91

پی ٹی آئی کا مارچ مرکز نگاہ

پی ٹی آئی کا مارچ مرکز نگاہ
پی ٹی آئی کے مارچ کے اعلان کے بعد پورے ملک میں اس پر بحث و تمحیص ہو رہی ہے۔ دوسری طرف حکومت اس سے نمٹنے کے لیے تیاریاں کر رہی ہے اور مختلف آپشنز پر غور بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے ابھی تک پاکستان تحریک انصاف کو اس مارچ کی اجازت نہیں دی ہے جو ممکنہ طور پر کشمیر ہائی وے پر منعقد ہوگا۔
اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران ریڈ زون کو بالکل سیل کر دیا جائے گا اور حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ کسی بھی طرح کا امن و امان کا مسئلہ نہ ہو۔ اس حوالے سے آج اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کا ایک اہم سکیورٹی اجلاس بھی ہوا جب کہ حکومت نے اپنے اتحادیوں سے صلاح مشورے کئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے لاہور میں بھی ایک اجلاس منعقد کیا۔
اجازت ملے یا نہ ملے مارچ ضرور ہوگا
پی ٹی آئی کے رہنما مسرت جمشید چیمہ کا کہنا ہے کہ حکومت اجازت ہمیں نہیں دے گی لیکن پھر بھی ہم اس کے لئے نکلیں گے کیونکہ یہ ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے۔ انہوں نے بتایا، “حکومت نے اس سے پہلے بھی ہمیں مختلف جلسوں کی اجازت نہیں دی۔ لاہور میں ہم ایوان اقبال میں پروگرام کر رہے تھے، تو ہمیں اجازت نہیں دی گئی۔ سیالکوٹ میں تو انتہائی گھٹیا حرکت کی گئی اور وہاں پر مذہبی کارڈ استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت اجازت دے یا نہ دے مارچ نکلے گا۔‘‘
مارچ دھرنے میں بدل سکتا ہے
پاکستان کے کئی حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ پی ٹی آئی اس پروگرام کو صرف مارچ تک محدود نہیں کرے گی بلکہ یہ مارچ دھرنے میں تبدیل ہو سکتا ہے جس سے عوام کے لئے بہت ساری مشکلات بڑھیں گے۔ تاہم پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت پر منحصر ہے کہ وہ کتنی جلدی ہمارے مطالبات کو مانتی ہے۔ مسرت چیمہ کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات نہیں مانے تو مارچ دھرنے میں بدل جائے گا، ” ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر الیکشن کی تاریخ دے اور الیکشن کمیشن کے حوالے سے جو ہمارے مطالبات ہیں ان کو تسلیم کرے۔ اگر ایسا نہ ہوا، تو پھر مطالبات کی منظوری تک دھرنا ہوگا۔
افراد کی تعداد
ناقدین کے خیال میں پی ٹی آئی بیس لاکھ افراد کی مطلوبہ تعداد کو کبھی بھی پورا نہیں کر سکے گی جس کا عمران خان نے اپنے جلسوں میں دعویٰ کیا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کا اصرار ہے کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے کونے کونے سے لوگ اس مارچ میں شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد آئیگی۔ مسرت چیمہ کا دعوی ہے” ممکنہ طور پر پنجاب سے دس سے پندرہ لاکھ لوگ آ سکتے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا اور ملک کے دوسرے علاقوں سے بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس مارچ میں شرکت کرے گی۔‘‘
ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے
حکومت کی طرف سے پاکستانی میڈیا میں اس طرح کی خبریں آرہی ہیں کہ حکومت پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی نگرانی کر رہی ہے اور کچھ رہنماوں کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ مسرت چیمہ کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے رہنماؤں کی گرفتاری ہوئی تو حکومت کو ہر طرح کے ردعمل کے لیے تیار رہنا چاہیے، “ہمارا مارچ ایک انقلابی عمل ہے اور انقلابی عمل میں تو لوگ اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کرتے، تو گرفتاریوں اور جیلوں کی کیا حیثیت ہے۔‘‘
پاکستان میں تمام مارچز کامیاب ہوئے ہیں
کچھ حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ شاید پی ٹی آئی مارچ کر کے چلی جائے گی اور وہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے گی۔ لیکن لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہاں مارچ اور لانگ مارچ ہمیشہ کامیاب ہی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا، “بے نظیر بھٹو نے نواز شریف کے خلاف لانگ مارچ کیا تھا اور وہ کامیابی سے ہمکنار ہوا جبکہ نواز شریف نے بے نظیر کے خلاف تحریک نجات شروع کی تھی اور اس کو بھی کامیابی ہوئی، بالکل اسی طرح نواز شریف نے پچھلی پی پی پی کی حکومت کے دوران افتخار چودھری کی بحالی کے لیے مارچ نکالا تھا اور ابھی مارچ منزل مقصود پر بھی نہیں پہنچا تھا کہ مطالبہ منظور کر لیا گیا تھا‘‘
حبیب اکرم کے مطابق جس طرح عمران خان نے بڑے بڑے جلسے کر کے حکومت کو اپنی عوامی قوت کا مظاہرہ دکھایا ہے اس سے اس بات کا امکان ہے کہ حکومت مطالبات کو تسلیم کر لے اور انتخابات کا اعلان کردیں۔‘‘
اسلام آباد کی قریبی علاقے اور مارچ
حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ اس مارچ میں اسلام آباد کے قریبی علاقے جیسے پشاور، صوابی، مانسہرہ، ایبٹ آباد، راولپنڈی ڈویژن اور آزاد کشمیر کا بڑا اہم کردار ہوگا کیوں کہ یہاں کہ لوگوں کے لئے جنوبی پنجاب، سندھ اور دوسرے علاقوں کی نسبت سفر اتنا لمبا نہیں ہوگا اور وہ آسانی سے واپس اپنے گھر جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان خود پشاور سے مارچ لائیں گے اس لئے خیبر پختونخوا سے اس مارچ میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے لیکن پنجاب میں ہونے والے جلسے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ پنجاب سے بھی ایک بڑی تعداد اس مارچ میں شرکت کریں۔
سخت ایکشن لیا جائے
حکومت جہاں اس بات پر تذبذب کا شکار ہے کہ آیا پی ٹی آئی کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے وہیں حکومت کی اہم اتحادی جے یو آئی ایف کا خیال ہے کہ حکومت کو پی ٹی آئی کے مارچ سے سختی سے نمٹنا چاہیے۔ پارٹی کے رہنما محمد جلال الدین ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ یہ مارچ آئی ایم ایف سے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لئے کیا جارہا ہے، انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”پہلے عمران خان نے معیشت کو تباہ کیا اور اب اگر حکومت اس کو آئی ایم ایف سے بات چیت کر کے بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تو یہ اس کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ حکومت کو اس کی بلیک میلنگ میں نہیں آنا چاہیے۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں