھا تھا کہ پورے اسلام آباد کو دلھن کی طرح سجایا گیا تھا۔ایف ٹن چوک سے لیکر پارلیمٹ ہاوس تک پورا رستہ روشنیوں کے برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا۔دیکھنے والوں کو سجے راستے دیکھ کر سرکار کی تشریف آوری یاد آرہی تھی اور ہم جیسے گنہگار دیکھ کر کہہ رہے تھے کہ”راستے صاف بتاتے ہیں کہ آپ آتے ہیں”ہر عمارت ایسی سجائی گئی تھی کہ وہ گویا زبان حال سے سرکار کی آمد کی خوشی میں اعلان کررہی تھی” آمد مصطفے مرحبا مرحبا”مگر اس دفعہ بہت افسوس ہوا کہ ہمیں وہ رونق اسلام آباد میں نظر نہ آئی۔پچھلے سال اسلام آباد انتظامیہ نے کہا تھا کہ میلاد کی محفل سجانے کے لیے کسی این او سی کی ضرورت نہیں ہے۔۔خیر یہ اپنے اپنے ذوق، محبت اور عقیدت کی بات ہوتی ہے بلکہ اس سے بڑھ یہ مقدر کی بھی بات ہوتی ہے۔کچھ لوگ اسے فضول خرچی کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں اور کچھ یو کہتے ہیں کہ “کروں تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس اک جہاں کہ دوجہاں فدادو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں”آج کی اس حکومت میں کچھ سیاسی مذہبی جماعتیں بھی موجود ہیں مگر حکمران طبقے کا ملجاء و ماءوی جب استعمار ہو جائے تو پھر یہ جماعتیں بھی استعماری نمائندوں کے “دم چھلے”کا کردار ہی ادا کرتی ہیں۔یہ بات شاید عمران خان کو سمجھ آگئی ہے کہ اللہ کی خوشنودی اور در مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی دلوں پر حکومت کرنے کی اولین شرائط میں سے ہے۔اس لیے وہ اپنی گفتگو میں قدم قدم پر سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ کرتا ہے۔ہمیں تو اس حوالہ سے یقین ہے کہ وہ سچی عقیدت کے ساتھ یہ اظہار کرتا ہے ۔اسی لیے تو ہر شخص اس کے پیغام کو تقسیم کرتا نظر آتا ہے۔میں پنڈال سے ذرا پہلے نکلا کہ مجھے کچھ چینلز کے پروگراموں میں جانا تھا۔میں جہاں جہاں سے گزرا ہر شخص اپنے موبائل سے خان کی تقریر لائیو نشر کررہا تھا۔جب آپ کے ہیغام کو دوسروں تک پہنچائے والے کثیر تعداد میں آپ کے ساتھ ہوجائیں تو پھر آپکے راستے میں کھڑے کیے جانے والے کنٹینرز کوئی طاقت نہیں رکھتے، انقلاب اور انقلابیوں کی وارفتگی اپنا راستہ خود بناتی چلی جاتی ہے۔یہ ملک اہل سنت یارسول اللہ کہنے والوں کی اکثریت کا ملک ہے۔ہم لوگ آقاء کریم کی غلامی کو ایمان کی شرط اول سمجھتے ہیں۔ہم اپنے نبی پر عقیدت کے ساتھ درود و سلام روح کی غذا سمجھتے ہیں۔شب گزشتہ میں ہم نے پہلی دفعہ دیکھا کہ اس عظیم الشان محفل کے اختتام پر بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صلوہ و سلام کا نذرانہ بھی پیش کیا گیاعمران خان اور دیگر لوگوں نے کھڑے ہوکر ہاتھ باندھ کر صلوہ و سلام پیش کیا۔۔کیا ہی خوبصورت انداز تکلم تھا صاحبزادہ پیر نور الحق قادری کا جنہوں نے آغاز سخن شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رح کے شہرہ آفاق اشعار سے کیا۔ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہوہو نہ یہ ساقی تو مئے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے۔خان نے جب تقریر شروع کی تو پہلے ہی جملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے ساتھ کامل وارفتگی کا اظہار تھا۔کہا میں خوف زدہ تھا رسول کی سیرت و محبت نے میرے دل سے ہر خوف کو نکال دیا۔عمران خان نے کہا کہ میں ایک طالب علم ہوں اور ہر وقت سیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔عمران خان نے اپنی تقریر میں بعض بہت اہم نکات اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 622ء کو مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے جاتے ہیں اور 632ء کو آپ اس دنیا سے ظاہری پردہ فرما جاتے ہیں۔آپ نے صرف دس سال کے عرصہ میں تاریخ کو بدل کے رکھ دیا۔آپ نے عرب کے صحرا نشینوں کو دنیا کا امام بنا دیا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ لوگ اتنے کم عرصے میں دنیا کے امام کیسے بن گئے۔؟ اس پر نہ ہمارے ملک میں کام ہورہا ہے اور نہ دیگر اسلامی دنیا میں۔ہم نے ایک ملک حاصل کیا تھا۔ہمارا یہ بہت بڑا خواب تھا۔ہم نے یہ کہا تھا کہ ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنائیں گے جو دنیا کے لیے مثال ہوگا۔لیکن ہم ایسا نہ کر سکے۔اگر ہم سیرت رسول کو اپناتے تو یہ ملک دنیا کے لیے ایک مثال بن چکا ہوتا۔عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ رسول اللہ نے انسانوں کو ذھنی اور اندرونی غلامی سے آزاد کرایا کیونکہ ایک غلام بڑا کام نہیں کرسکتا۔بڑا کام ذھنی طور پر آزاد انسان ہی کر سکتا ہے۔ایک غلام اچھا غلام ہی بن سکتا یے وہ کبھی بڑا آدمی نہیں بن سکتا۔رسول اللہ نے انسانوں کے اندر سے خوف کے بت کو توڑا۔موت کا خوف، ذلت کا خوف اور رزق کا خوف۔عمران خان نے کہا کہ میں بھی خوف زدہ تھا مگر جب سیرت رسول پڑھی تو میرے اندر سے سب خوف کے بت ٹوٹ گئے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ نے مدینہ کی ریاست میں قانون کی بالا دستی قائم فرمائی۔کیونکہ پہلے عدل و انصاف آتا ہے اور پھر خوشحالی آتی یے۔انہوں سوٹزر لینڈ کی مثال دی کہ وہاں 9۔99 فیصد رول آف لاء ہے اس لیے وہ ملک خوشحال ہے۔اور نائجیریا معدنی تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود خوشحال نہیں ہے کیونکہ وہاں رول آف لاء نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرٹ کو رواج دیا۔اسی طرح آپ بے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو رواج دیا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں کرپٹ افراد سے ان کے عزیز و اقارب اور دوست احباب ملنا چھوڑ دیتے ہیں۔وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتا۔انہوں نے کہا کہ بنمرڈ آف کے بارے میں کئی سال بعد پتہ چلا کہ اس نے کرپشن کے ذریعہ سے دولت اکٹھی کی یے تو اس کی بیوی اسے چھوڑ گئی، اسکا ایک بیٹا خود کشی کر گیا۔کیونکہ اس نے کہا میں دنیا کے سامنے نہیں جاسکتا۔دوسرے بیٹے نے اپنے آپکو گھر میں بند کر لیا وہ بیمار ہوکر مر گیا۔سنگا پور کے لیکانیو نے قانون کی بالادستی قائم کی تو اسکا دوست کرپشن میں پکڑا گیا۔اس نے خود کشی کر لی کہ اسے پتہ تھا میرا دوست اگرچہ سنگاپور کا حکمران ہے مگر مجھے معاف نہیں کرے گا۔آج سنگا پور کی فی کس آمدنی 60 ہزار ڈالر ہے۔عمران خان نے کہا کی آپ صلی الکہ علیہ وآلہ وسلم نے تعلیمی ایمرجنسی لگائی، مدینے کے بچوں کو قیدیوں سے تعلیم دلوائی۔صدیوں تک مسلم سائنسدانوں نے پوری علمی دنیا کو لیڈ کیا۔آپ نے مدینہ کو ایک فلاحی ریاست بنایا۔عمران خان نے اپنی تقریر کے اختتامی مرحلے ہر ایک بہت بڑا جملہ کہا” قومیں قربانیاں دیکر بنتی ہیں بھیک مانگ کر نہیں بنتیں۔”سلامت رہیں یہ قائدین اور سلامت رہے انکا یہ عشق رسول
طالب دعاء گلزار احمد نعیمی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں