82

پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں: نئی حکومت کا سبسڈی کے خاتمے پر غور

وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں نئی حکومت پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں سرکاری اعانتیں ختم کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کا مقصد پاکستانی معیشت کو سہارا دیتے ہوئے توانائی کے نرخوں کی عالمی سطح پر اضافے سے ہم آہنگی ہے۔
پاکستان میں تیل اور گیس کی ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ اسے پیٹرول کی قیمتوں اور بجلی کے نرخوں میں عوام کو دی جانے والی سبسڈی ختم کر دینا چاہیے۔ اوگرا کی اس تجویز پر شہباز شریف حکومت میں اس وقت داخلی سطح پر مشاورت جاری ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کے سونامی کا پیش خیمہ
پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے جمعہ پندرہ اپریل کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق حال ہی میں پارلیمانی عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے محروم ہو جانے والے سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے اس سال فروری میں بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا تھا مگر یہ اقدام سرکاری خزانے کو کافی مہنگا پڑا تھا۔ اس وجہ سے ملکی خزانے پر 373 بلین روپے یا دو بلین ڈالر سے زائد کے برابر اضافی بوجھ پڑا تھا اور ریاست طویل المدتی بنیادوں پر ایسے مالیاتی فیصلوں کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔
مالی خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے دس فیصد تک
پاکستانی وزارت خزانہ کے سیکرٹری حامد یعقوب شیخ، جو ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مذاکرات میں بھی شامل رہے ہیں، کہتے ہیں کہ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں پبلک سبسڈی کا فیصلہ ریاست کے لیے مزید مالی خسارے کا سبب بنے گا۔ انہوں نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا، ”توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے ریلیف پیکج ایک ایسا اقدام ثابت ہو گا، جس کا پاکستان فی الحال متحمل نہیں ہو سکتا۔‘‘
حامد یعقوب شیخ کے مطابق، ”اس ریلیف پیکج کو یا تو منسوخ کرنا پڑے گا، یا پھر اس کی موجودگی میں دیگر ریاستی اخراجات میں اسی تناسب سے کمی کرنا ہو گی، تاکہ پاکستان اپنے لیے اس بنیادی مالیاتی توازن کے حصول کو یقینی بنا سکے، جس کا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے ساتھ پہلے ہی وعدہ کیا جا چکا ہے۔‘‘
تیل کی قیمتوں میں کمی کا دعوی مضحکہ خیز قرار
نئے وزیر اعظم شہباز شریف کے اعلیٰ ترین اقتصادی مشیر مفتاح اسماعیل ہیں، جن کے بارے میں توقع ہے کہ اپنی کابینہ کا اعلان کرتے ہوئے شہباز شریف انہیں ہی نیا ملکی وزیر خزانہ نامزد کریں گے۔ لیکن مفتاح اسماعیل کا بھی کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستانی بجٹ میں خسارے کی شرح مجموعی قومی پیداوار کے دس فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
شہباز شریف کی اقتصادی ٹیم سے مشاورت
وزیر اعظم شہباز شریف نے کل جمعرات چودہ اپریل کے روز ملکی معیشت کی موجودہ صورت حال اور توانائی کے شعبے میں حکومتی سبسڈی کے ممکنہ خاتمے کے بارے میں اپنے اقتصادی ماہرین کی ٹیم سے مشاورت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں