144

پیٹرول بحران کی تحقیقاتی رپورٹ

وطن عزیز میں پیٹرول کا حالیہ بحران کوئی نئی بات نہیں، ملکی تاریخ میں بار ہا عوام الناس کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ موثر کارروائی نہ ہونے پر موقع پرست عناصر، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو کھلی چھٹی ملی۔ اگر شروع ہی میں ایسی صورتحال کا سخت نوٹس لیا جاتا، ذمہ داروں کا تعین ہوتا، مجرموں کو قرار واقعی سزائیں ملتیں تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں یکے بعد دیگرے آٹا، چینی اور پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ اپنی انتہا کو پہنچ گئی جس سے یہ بنیادی ضروریات عوام کو حتی الوسع کم قیمتوں پر فراہم کرنے کے حکومتی اقدامات بے نتیجہ ہوکر رہ گئے اور سبسڈی کی غرض سے خرچ کیے گئے اربوں روپے منافع خوروں اور بدعنوان سرکاری اہلکاروں کی جیبوں میں چلے گئے۔ اپریل اور مئی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے یکم جون کو پیٹرول کی قیمت مزید سات روپے کم کرنے کے حکومتی اعلان کے دو روز بعد ملک کے طول و عرض میں بیشتر پمپوں پر پیٹرول کی سپلائی بند کر دی گئی جس پر شہری مسلسل تیرہ روز شدید گرمی کے عالم میں سڑکوں پر پیٹرول کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے جبکہ اب بھی بعض جگہوں پر صورتحال میں بہتری نہیں آئی۔ اس دوران بہت سے مقامات پر بلیک اور کم مقدار میں شہریوں کو پیٹرول فراہم کرنے کی رپورٹیں بھی منظر عام پر آئیں، ٹرانسپورٹروں نے کرائے بڑھا کر مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا، بار برداری میں اضافے کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھیں جس سے عوام کی بے چینی میں اضافہ ہونا قدرتی امر ہے۔ منافع خوروں نے پیٹرول کی سپلائی بحال کرنے کے وزیراعظم کے احکامات بھی ہوا میں اڑا دیے جس پر پشاور ہائیکورٹ نے بھی صورتحال کانوٹس لیا اور وزیراعظم عمران خان نے خصوصی اعلیٰ سطحی اجلاس بلا کر معاملے کی انکوائری کرنے اور رپورٹ منظر عام پر لانے کااعلان کیا جو جمعرات کے روز انہیں پیش کر دی گئی۔ اس پر کارروائی کرتے ہوئے انہوں نے ملوث افراد کو گرفتار، کمپنیوں کے لائسنس معطل یا منسوخ کرنے اور ذخیرہ شدہ پیٹرول جبری طور پر مارکیٹ میں سپلائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں اوگرا نے پیٹرولیم ڈویژن کو بحران کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 9آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس تیل کا اسٹاک موجود تھا مگر دانستہ طور پر سپلائی روکی گئی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یکم جون کو جب پیٹرول کی قیمتوں میں مزید کمی کی جا رہی تھی، پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اوگرا کو ارسال کیے گئے خط میں متنبہ کیا گیا تھا کہ آئندہ یکم جولائی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے ممکنہ اضافے کا مالی فائدہ حاصل کرنے کیلئے ملک بھر میں پیٹرول پمپوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں کمی کی جا سکتی ہے جبکہ قواعد کے تحت تیل کمپنیاں اور ریفائنریاں اس بات کی پابند ہیں کہ کم از کم 21دن کا ذخیرہ رکھیں۔ ذرائع کے مطابق اس وقت ملک میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کا مجموعی اسٹاک اوسطاً گیارہ دن سے زیادہ کا نہیں تھا حالانکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں انتہائی کمی کے تناظر میں آئندہ دو سال کا ذخیرہ کرنے کے بھی حکومتی سطح پر مشورے ہو رہے تھے۔ دوسری طرف حکومت نے قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام کو پہنچانے کیلئے مجموعی طور پر پیٹرول کے نرخ 41اعشاریہ 54روپے کم کیے لیکن جب تک مارکیٹ سے پیٹرول غائب رہا عوام اپریل اور مئی میں دیے جانے والے ریلیف سے بھی محروم رہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے پیٹرول کے مصنوعی بحران میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں