53

پیٹرول ایک بار پھر مہنگا فی لیٹر 24 روپے کا اضافہ

پیٹرول ایک بار پھر مہنگا فی لیٹر 24 روپے کا اضافہ
حکومت کے اعلان کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 233.89 روپے، ڈیزل 263.31 روپے، مٹی کا تیل 211.43 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 207.47 روپے ہوجائے گی۔
حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا، جس کا اطلاق جمعرات (12 بجے کے بعد) سے ہو جائے گا۔
وزارت خزانہ کی طرف سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 233.89 روپے، ڈیزل 263.31 روپے، مٹی کا تیل 211.43 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 207.47 روپے ہوجائے گی۔
بدھ کی شب وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک کے ساتھ وفاقی دارلحکومت میں ایک پریس کانفرنس کی۔
مفتاح اسماعیل نے اعلان کیا کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 24.03 روپے اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ ڈیزل پر 59.16 روپے کا اضافہ ہوگا۔
عمران خان کی حکومت کو قصور وار ٹھراتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایسے معاہدے کیے گئے جو آنے والی حکومت کے لیے مشکل بن گئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اب اس حالت میں نہیں ہے کہ اس مد میں مزید نقصان برداشت کرے اور سبسڈی دے۔
وزیر خزانہ کے بقول: ’ مشکل فیصلے پہلے بھی کئے اب بھی کریں گے۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت کو اس مد میں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔‘
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ ’اس وقت ہم فی لیٹر پیٹرول پر 24 روپے تین پیسے جبکہ ڈیزل میں 67 روپے کا نقصان کر رہے ہیں۔ حکومت نے اس نقصان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
ان کے مطابق عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت 120 ڈالر فی لیٹر ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جان بوجھ کر پیٹرول کی قیمتیں کم کیں، اور اب عالمی مارکیٹ میں تیل، گندم اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
اس سے قبل، مئی کے آخر میں مفتاح اسماعیل نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے پیٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا، کیونکہ آئی ایم ایف نے پیٹرول کی قیمت بڑھانے تک ریلیف سے انکار کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا: ’سابقہ حکومت میں فروری تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہوا، اور پیٹرول کی قیمت کو فکسڈ رکھا گیا۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں