62

پی ٹی آئی کی 27 مارچ کو پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کرنے کی درخواست

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے 27 مارچ کو پریڈ گراونڈ میں جلسہ کرنے سے متعلق درخواست اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے پاس جمع کروادی ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے یہ جلسہ ڈی چوک میں کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اس درخواست پر غور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی طرف سے جگہ تبدیل کرنے کا فیصلہ لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اتنے زیادہ لوگ اس جلسے میں آئیں گے کہ ڈی چوک پر جگہ کم پڑ جانی تھی۔‘
ادھر حزب مخالف کی جماعتوں نے مارچ کو اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہوا ہے تاہم اس بارے میں پی ڈی ایم کی طرف سے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو ابھی تک کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔
دوسری جانب پاکستان کی سپریم کورٹ نے صدرِ مملکت کی جانب سے کسی سیاسی پارٹی سے منحرف اراکین کے ووٹ کی حیثیت جاننے کے لیے عدالتِ عظمیٰ کو بھیجے گئے ریفرنس پر لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس منیب اختر نے صدارتی ریفرنس کے حوالے سے سماعت کی۔ عدالت نے لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ 24 مارچ سے اس معاملے پر سماعت شروع کرے گا۔
اس موقعے پر عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ عدالت کے پاس پارلیمان کی کارروائی روکنے سے متعلق کوئی اختیارات نہیں ہیں۔
اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سارا قومی اسمبلی کا اندرونی معاملہ ہے اور بہتر ہوگا کہ اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے۔
انھوں نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ کسی بھی فریق کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت سے کہا کہ ’ہم نے او آئی سی کے احترام میں 23 کو ہونے والا جلسہ 27 مارچ تک ملتوی کیا ہے۔ یہ کہہ رہے ہیں کہ جو اراکین ووٹ ڈالنے جائیں وہ جھتے سے گزر کر جائیں گے اور آئیں گے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ‘جھتے سے گزر کر آنا جانا نہیں ہو سکتا، یہ ہم نہیں ہونے دیں گے۔‘
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ‘ڈی چوک سے جتنا دور حکومت رہے گی اتنا ہی ہم بھی رہیں گے۔‘
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ‘جو بھی احتجاج اور جلسے ہوں ضلعی انتظامیہ کی مشاورت سے ہوں۔ ایک جماعت جہاں جلسہ کر رہی ہو وہاں دوسری کو اجازت نہیں ہوگی۔ دونوں فریقین کے جلسوں کی ٹائمنگ الگ ہو تا کہ تصادم نہ ہو سکے۔‘
کسی کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کا کوئی سوال ریفرنس میں نہیں اٹھایا گیا: چیف جسٹس
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آئین کے آرٹیکل 63 اے سے متعلق کہا کہ کسی کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کا کوئی سوال ریفرنس میں نہیں اٹھایا گیا۔
عداالت نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر حکومتی اتحادیوں کو نوٹس نہیں کر رہے ہیں، تمام جماعتیں تحریری طور پر اپنا مؤقف دیں گی۔
چیف جسٹس کے مطابق ‘موجودہ حالات میں حکومت کا موقف بہت بہتر نظر آ رہا ہے۔ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر باقاعدہ کارروائی شروع ہونے سے قبل صدر عارف علوی نے پارٹی سے منحرف اراکین کے ووٹ کی حیثیت جاننے کے لیے پیر کی صبح سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجا تھا۔
یہ صدارتی ریفرنس وزیراعظم عمران خان کے مشورے پر بھیجا گیا، جس کی بنیاد تحریک انصاف کے سربراہ کی طرف سے ایسے 14 اراکین کو شوکاز نوٹس ہے، جس میں ان سے پارٹی سے انحراف سے متعلق وضاحت طلب کی گئی ہے۔
صدر عارف علوی نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’ریفرنس کچھ ممبران پارلیمنٹ کے انحراف کی خبروں، ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر فائل کیا گیا ہے۔‘
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے ان اراکین نے اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر عمران خان کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کا فیصلے پر ردعمل
سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسملبی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ عدالت سے ‘ہماری التجا تھی کہ (قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے) آئین اور قانون کی جو مدت تعین تھی اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ 25 مارچ کا مطلب یہ ہے کہ یہ اجلاس 14 دن بعد بلایا جا رہا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ سپیکر نے او آئی سی کی آڑ میں جو قانون شکنی کی ہے وہ معاملہ عدالت عظمیٰ کے پاس ہے، میں تبصرہ نہیں کروں گا۔
ان کے مطابق متحدہ اپوزیشن نے متفقہ طور پر کہا ہے کہ جو او آئی سی ممالک میں مہمان آ رہے ہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں۔ اس کانفرنس کے لیے ہم نے تو اپنا لانگ مارچ معطل کر دیا ہے۔ سپیکر نے جان بوجھ کر اجلاس نہیں بلایا اور ہمیشہ کوشش کی کہ وہ اپوزیشن کو ٹریپ کرے اور ہم او آئی سی کے حوالے سے کوئی ایسا رویہ اختیار کریں کہ حکومت کو موقع مل سکے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’ہم میں سے کسی جماعت نے عدالت سے رجوع نہیں کیا ہے، یہ وکلا بار نے کیا ہے۔ یہ حکومت اس عدم اعتماد اور اس الیکشن سے بھاگنا چاہ رہی ہے۔ پہلے انھوں نے عدم اعتماد پیش ہونے کے دو دن بعد پارلیمنٹ لاجز پر حملہ کر کے ڈرانے کی کوشش کی۔ پھر جب کچھ اراکین نے سندھ ہاؤس کو ترجیحح دی اور پھر سندھ ہاؤس اور ممبران کے خلاف مہم چلائی گئی۔ ان کے مطابق یہ دہشت پھیلانے کی ایک اور کوشش تھی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ’حکومت نے سپیکر سے آئین تڑوایا۔‘
بلاول بھٹو نے سپیکر کو مشورہ دیا کہ وہ وکلا سے مشاورت سے کام کیا کریں وگرنہ آئین کی خلاف ورزی آپ کو آرٹیکل چھ میں پھنسائے گی۔
انھوں نے کہا کہ بے شک سپریم کورٹ سیاسی معاملے میں مداخلت نہ کرے مگر امید یہ ہے کہ سپریم کورٹ آئین، قانون اور جمہوریت کی سائیڈ لے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں